ایک بے مثال ادبی شخصیت مسرت افتخار ہاشمی سے گفتگو

ایک بے مثال ادبی شخصیت مسرت افتخار ہاشمی سے گفتگو

مجھے مسرت آپی سے ملے کچھ ذیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن ان کی سچی محبت پیار اور خلوص سے گندھی پر کشش اور محبت بھری شخصیت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ایک ایسی سوسائٹی ارمعاشرے میں رہتے ہوئے جہاں کسی کے پاس دولت حسن اور قابلیت جیسی انمول صفتیں موجود ہوں تو کوئی کسی دوسرے کو اپنے برابر سمجھنا تو دور کی بات ہے بغیر مطلب کے بات کرنا پسند نہیں کرتا ایسے میں مسرت آپی جیسی پر خلوص اور سادہ طبیعت کی مالک شخصیت ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔مسرت افتخار ایک ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں آپ بیک وقت ایک ادبی شخصیت ،بزنس وومن اور نہائیت شفیق خاتون ہیں۔ہر موضوع پر ان کے پاس معلومات کا ایک ذخیرہ ہے۔انکی روحانی اور ادبی اپروچ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ انہیں ہیرہ کہا جائے یا سیپ میں چھپا موتی ہمیں فخر ہے کہ مسرت افتخار جیسی قابل اور لائق خاتون کی تحریریں ہماری سائٹ کی زینت بنتی ہیںآج ان سے آپکی ملاقات بھی ہو جائے گی جسے تخلیق سے شغف تو ہے مگر شہرت کا شوق نہیں ،دولتمند ہونے کے باوجود نمود کا شوق نہیں اس پر یہ خوبی بھاری کہ اتنا کچھ ہونے پر بھی غرور نام کو نہیں۔

آج اپنے قارئین کے لیے ان سے کی گئی قیمتی گفتگو پیش خدمت ہے اپنی قیمتی رائے دینا نہ بھولیں۔

 

انٹر ویو شازیہ عندلیب

تعارف

میں ایک ایسے سیّد گھرانے میں پیدا ہوئی جس کے ننھال اور دودھیال دونوں گدی نشین تھے مگر مذہبی لقب اور تنگ نظری نہ تھی۔والدہ شیعہ اور والدہ سنی عقیدہ کے تھے ۔ میرے والد تعلیم کے معاملے میںسمجھوتہ نہ کرتے تھے اس لیے میں ایم اے ان کے ڈر سے کر گئی۔حالانکہ وہ سخت گیر نہ تھے۔ان  کا ایک فقرہ کہ اب آ پکو ذیادہ پڑہائی کی طرف توجہ دینی چاہیے ہمارے لیے یہ بہت بڑی بات ہو جاتی۔پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات تقابلی ادیان میں کیا اور مائوذے تنگ کے افکار ا سلام کی نظر میں کے موضوع پر تھیسس لکھا جس کو بعد میں کتابی شکل میں شائع کروایا۔بی اے میں رول آف آنر ملااور ضلع بھر میں تیسری پوزیشن تھی اور اسکالر شپ ملا۔۔مگر جس مضمون میں اسکالر شپ ملا وہ میں نے کبھی پڑھا ہی نہ تھا۔بی اے میں آ کر فارسی رکھ لی وہ بھی ایڈوانس کیونکہ میری ساری دوستوں کا گروپ اس میں آگیا اسلیے مجبوراً میں نے بھی وہ مضمون رکھاجو کبھی نہ پڑھا تھا۔اور پھر خوب رٹا لگایا دوستوں نے خوب مدد کی اور میری تمام دوستیں پاس ہو گئیں اور میرا اسکالر شپ آ گیا۔مگر میں ایم اے فارسی میں نہیں کر سکی تھی۔ناروے974  1  میں شادی ہو کر آئی۔شادی ارینجڈ تھی ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہ تھا۔اور اس زمانے میں محبت کا رواج بھی نہ تھا۔بلکہ اس زمانے میں محبت جرم کا درجہ رکھتی تھی۔اس لیے شادی کے لیے محبت کا نہ ہونا اضافی صفت سمجھی جاتی تھی۔لیکن ذہن میں ایک تصور یا خواہش تھی، آئیڈیل نہ تھا کہ پڑھا لکھا خوبصورت اونچا لمبا ایسا پر کشش انسان ہو جو جو مجھے گھر میں اٹھتا بیٹھتا اچھا لگے۔ساری زندگی آپ اس شخص کے ساتھ نہ گزار سکیںجو آپکو دیکھنے میں اچھا نہ لگے۔اگرچہ یہ بھی جانتی تھی اور مانتی ہوں کہ تقدیر قسمت، مقدر موجود     ہیں۔اور اللہ میاں کی انتہائی مشکور اور احسان مند ہوںکہ افتخار انتہائی خوش شکل اونچے لمبے اور انتہائی دلکش شخصیت کے مالک تھے۔انتہائی رونق والی باغ و بہار طبیعت تھی۔غرضیکہ ان میں وہ سب کچھ تھا جسکی وجہ سے  انکے ساتھ زندگی گزارنا اچھا نہیں بلکہ بہت اچھا لگا۔اور میرے تمام ملنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ افتخار نے مجھے انتہائی بگاڑا ہوا تھا۔

افتخار کے ساتھ یادگار لمحے

میری بیٹی فاطمہ

ناروے میں شادی کے ابتدائی برس فکر معاش اور جدو جہد معاش میں گزرے۔دونوں پڑھے لکھے تھے گو ناروے میں زبان کی وجہ سے ان پڑھ تھے۔مگر دس سال میں اللہ نے یہ کرم کیا کہ افتخار نے جس ریستوران میں کام شروع کیا وہ مالک بن گئے ااور             Pizza       Papas, salsa ریسٹورنٹ کی مختلف    branches     Sarsberg Fredrikstad
جیسے شہروں میں  بھی اور اوسلو  میں بھی کھولیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیسی کھانوں کا ریستوران ،کنگ جہانگیر ، جو بعد میں صرف افتخار کی سماجی سرگرمیوں کے لیے مخصوص ہو کے رہ گیا۔ پاکستان  سے آئے ہر مہمان،سرکاری، سیاسی سماجی مذہبی رہنماء ڈیلیگیشنز اور احباب اوسلو کے لیے دن بھر کے کاموں کے بعد کنگ جہانگیر ایک بیٹھک بن گئی  اور تمام سرگرمیوں کا مرکز بن گیااور مجھے یوں لگا کہ اگر شوہر اچھا ہو تو دنیا جنت بن جاتی ہے۔اگر شوہر پسند نہ ہو تو دنیا ہی عذاب بن جاتی ہے جو آپ دن رات اذیت میں گزارتے ہیں۔بیس سال افتخار کے ساتھ ہر لحاظ سے بھرپور گزارے ۔ہر لحاظ سے کبھی ان کی موجودگی میں دنیا کا علم نہ ہوا۔ایسا لگا میرے اور دنیا کے بیچ ان کا وجود اک پہاڑ اک دیوار تھی۔افتخار کے بعد دنیا بھی دیکھی لوگ بھی  دیکھے اور بہت سارا علم اور معلومات ہوئی۔تجربے ہوئے کتابوں میں جو پڑھا تھاوہ نالج تھاجو عملی گزارا وہ حقیت پر مبنی تجربے تھے۔وقت کا پلس اور مائینس پوائینٹ ہی ہے  کہ برا وقت بھی گزر ہی جاتا ہے۔میرا ایک بیٹا بلال اور ایک بیٹی فاطمہ ہے۔بیٹا میری کمزوری اور بیٹی میری طاقت ہے۔میں ایسے مانتی ہوں روپیہ ، پیسہ  دولت یہ سب اپنے لیے کماتے ہیںجس سے آپ نے زندگی گزارنی ہے۔مگر میرے نزدیک دنیا میں سب سے اچھی کمائی لوگوں کی محبت ہے۔یہ کمائی دولت سے مجھے بہتر لگی۔ادبی دنیا میں آمدزمانہ طالبعلمی سے ہی مجھے اپنے نوٹس اپنے الفاظ میں لکھنے کی عادت پڑی مجھے لگتا تھا اس طرح مجھے سمجھ بھی آ جاتی ہے اور مجھے یاد بھی رہتا ہے۔مگر میں واقعی لکھ سکتی ہوں اسکا انکشاف مجھ پر  تب ہوا  جب  میں نے روزنامہ جنگ میں ناروے کی ڈائری لکھنی شروع کی۔جب میں لکھنے لگتی تو الفاظ مجھ پر نازل ہونے لگتے۔جو بعد میں میں سوچتی کہ اگر میں سوچ کر لکھتی تو ایسا نہ لکھ پاتی۔اس کے علاوہ جب میں نے اپنی فیملی پر نگاہ ڈالی تو پتہ چلا میرے پر دادا غلام حیدر ہاشمی نے   1884  میں دو کتابیں لکھیں۔1 ۔ میراط لاخلا ق۔۔۔۔۔ فارسی زبان میں2  ۔ میرا ط العذاب۔۔۔۔۔ فارسی زبان میںپھر پتہ چلا ہمیں گجرات کا نظمیہ خاندان کہا جاتا ہے۔جس کی وجہ ادبی و شعری شہرت تھی۔میرے بڑے بھائی پر ویز سیّد مسعود ہاشمی جو شعبہء اردو گجرات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے  اور لاہور میں فائن آرٹس کے ڈپٹی ڈائیریکٹر تھے۔انہوں نے دس کتابیں لکھیں۔میرے بھائی سید نا  صر ہاشمی نے اردو پنجابی میں نو کتابیں لکھیں۔میرا آرمی والے بھائی سیّد عامر ہاشمی نے تین شعرو شاعری کی کتب لکھیں۔میرے سب سے چھوٹے بھائی فیصل ہاشمی  جس سے ناروے اور پاکستان واقف ہے انہوں ننے بھی تین کتابیں اور ایک کتاب نارویجن میں لکھی ہے۔جبکہ ایک انکا انٹر ویو بھی اس موضوع پر اردو فلک سے لیا جاچکا ہے جو جلد ہی منظر عام پہ آ جائے گا۔جب میں اپنے بھائیوں کو دیکھتی تو میری ہمت نہ پڑتی میں سوچتی میری خواہ منخواہ کی سبکی ہو جائے گی۔اس لیے شعرو شاعری کا تصور نہ کیا۔مگر لکھنے کے جراثیم مجھ میں ہیںاور انفکشن بھی ہے۔سو چند کتابیں ہیںمسافر نامہ، ناروے میں قیام کے مکمل  تجربات اور واقعات و تاریخ 2  ۔حادثات   محبت  ۔۔ محاذ محبت 3ْْ۔ اعتراف جرم ۔۔بے وفائی ایک فن
آئیڈیل شخصیت میریآ  ٔئیڈیل شخصیت حضرت بی بی خدیجہ ہیں۔ انکی تمام  مکمل زندگی میرے لیے مشعل راہ ہے۔گھریلو زندگی سے لے کر کاروباری زندگی تک۔اور حضرت بی بی فاطمہ سے مجھے پیار ہے۔اس لیے میری بیٹی کا نام فاطمہ ہے۔اور حضرت عائشہ سے ان کے کردار کی وجہ سے عقیدت ہے۔ان کے کردارکی فضیلت کے اظہار کے لئیے سورہ ء نور ہی کافی ہے۔کاروباری زندگیمجھے ایسا لگا ریستوران بزنس خواتین کی سرشت ہے۔گھر چلانا انتطام، کنٹرول،نظم و ضبط اور کھانا بنانا،  پیش کرنا یہ تمام باتیں ایک عورت میں قدرتی ہیں جس طرح ماں بننا، بیوی بننا اگر گھریلو بزنس میں عورت نمبر ایک  ہے تو کاروبار میں کیوں نہیں؟ مجھے ریستوران بزنس اپنی نیچر کے بہت قریب لگا

i enjoyed it !!!

قابل ذکر تاریخی ہستیوں سے ملاقات

بے نظیر انتہائی پر کشش خوبصورت اور مضبوط شخصیت کی مالک تھیں۔ایک عورت خوبصورت ہو اور وزیر اعظم کی بیٹی اور خود وزیر اعظم بھی ہو یہ قدرت کی وہ مہربانیاں ہیں جو کروڑوں اربوں میں کسی کو میسّر ہوتی ہیں۔اس پر انکی اس قدر مضبوط اور پر کشش شخصیت ہو کہ وہ پاکستان کی سب سے بڑی اور پاپولر پارٹی کی لیڈر ہوں۔ان کے سامنے بڑے بڑے پاکستانی رہنماء سردار اور وڈیرے سر جھکائے رہتے تھے۔وہ ایک ایسی عورت ہے جس نے پاکستان کے سرداروں پر راج کیا

 

جاری ہے

 

 

 

 

 

13 تبصرے “ایک بے مثال ادبی شخصیت مسرت افتخار ہاشمی سے گفتگو

  1. Wt a interview n ur feelings in words i lv ur rae about me ,thanks for ,men to kuch b NHi ko Peer ar seep ka moti banana ,karigar hi janta hota he uske hath men aie chees ki kia value, so men tab b kuch NHi karegari ka kamal he

  2. شازیہ جی نے تو حقیقت لکھی ہے باجی آپکے بارے میں ۔یہ حقیقت ہے باجی۔ہم سب آپ سے پار کرتے ہیں اور آپکی عزت کرتے ہیں۔
    غزالہ نسیم
    اوسلو

  3. beautiful article… great interview with great lady musarat appa …..bohat acha laga parh ke .. bohat achey se likha geya thanks for sharing shazia ji
    ..Farah

  4. Boht Khoob
    adabi shakhsiaat ke interview unki zindagi ke pehoon se agah ker dete hain jis se un ki tehrir parhtey huey samaj bhi aa jati hai….good effort

اپنا تبصرہ بھیجیں