Warning: Undefined array key "geoplugin_countryName" in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96

ا ب تک بھٹکتا پھرتا ہے صحرا کی گرد میں


؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
تحریر، ، ناصر عباس ناصر ماڑی شہر میانوالی
nasir03335946714yahoo.com
ضلع میانوالی کے سیاستدانوں کو شمار کرنا ۔۔ آسمان پر ستاروں کو شمار کرنے کے مترادف ہے ۔ کچھ اچھے اور مخلص سیاستدان بھی موجود ہیں
اگرسارے سیاستدان میانوالی کے ساتھ مخلص ہوتے تو آج میانوالی پاکستان کا دوبئی یا پیرس ہوتا۔۔۔شومئی قسمت کہ۔۔۔۔ہر دور میں ،ہمیشہ میانوالی کا استحصال ہوتا آرہا ہے۔۔آخر کیوں؟۔۔۔کیا میانوالی میں باہنر، با صلاحیت ، پڑھے لکھے،با شعور افراد کی کمی ہے یا ترقی کے لئے وسائل نہیںہیں؟۔۔نہیں نہیں ۔۔غلط۔۔یہاں ہر قسم کی صلاحیت ، شعور، ہنر،وسائل ، معدنیات کی فراوانی گویا ہر وہ چیز موجود ہے جو علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے ضروری ہے۔۔اس کے با وجود میانوالی ،بھکرکے مقابلے میں بہت پسماندہ ہے۔۔بھکر،جو کبھی ضلع میانوالی کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔۔آج اگر ضلع بھکر اور میانوالی کا موازنہ کیا جائے تو۔۔وہاں سکولز ،کالجز ،ہسپتال روز گار کے مواقع دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں ، ۔۔ جبکہ یہاں تعلیمی نظام افسوس ناک،سکولوں کی خستہ حالی، ٹیچرز کی کمی اور محکمہ ء تعلیم کی سست روی، ،ہسپتالوں میں گندگی کے انبار،سرکاری ادویات کی اونے پونے فروخت ،مریض ذلیل و خوار،سرکاری ہسپتالوں کی بجائے پرائیوٹ کلینکوں پرعلاج کرانے پر مجبور،روزگار نہ ہونے کے برابر۔ ایک دور ایسا تھا کہ جب میانوالی میں خدوزئی (تحصیل عیسیٰ خیل )کے مقام پرسٹیل مل کے قیام کامنصوبہ تیار ہو چکا تھا۔۔ مگر ۔ نامعلوم وجوہات کی بنا ء پر اس ترقی کے اہم منصوبے کو کراچی لے جانا پڑا جس کی وجہ سے ہمیں روز گار کے مواقع نہ مل سکے، اب یہاں سے خام مال دوسرے شہروں کے کارخانوں ، فیکٹریز کو بھیجا جا رہا ہے۔۔ ہر قسم کی معدنیات کو بروئے کار لا تے ہوئے یہاں ہر قسم کے کارخانے، فیکٹریز ، ملز، لگا کر میانوالی کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا جا سکتا تھا ۔ لیکن یہ سب کچھ کون کرتا ۔یا ۔کون کرے؟۔۔ توجہ سے محروم ضلع میانوالی کے نوجوانوں کیلئے ذرائع ِمصروفیات نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اکژ نوجوان بغل میں ککڑ،شانے پر دو نالی بندوق، تھانہ ،کچہری، خاندانی دشمنیاں،قتل و غارت ، گویامنفی کاموں کی طرف مائل ہورہے ہیں ۔کیا میانوالی کے نوجوان ترقی نہیں چاہتے ؟۔۔چاہتے ہیں مگر ان کو مواقع نہیں ملتے،،آج اگر پاکستان، دنیا سے پچاس سال پیچھے ہے تو میانوالی ،پاکستان سے پچاس سال پیچھے ہے۔۔1901ء میں بننے والا ضلع میانوالی ، پہلے ضلع بنوں کی تحصیل اور صوبہ سرحد ( خیبر پختون خوان )کا علاقہ تھا بعدازاں اس کو صوبہ پنجاب میں شامل کر لیا گیا۔۔اب میانوالی کی 56 یونین کونسلزہیں۔۔14تحصیل پپلاں، 14عیسیٰ خیل جبکہ 28یونین کونسلز تحصیل میانوالی میں شامل ہیں ۔۔ صوبائی اسمبلی+قومی اسمبلی کیلئے ہر ا لیکشن میں ہمارے 6 نمائندے منتخب ہوتے ہیں۔۔ ضلع میانوالی صوبہ پنجاب کا ایک ایسا ضلع ہے جہاں معدنیاتی اور دیگر وسائل کی فراوانی ہے ۔۔ہمارے منتخب نمائندے اگر اپنے اپنے حلقے میں رہائش پذیر ہوتے تو ان کو عوامی مسائل اور ترقیاتی وسائل
کا بخوبی اندازہ ہوتا۔۔۔۔ علم و آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے میانوالی مسائلستان بنتا جا رہا ہے۔۔۔پاکستان کی ترقی کا ضا من اور انتہائی اہم منصوبہ کالاباغ ڈیم جو ضلع میانوالی کی تحصیل میانوالی کی آخری یونین کونسل ماڑی انڈس نمبر28 کے علاقہ پیر پیہائی کے مقام پر 1985ء کے بعد زیرِ التواء ہے۔۔۔اس اہم منصوبے کو غلط فہمیوں کی بھینٹ چڑھا کر نظر انداز کیاآ تا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے ہم بجلی ، روز گار ، ترقی سے محروم اور سیلابوں کی زد میں ہیں ۔۔علاوہ ازیں ۔ کالاباغ ریلوے پل کو برطانوی عہد 1928ء میں انڈیا کی ٹا ٹا کمپنی نے بطریقِ احسن تعیر کیا تھا۔۔اسکے درمیان میں نیرو گیج ( چھوٹی ریل پٹڑی )بچھائی گئی ۔۔ محبت علی کبیال نامی ریلوے ڈرئیورنے اس پل سے ریلوے انجن گزار کر افتتاح کیا تھا۔۔ اور اس پل کی گارنٹی 1982ء رکھی گئی ۔۔ تب سے اب تک۔۔۔۔۔ ۔ کالاباغ ریلوے پل کی خستہ حالی کو 30 سال کا عرصہ ہوچکاہے۔۔جگہ جگہ لکڑی کے پھٹے دریا برد ہونے کی وجہ سے بڑے بڑے ختان ہوگئے ہیں۔۔ کئی افراد اس پل سے گزرتے ہوئے لقمہء اجل بنے ۔۔گویا ہر لحاظ سے بے پناہ نقصانات کے انبار لگ چکے ہیں۔۔اور نقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔۔بات پھر وہی ۔۔ مگر پھر مگر کہ ۔۔ مگر آج تک ہمارے کسی حکمران ، سیاست دان نے ۔ کالاباغ ریلوے پل کی تعمیر و مرمت کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی۔۔ البتہ بلند وبانگ دعوؤں ،وعدوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سال کے آ غاز پر جنوری ، فروری، مارچ اپریل، مئی جون ، جولائی وغیرہ میں سے کوئی مہینہ منتخب کر کے تعمیر کا اعلان اور تخمینہ بتا دیا جاتا ہے
محترم قارئین کرام! دنیا چاند و مریخ پر پہنچ گئی ۔۔۔ اور ۔۔ہم گلیوں کی تعمیر ، نالیوں کی صفائی نہ کرا سکے ،، غلطی سے کہیں کوئی سڑک تعمیر ہو بھی جائے تو سیاستدان، اس کو بہت بڑا کارنامہ تصور کرتے ہوئے اخبارات کے ذریعے دعوے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔ایک کہتا ہے کہ یہ کارنامہ میں نے سرانجام دیا ہے جبکہ دوسرا اس کی تردید کر دیتا ہے ۔۔۔۔ آج ایک مرتبہ پھر میانوالی کے روشن مستقبل کے ضامن۔ عوامی امنگوں کے ترجمان میانوالی کے نام نہاد بے باک سیاستدان اقتدار کی کرسی تک رسائی کے لئے سر گرم ِ عمل ہیں ۔میانوالی میں بجلی پیدا ہورہی ہے، فروانی کے ساتھ ہو رہی ہے، دوسرے شہروں کو منتقل کی جارہی ہے اور ہمارے منتخب نمائندے ، بڑے بڑے لیڈر ، سیاست دان اس طرف توجہ دینے سے قاصر ہیں ۔ ووٹ کے بدلے میں شدید لوڈشیڈنگ ۔ میانو الی کا مقدر بن چکی ہے او عوام کے لئے لمحہ ء فکریہ ہے۔ عوا م کو چاہیے جب آپ کے پاس قوم کے خیر خواہ وو ٹ مانگنے ّآئیں تو ان سے پوچھیں ، اپنی پسماندگی کے اسباب کے بارے میں سوال کر یں؟ آخر میں تما م تر صورت کے پیشِ نظر راقم یہاں اپنا یہ شعر رقم کرنے پر مجبور ہے۔۔ کہ قافلہء میانوالی۔۔۔۔۔۔
ا ب تک بھٹکتا پھرتا ہے صحرا کی گرد میں
اس قافلے میں کوئی میرِ کارواں نہ تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں