برف پوش وادیوں میں خون کی ہولی

برف پوش وادیوں میں خون کی ہولی
کالم نگار شاہد جمیل
اوسلو
گذشتہ ہفتہ اور اتوار کی شب رات گیارہ بجے کے قریب نانگا پربت دیا میر کے مغربی بیس پر دس سے بارہ دہشت گردوں نے دنیا کے مختلف کوہ پیمائوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
دراصل یہ پاکستان کی سا لمیت پر حملہ تھا۔جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ان کوہ پیمائوں نے دنیا بھر میں ان برف پوش وادیوں کے مناظر اور قصے مشہور کرنے تھے۔لیکن اب صرف خون میں نہائی ہوئی لاشیں پہنچیں گی۔جو نہائیت خوفناک اور بھیانک تصویر پیش کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
نانگا پربت کی یہ وادیاں دنیا بھر میں ٹریکنگ کے لیے ایک خاص مقام رکھتے ہیں چودہ کلو میٹر کے علاقے میں یہاں آٹھ بڑے پہاڑی سلسلے کسی خاص تعارف کے محتاج نہیں۔دنیا بھر میں اس مقام کو سیاحت میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ سیاح اور کوہ پیماء ہر سال ان پہاڑی سلسلوں کو سر کرنے پاکستان آتے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردوں نے ہر جگہ حادثات کیے ہیں۔لیکن یہ علاقے کچھ محفوظ سمجھے جاتے تھے جو اب نہیں رہے۔یہاں دہشت گردوں کا پہنچ کر کاروائی کرنا بہت مشکل کام تھا۔جو عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔لیکن ان دہشت گردوں نے ان علاقوں میں خون کی ہولی کھیل کر پاکستان کا نام بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔اب کوئی سیاح ان علاقوں میں اتنی آسانی سے نہیں آئے گا۔جو کہ نہائیت افسوس کی بات ہے۔یہ سیاح جو چین ،یو کرائن اور نیپال سے تعلق رکھتے تھے۔جن کی لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے اور انہی مقامات سے تقریباً چالیس ہزار سے ذیادہ سیاح افرد کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
افواج پاکستان اس واقعہ کے فوراً بعد تحقیق کررہی ہیں۔چار مختلف ہیلی کاپٹروں سے علاقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔اور ٹرینڈ تربیت یافتہ کتے جو کہ سراغ رسانی میں خاصی مہارت رکھتے ہیںاستعمال کیے جا رہے ہیں۔اس سلسلے میں قریبی گائوں سے چالیس سے ذیادہ مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ان دہشت گردوں نے گلگت اسکائوٹ کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔اور چہروں پر نقاب تھے۔جو یقیناً مقامی افراد کی مدد سے اس بیس کیمپ میں آئے تھے۔جن کی ذمہ داری تحریک طالبانکے امیر احسان اللہ احسان نے قبول کر لی ہے۔
اس بیس کیمپ میں پہنچنے کے لیے چار مختلف راستے اپنائے جا سکتے ہیں۔جن میں کشمیر اسٹاپ،مانسہرہ،گلگت اور سندھ کے ساتھ سوات کے علاقے قابل غور ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ سوات کے علاقے سے دریاے سندھ کو عبور کر کے یہ دہشت گرد یہاں پہنچے ہوں گے۔
مجھے ذاتی طور پر اس حادثے کا دلی افسوس ہوا ہے۔جس کی تلافی ہر گز نہیں ہو سکتی۔اور جس کی مذمت کیلیے یہ کالم لکھا گیا ہے۔
شاہد جمیل
26.06.13

اپنا تبصرہ بھیجیں