انڈیا میں ٹیلینور کمپنی

 

انڈیا میں ٹیلینور کمپنی
نارویجن وزیر برائے صنعت و تجارت ٹرونڈ گسکے نے  انڈیا کا دورہ کیا۔اس کا مقصد ٹیلینور کمپنی کے ذریعے انڈیا میں موبائیل کا کیریر محفوظ کرنا ہے۔گسکے نے  ٹیلینور کمپنی کے ایک سی ای او  CEO  جان فریڈرک کے ساتھ یہ  مشترکہ دورہ کیا۔انڈیا میں انہوں نے انڈین وزیر برائے مالیاتی امور پرناب مکھر جی اور وزیر برائے صنعت و حرفت آنند شرما سے ملاقات کی۔گسکے نے ایک گفتگو میں بتایا کہ ناروے کے ٹیلینور کمپنی میں باون فیصد شیئرز ہیں۔انہوں نے آفتن پوستن اخبار کو بتایا کہ یہ صرف سترہ ملین کرائون کی سرمایہ کاری کا معاملہ نہیں بلکہ بیالیس ملین انڈین کلائینٹس کا معاملہ بھی ہے۔جن سے ٹیلینور کو آمدنی کی توقع ہے۔
انڈین وزیر مکھر جی اس وقت کرپشن کیس میں ملوث ہیں۔ اس وجہ سے انڈین گورنمنٹ نے ایک سو بائیس موبائیل کمپنیوں کے لائیسنس منسوخ کر دیے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈین سبسڈی کی وجہ سے ٹیلینور کمپنی کو بھی بائیس لائیسنسوں کی منسوخی کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔نارویجن وزیر کی پوری کوشش تھی کہ پرانے لائیسنسوں کی منسوخی اور نئے لائیسنسوں کے اجراء کے درمیان کم سے کم وقفہ ہو ۔تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔انکا کہنا ہے کہ اگرایسا نہ ہوا تو ٹیلینور کمپنی کے لیے یہ بہت بڑا خسارہ ثابت ہو سکتا ہے۔اس طرح یہ کمپنی بیالیس ملین گاہکوں کو کھو دے گی۔
گسکے نے  ان لائیسنسوں کی کھلی مارکیٹ میں نیلامی پر فکر کا اظہار کیا ہے۔ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ سوموار کو نیلامی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں