بچوں کی اسلامی تعلیم ایک لمحہء فکریہ

بچوں کی اسلامی تعلیم ایک لمحہء فکریہ

سویڈن کی ڈائری

ڈاکٹر عارف محمود کسانہ

اسٹاک ہوم

 

جنگ لندن کے مطابق ایک پاکستانی نثراد معروف قانون دان نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو  خود قرآن حکیم مفہوم کے ساتھ پڑھانا شروع کیا ہے ۔کیونکہ یہ نہ ہو کہ کوئی اور انہیں قرآن حکیم اپنی تشریح کے ساتھ پڑھا کر انتہا پسندی کی جانب مائل کر دے۔یہ واقعی بہت ہی اہم کاوش ہے اور اس کی مزید اہمیت میرے سامنے یوں آئی جب سویڈن میں  طویل عرصہ سے مقیم  میرے ایک دوست نے بتایا کہ انکا نوجوان بیٹا ایک اور پاکستانی کے ساتھ گھر سے بتائے بغیر شام چلا گیا ہے۔اور اس کے بقول وہاں جہاد میں حصہ لے گا۔اس کے ساتھ دو اور اس کے ساتھ مزید دو اور مسلمان دوست بھی ہیں جو اسی کی طرح سویڈن کے شہری ہیں۔یہ عربی یا کرد نثراد کے ہیں۔بہت ہی گلو گیر آواز میں ایک باپ اپنے بیٹے کے مذہبی شدت پسندوں کے راستے پہ چلنے کا بتا رہا تھا اور کہا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ کب وہ اس قدر آگے چلا گیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ جب مضطرب باپ کو پتہ چلا کہ بیٹا ترکی کے راستے شام گیا ہے تو وہ اس کے پیچھے اسے لینے بھی گیا مگر بے سود نو جوان کو نہ تو باپ کی التماس اور نہ ہی ممتا کی التجاء ہی واپس لا سکی۔یہ واقعہ نہ صرف یورپ بلکہ ہر جگہ پر رہنے والے والدین کے لیے لمحہء فکریہ ہے۔کہ وہ غم روزگار میں اپنی اولاد کی تربیت سے پہلو تہی نہ کریں اور دینی تعلیم اور قرآنی فکر سے روشناس کرانا بھی اپنا فرض سمجھیں۔انہیں جہاد اور قتال کا مفہوم اس طرح سمجھائیں کہ یہ اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں۔یہ ریاست کا فرض ہے ۔ کسی گروہ یا فرد واحد کا ایسا کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔دور رسالت یا خلافت راشد ہ  میںاس نوعیت کے فیصلے ریاست کرتی تھی۔کسی صحابی یا صحابہ نے کبھی ازخود تلوار نہیں اٹھائی تھی۔یورپ کی پر آسائش زندگی گزارنے والا ایک مسلمان عالمی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں اور ظلم کے خلاف پر جوش ہے۔مگر ان نو جوانوں کو درست ڈائریکشن دینے کی ضرورت ہے۔آج کی دنیا کے تقاضے اور قابل عمل طریقے بتانے کی ضرورت ہے۔فلسطین،کشمیر ،عراق،ایران اور افغانستان میں خون مسلم کی ارزانی ہے۔بہت سے مسلمان بھی بر سر پیکار ہیں۔مگر ہنوز کامیابی ممکن نہیں،کیوں ایک ہی وجہ ہے کہ مد مقابل علم اور ٹیکنالوجی میں آگے ہے۔جذبہ اپنی جگہ مگر بقول علامہ اقبال عصاء نہ ہو تو کلیمی بے کار بے بنیاد  اگر فلسطینیوں اور افغانوں کے پاس بھی وہی ٹیکنالوجی ہتھیار اور لڑاکاجہاز ہوتے تو کیا  دشمن قوتیںان کے سامنے ٹھہر سکتی تھیں۔ایک چھوٹا سا اسرائیل کس طاقت کے بل بوتے کروڑوں اربوں کے درمیان  ڈٹا ہوا ہے۔وہ طاقت اس کی یونیورسٹیاںہیں۔دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیوں میں تین اس کی ہیں۔بلکہ تمام عالم اسلام کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں۔غلبہ اسی کا ہے جس کے پاس تعلیم کی  طاقت ہے اور یہی قر آن حکیم نے بھی  کہا ہے کہ جاننے والا یا نہ جاننے والے برابر نہیں ہو سکتے۔سویڈن نوے لاکھ سے کم  آبادی کا ملک ہے مگر اس کی تین یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی ایک سو جامعات میں شامل ہیں۔سویڈن اپنے جی ڈی پی کا سات اعشاریہ سات فیصد حصہ تعلیم کی مد میںخرچ کرتا ہے جبکہ اسرائیل سات اعشاریہ پانچ فیصد حصہ جبکہ پاکستان ایک اعشاریہ تھ فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔پاکستان سے صرف چھ ممالک نیچے ہیں۔جن میںمتحدہ عرب امارات صرف ایک اعشاریہ چھہ فیصد خرچ کرتا ہے۔یو اے ای نے تاریخ سے سبق نہیںسیکھا۔عاد وثمود کی قومیںبڑے بڑے محلات بنوانے کے باوجود صفحہء ہستی سے مٹ گئیں۔اور مغل حکمرانوں کی طرح عرب بھی اپنے شوق پورے کر ر ہے ہیں۔تو انجام اس سے کیو  ںمختلف ہو  سکتاہے۔جب یورپ میںسائینسی تعلیم کا فروغ ہو رہا تھا تو مغل بھی اس وقت محلات اور مزارات بنانے کی بجائے تعلیم پر توجہ دیتے تو انہیں بھی زوال کی ذلت اٹھانی نہ پڑتی۔مسلمانوں نے ماضی میں جو فتوحات حاصل کیٰ ان میں بہتر حکمت عملی اور اس دور کی  ٹیکنالوجی کا استعمال تھا۔وہ چاہے غزوہء خندق کی فتح ہو یا کراچی ،دیبل، کی فتح  جس میں محمد بن قاسم نے منجنیق کا استعمال کیا۔ چاہے وہ قسطنتنیہ ،استنبول ہو جہاں سلطان محمد فاتح نے آگ کے گولوں کی ٹکنیک استعمال کی۔پھر بحری بیڑے کے استعمال سے وہ اس وقت کی سپر پاوربن گئے۔لیکن جب مسلمانوں میں علم و حکمت میں پستی و زوال آیا تو وہ کروڑوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود پستی میں چلے گئے۔پاکستان اور عالم اسلام کو چھوڑیے جو مسلمان یورپ میں آباد ہیں ان میں اعلیٰ تعلیم کہاں تک ہے۔یورپ میں تعلیم مفت ہونے کے باوجود ہماری نوجوان  نسل میں اعلیٰ  تعلیم یہاں کی اوسط شرح تعلیم سے کم ہے۔لیکن دوسری طرف جرائم میں کافی زیادہ ہیں۔ جس طرح افتخار قیصر نے جیو ٹی وی کے جنگ فورم میں نشاندہی کی ہے۔جذباتیت سے نکل کر قابل عمل اور درست راہ کی نشاندہی اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔غیر مسلم دن رات تعلیم و تحقیق کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ہم لوگوں کو کبھی روٹی پرمحمد لکھا نظر آ رہا ہے تو کبھی بادلوں پر اللہ لکھا  دکھائی دے رہا ہے، جیسی بے معنی دلیلیں پیش کر رہے ہیں ۔جو نہ تو حضورۖ نے پیش کیں اور نہ صحابہ نے۔تعلیم اور صرف تعلیم جس کی جانب جیو ہر روز کئی بار توجہ دلاتا ہے۔ہمیں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔عالم اسلام اور حکومتیں کریں نہ کریں ہر گھر اور گھر انے کو  یہ عہد کرنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو  دورجدید کی  ا علیٰ تعلیم دلوانی ہے۔ہمیں بہترین ڈاکٹر ،سائینسدان اور انجینیر پیدا کرنے ہیں۔ہزاروں مجاہدین بھی وہ کام نہیں کر سکے جو پاکستان کیے ایٹمی سائینسدانوں نے کیا۔دینی رہنمائوں کو نوجوانوں میں جدید تعلیم اور اعلیی ٹیکنالوجی کے حصول  کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔۔ان کے سینوں میں موجزن طوفانوں کا رخ موڑنا چاہیے۔ان میں اعلیٰ تعلیم کا جنون پیدا کرنا چاہیے۔یہی اصل جہاد ہے اور یہی  ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں