انیلا مشتاق کی نارویجن معاشرے میں شادی کے مسئلہ پر اظہار خیال

کمپیوٹر سوفٹ ویر انجینیر انیلا مشتاق سے گفتگو

آجکل کے ترقی یافتہ دورمیں کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کیے بغیر آگے بڑھنے کا تصور بھی مشکل ہے۔اسکی اہمیت کے پیش نظر اب ٹیکنالوجی میں صرف لڑکے اور مرد حضرات ہی آگے نہیں بڑھ رہے بلکہ لڑکیاں بھی کمپیوٹر کی تعلیم میں مہارت حاصل کر رہی ہیں۔انیلا مشتاق کا شمار بھی انہی قابل لڑکیوں میں ہوتا ہے ۔انہوں نے information system management میں ماسٹرز کیا ہے۔ انیلا آجکل نارویجن ٹیلیفون کمپنی ٹیلینور میں بطور مینیجر کام کر رہی ہیں۔ انکے ذمے (International soft wear application system, managemet ) انٹرنیشنل سوفٹ ویر ایپلیکیشن سپورٹ سسٹم کا شعبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کمپیوٹر کی تعلیم برونائی یونیورسٹی لندن سے کی اس تین سالہ کورس کا جراء اوسلو میں ہی کیا گیا تھا۔
انیلا نے ناروے میں تحریک انصاف وومن لیگ کے لیے بھی بھرپور کام کیا ہے اور آجکل ایک ملٹی کلچرل آرگنائیزیشن میں مختلف پراجیکٹس پر کام بھی کر رہی ہیں۔ان کے فارغ اوقات کے مشاغل میںمیوزک سننا جم جانا ،اوردو انگلش اور نارویجن زبانوں میں کتابیں اور میگزین پڑھنا شامل ہیں۔انہوں نے جاب کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ چونکہ ایک انٹرنیشنل کمپنی ہے اس لیے یہاں انگلش زبان ی رابطہ زبان ہے۔اس کمپنی میں گلوبلائز کمیونٹی کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ٹیلینور کمپنی کے تحت دنیا کے مختلف ممالک میں اس کے کئی پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔ان میں ایک اوپن مائینڈ پروگرام ہے۔ اس کے تحت ذہنی طور پر کمزور یا کسی حد تک معذور لوگوں کو روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔اس کے تحت یہ کمپنی ایک متناسب نیٹ ورک فراہم کرتی ہے۔اس کے تحت ان کے اصول و ضوابط میں اینٹی کرپشن ، برابری کے اصول،چائلڈ لیبر کی نفی،اور مناسب رویئے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر مجھے چانس ملا تو میں گلوبل سطح پر اپنی کمیونٹی کے لیے ضرور کام کروں گی۔میں نے اوورسیز پاکستانی وومن نیٹ ورک ناروے میں بھی کام کیا ہے۔ اس میں پاکستانیوں کے مسائل مختصر ڈرامے کیے۔اس کے علاوہ فیشن شوز بھی کیے۔ اسکا مقصد پاکستانی کلچر کو متعارف کروانا تھا۔
ایک سوال ک جواب میں انیلا نے بتایا کہ اگر میں اس وقت پاکستان میں ہوتی تو میں اس قدر مطمئن نہ ہوتی۔میں پیدا تو یہاں ہوئی تھی لیکن میرے ماں باپ نے کچھ عرصہ وہاں تعلیم دلوائی۔جس کی وجہ سے میں اپنی زبان اور وہاں کے کلچر کے بارے میں سیکھ گئی۔ہم لوگ گھر میں اردو اور پنجابی دونوں زبانیں بولتے ہیں۔پاکستان جا کر ہم لوگوں نے مذہب کے بارے میں بھی سیکھا۔ویسے پاکستانی کلچر یہاں رہ کر بھی سیکھا جا سکتا ہے، لیکن پاکستان سے تعلق بھی ضروری ہے۔ اس لیے وہاں بھی ضرور جانا چاہیے۔
شادیوں ککے مسئلہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں لڑکیاںخود شادی کے بارے میں اچھا فیصلہ کر لیتی ہیں۔جبکہ لڑکے اکثر والدین کے دبائو میں آجاتے ہیں۔ اکثر مائیں پاکستان سے مشرقی لڑکیاں لے آتی ہیں۔ لڑکے والدین کی رضامندی کے لیے شادی تو کر لاتے ہیں مگر یہاں بھی انکی ایک گرل فرینڈ ہوتی ہے۔مائیں بھی اپنے بیٹوں کے لیے ایک ایسی آئیڈیل بہو ڈھونڈتی ہیں جس کے اوصاف کسی فلمی ہیروئن سے کم نہیں ہوتے۔انکاعمومی معیار یہ ہوتا ہے کہ لڑکی قد میں لمبی، عمر میں چھوٹی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو۔
پاکستان سے لائی جانے والے دولہوں ا ور دولہنوں کی شادیاں وہاں اور یہاں کے ماحول کے فرق کی وجہ سے کامیاب نہیں رہتیں۔دوسرے اکثر شادیاں ویزے کے لالچ کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔جبکہ یہاں پر ہونے والی شادیوں کی بھی کوئی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔اس کی وجہ لڑکے لڑکی میں قوت برداشت کی کمی ہے۔ یہی وجہ بیشتر طلاقوں کی بھی ہے۔جب ایک لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں تو ایک چھت کے نیچے رہنے کی وجہ سے انکی توقعات بڑھ جاتی ہیں۔اس کے علاوہ سسرالی رشتہ داروں کے رویے بھی بیشتر اوقات نامناسب ہوتے ہیں۔ناروے میں پاکستانیوں میں بڑہتی ہوئی علیحدگیوں کی شرح کو روکنے کے لیے کچھ اقدامات آرگنائیزیشنز کی سطح پر ہونے چاہیئں۔ان میں گفتگو کے فورم، اور ان موضوعات پر سیمینار منقعد کرنے چائیں۔ان میں نہ صرف لڑکے اور لڑکیاں شامل ہوں بلکہ والدین بھی آئیں۔آرگنائیزیشنز کے علاوہ یہ مساجد کے مولویوں اور علماء کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس سلسلے میں اقدامات کریں۔ لوگوں کو ایک شادی شدہ زندگی کے مسائل سے نبٹنے کے اسلامی حل بتائیں۔ انہیں میاں بیوی کے حقوق سسرال کی ذمہ داریاں ان سے برتائو، افہام و تفیہم کی ا ہمیت بتائیں۔ یہ بھی بتائیں کہ ایک بہو اور ایک داماد کے اوپر انکے والدین اور سسرالی خاندانوں کے کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں اکثر خواتین کو اپنے اسلامی اور نارویجن شہری کے حقوق کا علم نہیں۔ انہیں اسکا شعور دینا چاہیے تاکہ وہ ایک متوازن اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے والدین کو کہ رشتے ڈھونڈتے وقت صرف چھوٹی عمر کی لڑکی پر زور نہ دیں۔ کامیاب شادی شدہ زندگی کیلے چھوٹی لڑکی کا ہونا ضروری نہیں۔ اصل بات ہم مزاج ہونے کی ہے اگر لڑکے اور لڑکی کے مزاج ملتے ہیں توپھر لڑکی اگر لڑکے سے عمر میں کچھ بڑی بھی ہے تو والدین کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔یہ ہمارے معاشرے کے رائج کردہ اسٹینڈرڈ ہیں جو کہ نامناسب ہیں۔ سب سے بڑی مثال تو ہمارے پیارے نبی ۖ کی ہے جنہوں نے اپنی عمر سے بڑی خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے شادی کر کے ایک لازوال مثال قائم کی۔نارویجنز کو دیکھیں یہ تو بڑی عمر کی لڑکی کو بھی قبول کر لیتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ایک بچے کو بھی رکھ لیتے ہیں۔ اور نہیں تو نارویجن شہزادہ ہاکون کو ہی دیکھ لیں ۔جس نے میتا مارت کو ایک بچے سمیت قبول کر کے صرف اپنے دل کی ملکہ ہی نہیں بلکہ اسے مستقبل کی ملکہ بھی بنا دیا ہے۔
اسلام پر تو یہ لوگ چل رہے ہیں ہم لوگ نہیں ہمیں اپنے رویوں اور سوچ کی سمت کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سائنسی اور ٹیکنیکل تعلیم میں ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی سوچ کو بھی ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ یہیں میرا آج کا پیغام ہے پاکستانیوں کے نام۔

2 تبصرے “انیلا مشتاق کی نارویجن معاشرے میں شادی کے مسئلہ پر اظہار خیال

  1. Assalam u Alaikum
    Shadi aik Samaji aur deeni fariza hai.  log Deeni talimat se aagah na honey ki wajah se ise anjaam detey huey laperwahi barattey hain jis ke nataij baad mein bramad hotey hain…..Shadi mein Taakhiir bhi baad azan taklif ka bais banti hai… Hmein taleem o tarbiat ke zariye nojawano ko aagah karna chahiye ke unhein ghar ki zimmadariyan kese nibhana hain . jab aagahi aam hogi to masail hal ho jain ge……Nice Article 
    Thanks 
    Raja Muhammad Attique Afsa

  2. Ji Attique sahab ap ka khyal bilkul thik hai.
    iss interview mai Anila nai apnai khyalat ka izhar Norway k moashrai ko paish e nazar rakh kar kiya hai.
    Ap k pas is mozoo par kafi dlail hain Aap chahin to is maslai k hal par ek article hmain likh kar bhaij saktai hain.
    Thanks
    Editor urdufalak.com

اپنا تبصرہ بھیجیں