اوسلو میں خورشید محمود قصوری اور جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کی تقاریر

اوسلو میں خورشید محمود قصوری اور جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کی تقاریر


رپورٹ نمائندہ خصوصی
جمعرات کی شام کو جناب جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے اور جناب خورشید محمودقصوری نے تحریک انصاف کی حمائیت میںبی بی کیو بارمیں پاکستانیوں سے خطاب کیا اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔یہ پروگرام رات آٹھ بجے سے شروع ہو کر رات گئے تک جاری رہا۔پروگرام کے اختتام میں شرکاء نے عشائیہ تناول کیا اور مہمانوں کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔
پروگرام کا آغاز میجر سید اظہر شاہ کی تلاوت سے کیا گیا۔اس کے بعدخورشید قصوری نے تقریر کی ۔تقریر کا متن یہ ہے۔عمران خان نے سیاست میں آنے سے پہلے بھی قومی مفاد کے کئی کام کیے ہیں جن میں کینسر ہسپتال کی تعمیر یونیورسٹی کی تعمیر اور ورلڈ کپ جیتنے جیسے کام شامل ہیں۔مجھے نواز شریف نے بھی دعوت دی اور زرداری نے بھی ڈائیریکٹ بلایا لیکن میں نے تحریک انصاف کو ہی ترجیح دی۔اگر اس وقت عوام نا امید ہو گئی تو یہ ملک تباہ ہو جائے گا۔اس وقت اسی نوے فیصد نوجوان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔عمران خان کی پرسنیلٹی میں نقائص بھی ہیں۔خان  صاحب مجھے خود کہہ  رہے تھے کہ میں فرشتہ نہیں۔عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی کچھ کر دکھایا ہے۔وہ بہترین لوگ لائے گا چاچے مامے نہیں لائے گا۔پاکستان میں کچھ ترقی بھی ہوئی ہے ۔جوڈیشری میں بہتری ہوئی ہے میڈیا کا کردار بہتر ہوا ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جوڈیشری ہائی الرٹ ہو گئی ہے اگر ادارے صحیح کام کریں تو جو ڈیشری کو بیچ میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔اب میڈیا پر بھی الزم تراشی ہو رہی ہے۔یہ مثبت ہے اب پہلے جیسے حالات نہیں رہے۔میرا یہ ایمان ہے کہ کسی کی بھی حکومت آ جائے اب پہلے جیسا کام نہیں ہو گا۔جوڈیشری کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔میڈیا آزاد ہے۔جوڈیشری کے ساتھ مل کرحالات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔اب پہلے جیسے حالات نہیں رہے جو پہلے ہو چکے ہیں۔
تقریر کے بعد جسٹس خلیل الرحمٰن اور خورشید قصوری نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔زرداری کے لوگوں پر حاوی ہو نے کے سوال پرمحمود قصوری نے کہا کہ وہ کوئی جادو گر نہیں جو سب پر ہاوی ہے بلکہ یہ اس کے حواری ہیں ان کا کام ہے۔ملتان کے علاقے میں حکومت کی مشینری سابق وزیر اعظم کے بیٹوں کو جتوانے کے لیے استعمال کی گئی۔حکومت نے لوگوں کو ملتان کے علاقے میں جنریٹر اور قیمتی اشیاء دیں لیکن پھر بھی انہیں ووٹ نہیں ملے۔
جسٹس خلیل الرحمٰن نے کہا کہ ناروے میں قانون کی حکومت ہے اسی لیے یہاں امن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں