تحریر گل بہار بانو ضلع جہلم
گزشتہ سے پیوستہ
آمنہ نے پوچھا دادی بجلی تو ہوتی نہیںتھی پھر آپ لوگ رات کا کھانا کیسے کھاتے تھے
[08:47, 30.12.2025] Guul Bahar Bano:
آمنہ نے پوچھا دادی بجلی تو ہوتی نہیں تھی پھر آپ کیسے سوتے تھے رات کو کھانا کیسے کھاتے تھے ؟
دادی آمنہ کو پیار کرتے ہوئے بولی ہم رات کا اندھیرا ہونے سے پہلے مغرب کی اذان کے وقت ہی رات کا کھانا کھا لیتے تھے۔ اور رات کو ہم نے کیا کام کرنا ہوتا تھا ۔میرے بھائی اور ہم بہنیں مل کر رات کو پانی کا مٹکا، ہاتھ والی پکھیاں، چار پائیاں، چھت پر لے جاتے تھے۔ پہلے زمانے میں بنیرے (منڈیر) نہیں ہوتے تھے .آمنہ بولی یہ (منڈیر) کیا ہوتے ہیں ۔دادی بولیں یہ چھتوں پر تم لوگوں نے دیواریں بنائی ہوئی ہیں نہ انہیں پردے کہتے ہیں ۔ انکو ہی منڈیر کہا جاتا ہے پر یہ اس دور میں نہیں ہوتے تھے ۔سب کے چھت ایک ساتھ ملے ہوئے ہوتے تھے۔ نہ ٹیپ ریکارڈر ،نہ ٹی وی، نہ موبائل کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ لوگ چھتوں پر رات کو سوتے تھے ۔سب کی عزت سانجھی ہوا کرتی تھی۔ اور تو اور لوگ صحت مند ہوتے تھے۔ ہمیں تو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا ۔کہ درد کیا ہوتا ہے ۔نہ کبھی ہم نے دوائی دیکھی۔ جب سر میں درد ہوتی تو …
شادی والے گھر تمام عورتیں مل کر شادی کا کھانا بناتیں۔ اسی طرح اگر کوئی فوت ہو جاتا تب بھی مل کر یہی رسومات اپنائی جاتیں۔ مگر افسوس آج کسی کو کسی کی پرواہ نہیں۔ اگر کوئی شادی ہو جائے تب بھی لوگوں کو نہیں پتہ ہوتا
اور اگر وفات پا جائے تو تب بھی یہی حالات ۔ سمیرا اور اس کی کزنوں کو یہ تمام باتیں بڑی دلچسپ لگی اور وہ یہ سوچنے لگی کہ یہ نئے دور کی آخری گزری ہوئی سادہ نسل کے لوگ ہیں ۔جنہوں نے انتہائی سادہ زندگی گزاری نہ آسائشیں تھیں نہ بڑی بڑی خواہشیں پر زندگی پرسکون تھی۔ آج جتنا ڈیجیٹل دور آگیا اتنا ہی زندگی میں بے سکونی سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہم لوگ خواہشوں کے پیچھے بھاگ رہے اور اپنے اصل سے کوسوں دور۔۔۔۔۔
سمیرا نے کہا کہ دادی اپنی دور کا کوئی واقعہ تو سنائیں یا کوئی قصہ .۔۔۔۔۔۔
تب دادی اماں نے بتایا کہ ان کے زمانے میں سادگی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کا خیال رکھنا سب سے بڑی دولت تھی۔ ایک بار گاؤں میں شدید گرمی پڑی اور پانی کی کمی ہو گئی۔ دادی اور ان کی سہلیاں روزانہ دریا سے پانی بھر کر لاتی تھیں۔ ان کی ایک سہیلی رقیہ بیمار پڑ گئی اور اس کے گھر پانی ختم ہو گیا ۔سب دوستیں پریشان تھیں۔ کیونکہ اتنی دور سے پانی لانا بڑا مشکل ہوتا تھا ۔اور ہر گھر کو مشکل سے پانی مل رہا تھا ۔ایسے میں دادی کی دوست آسیہ نے اپنا جمع کیا ہوا پانی رقیہ کو دے دیا۔ حالانکہ اس کے اپنے گھر میں پانی بہت کم تھا ۔جب دادی نے آسیہ سے کہا کے تم نے یہ کیوں کیا، تو اس نے مسکرا کر جواب دیا اگر میں اج اپنی سہیلی کا سہارا نہ بنی تو دوستی کس کام کی۔
اور اسی طرح ایک دفعہ ان کی ایک دوست بی بی طالحہ کے ابو فوت ہو گئے تھے ۔تو اس کا کوئی بھائی نہیں تھا ۔اور وہ دو بہنیں تھیں۔ اس کی والدہ عدت میں تھیں۔ دادی اور ان کی دوستوں نے اس کی بہت مدد کی دادی اپنے گھر سے روزانہ بکری کا دودھ اس کے گھر لے جاتی۔ اور دوسری دوستوں نے بھی اس کی بہت مدد کی اور پھر گاؤں کی سبھی لوگوں نے بھی بی بی طالحہ کے خاندان کی بہت امداد کی۔
دادی اماں کہتی ہیں ۔کہ ایثار وہ دولت ہے جو بانٹنے سے بڑھتی ہے اس واقعے سے ایثار کا سبق ملتا ہے۔
جاری ہے……

Purana zamana haqeqat mn sadagi ka door tha.sakoon tha khusian the .log aik dosry se muhabat krty thy .Dil MN khalos tha