امریکی صدر بارک اوبامہ 4ستمبر کو سویڈن دو روزہ دورہ پر


سٹاک ہوم(خصوصی رپورٹ عارف کسانہنمائندہ جنگ) امریکی صدر بارک اوبامہ 4ستمبر کو دو روزہ دورہ پر سویڈن پہنچ رہے ہیں ۔ اُن کے اس دورہ کے سیکورٹی کے حوالے سے جو انتظامات کیئے گئے ہیں اُن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی جس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سویڈش اخبار نے اسے اوبامہ کا سرکس قرار دیاہے۔ صدر اوبامہ کا خصوصی طیارہ ائیرفورس ون جب بدھ کے روز سٹاک ہوم کے بین الاقوامی ائیر پورٹ آرلانڈا پر اُترے گا تو اُس کی فضا دیگر طیاروں کی آمدورفت کے لیے بند کردی جائے گی۔ ہوائی اڈہ پر سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلڈ سویڈش پارلیمنٹ میں تین دیگر اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے ہمراہ صدر کا استقبال کریں گے جبکہ سویڈش وزیر اعظم فیڈرک رائین فیلڈ اُنہیں اپنے دفتر میں پہنچنے پر خوش آمدید کہیں گے۔ حکومت کی جانب سے عوام کو اپیل کی گئی ہے کہ امریکی صدر کے دو روزہ دورہ کے دوران عوام شہر کے اس علاقہ میں گاڑیوں پر نہ جائیں جہاں امریکی صدر کی مصروفیات ہوں گی۔ امریکی صدر نے جن جگہوں کا دورہ کرنا ہے اُن علاقوں کو ہر طرح کی ٹریفک کے لیے بند کردیا جائے گا اور سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ امریکی صدر کے لیے دو ایک جیسی گاڑیاں خصوصی طور پر امریکہ سے سویڈن لائی گئی ہیں اور اُن کی ذاتی سیکورٹی کے علاوہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہوگا کہ وہ کس گاڑی میں سفر کررہے ہیں۔ اُن کی گاڑی کیمیائی، حیاتیاتی اور دھماکہ خیز حملوں سے مکمل طور پر محفوظ بنائی گئی ہے۔ اُس میں اُن کے خون کے گروپ کا خون بھی اُس میںموجود ہوگا جبکہ گاڑی میں مکمل اندھیرے میں دیکھنے والے کیمرے او ر بوقت ِ ضرورت آگے آنسو گیس پھینکنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔ صدر کا قافلہ چالیس گاڑیوں پر مشتمل ہوگا جبکہ فضا میں پانچ ہیلی کاپڑ نگرانی کریں گے۔ سیکرٹ سروس کے 250اہلکار اپنے فرائض سر انجام دیں گے اور ساتھ ہی چھ ڈاکٹر بھی ہمراہ ہوں گے۔ امریکی صدر کے کھانے تیار کرنے کے لیے وہائیٹ ہاوس کے باورچی سویڈن آئے ہیں۔ ان انتظامات کے لیے 29 ٹرانسپورٹ تیارے استعمال کیے گئے ہیں۔ سٹاک ہوم شہر کے وسط میں واقع جس ہوٹل میں امریکی صدر کا قیام ہوگا اُس کی اطراف میں سخت سیکورٹی ہوگی اور اس علاقہ میں موجود تمام کوڑے دانوں کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ اپنی آمد کے بعد بدھ کے روز امریکی صدر سویڈن کی معروف انجنئیرنگ یونیورسٹی KTHرائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا دورہ کریں گے جہاں توانائی کے امور پر بریفنگ بھی شامل ہے۔وہ والن برگ فیملی کے افراد سے بھی ملاقات کریں گے۔ اُسی روز شام کوسویڈش وزیراعظم اُن کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے جس میں ناروے، ڈنمارک، آئیس لینڈ کے وزرائے اعظم اور فن لینڈ کے صدر بھی شرکت کریں گے۔ اپنے دورہ کے اگلے روز صدر اوبامہ سویڈن کے بادشاہ اور ملکہ سے شاہی محل میں ملاقات کریں گے اور اُسی روز وہ G20 میں شرکت کے لیے سینٹ پیٹرس برگ روانہ ہوجائیں گے۔
صدر اوبامہ کواپنے اس دورہ کے دوران اُن کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جو شام کے خلاف مجوزہ جنگ، ڈرون حملوں اور امریکی پالیسیوں کے خلاف ایک رد عمل ہے۔ اس سلسلہ میں ایک نیٹ ورک نے سویڈن کے مختلف شہروں جن میں اپسالا، گوتھن برگ، کارلسکورنا، جان شاپنگ، لند، اورے برو، سٹاک ہوم، اومیو اور دوسرے کئی شہر شامل ہیں وہاں4ستمبر کو سہ پہر کے بعد مظاہرے کئے جائیں گے۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا مظاہرہ سٹاک ہوم شہر میں مید بوریا پلاتس پر بدھ کے روز پانچ بجے کیا جائے گا۔ مظاہرین وہاں سے منٹ سکوائر تک مارچ کریں گے جو اُس ہوٹل کا قریبی علاقہ ہے جہاں امریکی صدر قیام کریں گے۔ دریں اثنا ویکی لیکس کے جولین اسنگے نے سویڈش پولیس کو صدر اوبامہ کے خلاف درخواست پر کاروائی کے کہا ہے جو بقول اُن کے 2010میں اسنگے کے تین کمپوٹروں کی چوری کے بارے میں ہے جو امریکیوں نے چرائے ہیں اور جن میں امریکی فوجیوں کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے ثبوت تھے۔ اسنگے کے مطابق سٹاک ہوم کے آرلانڈا ائیرپورٹ یا جرمنی کے شہر برلین کے ائیر پورٹ پر چرائے گئے تھے اور امریکی حکومت اور صدر اوبامہ اس کے ذمہ دار ہیں۔ امریکی صدر کے سویڈن کے اس دورہ کے اسکینڈے نیویا پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ تو آنے والے وقت ہی بتائے گا لیکن اس دورہ کی بازگشت سویڈش میڈیا میں کافی دیر تک سُنائی جاتی رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں