اقوام عالم میںہمارا کردار بطور ناکام قوم کیونکر ہے ؟

 

اقوام عالم میںہمارا کردار بطور ناکام قوم کیونکر ہے ؟

ہمارے ہاں نفع کو اپنا حق،فحاشی کو دور جدید کا تقاضا،قتل وغارت گری کو مجبوری کا نام دیا جاتا ہے

جب ہم اچھے انسان اور کامل مسلمان نہیں تو محب وطن کیسے ہو سکتے ہیں؟

رومانہ فاروق

:ایک مشہور مقولہ ہے کہ اگرتم نے دولت کھو دی تو کچھ نہیں کھویا ۔اگر تم نے صحت کھو دی تو کسی حد تک کھویا ۔ لیکن اگر تم نے کردار کھو دیا تو سب کچھ کھو دیا۔اسے پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ یہ کہاوت نہیں بلکہ ایسا کڑوا سچ ہے جسکی تلخی میں ڈوبے نشتر وقتا فوقتا پاکستانیوں کو گھائل کرتے رہتے ہیں۔کیونکہ آج من حیث المسلم قوم اقوام عالم میں ہمارے کردار سے ہماری جو پہچان اور مقام ہے و ہ شرمناک بھی ہے اور ذلت آمیز بھی۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟؟؟کیاہم کہ اچھے انسان ، مسلمان اور اچھے پاکستانی نہیں ؟؟؟ جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ رتبہ ومقام بنا نے میں کردار کی وہی اہمیت وحیثیت ہے جو انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی کی ہوتی ہے۔لیکن یہ تو ہم اسی وقت جان سکیں گے جب ہم لفظ کردار کے حقیقی معنی کو سمجھیں ۔جو مرکب ہے ہماری خوبیوں٫عادات٫نقوش اور وضع وقطع کا جو ہمیں منفرد اور نمایاں کرتا ہے۔اسی حوالے سے اگر ہم پہلے اپنا محاسبہ بحیثیت ایک انسان کریں۔ تو ہمارا سر ندامت سے جھک جانا چاہیے کہ آج انسانیت کی جسطرح تذلیل ہو رہی ہے اور اسے جسطرح مجروح کیا جا رہا ہے ۔اس پر بھی ہم انسان ہی جانے جا رہے ہیں۔عقل جس کی بدولت ہمیں اشرف ا لمخلوقات ہونے کا شرف ملااتنا زنگ آلود ہ کر چکے ہیںکہ اچھائی اور برائی کی تمیز نہیں رہی ۔بس گونگے ٫بہرے اور اندھے بنے انسانیت سوزی کے واقعات کوپردے پر چلنے والی فلم کی طرح دیکھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ یاد رہتا ہے تو صرف خود پسندی اور ذاتی مفاد۔ اس لیے کہ ہم سنگ دل ہو گئے ہیں پیارومحبت،دکھ وتکلیف ،عاجزی وانکساری اور ہمدردی کے احساسات وجذبات ہمارے لیے بے معنی اور بے وقعت ہو چکے ہیںجسکا منہ بولتا ثبوت بڑھتی ہوئی قتل وغارت گری ،زنا،خودکشی،حرام خوری،اغوا براے تاوان،چور بازاری ،فحاشی ، عدم تحفظ اور علم سے دوری ہے۔ یہاں تک کہ نعوذباللہ خود کو نا خدا سمجھنے لگے۔اور دن بدن یہ رویے ہمارے کردار کو کمزور سے کمزور سے کمزور تر کر کے ہمیں انسانیت سے حیوانیت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہم خدا وندتعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اس نے ہمیں پیدائشی مسلمان بنایا اور اس مذہب کا پیرو کار بنایاجو پوری دنیا کا عالمگیر مذہب ہے۔مگر اب یہ ہماری بد قسمتی اور بدنصیبی ہی تو ہے۔کہ مغرب کی اندھا دھندتقلیداور ہم میں تیزی سے پنپتے دیگر مذاہب کے ر سم و رواج نے ہمیں مذہب سے دور کر دیا ہے۔ اسی لیے تو اب ہم ایسے مسلمان بن گئے ہیں۔ جو جھوٹ کو ضرورت کا نام د یتے ہیں۔سود کو معاشی سہولت سمجھنے لگے۔اصولوں پر سودے بازی ہونے لگی۔اسلام کے نام پر دہشت گردی کروانے لگے۔نفع کو اپنا حق،فحاشی کو دور جدید کا تقاضا،قتل وغارت گری کو مجبوری،غیبت کو کامیابی کا زینہ،حصول علم کو بوجھ اور دیگر مذاہب کے رسم ورواج کو زند گی کی رنگینی سمجھتے ہیں۔ حقوق العباد اور حقوق اللہ کو کا لی سیاہی سے لکھے الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے۔یہاں تک کہ مادیت پرستی کی دوڑمیں سبقت لے جانے کا نشہ یہ بھی بھلا دیتا ہے کہ ان کے سینے میں دنیا کی مقدس ترین کتاب محفوظ ہے اور اس سرزمین پر موجود ہیںجہاںخالق کائنات کا گھر ہے۔حقیقت عیاں ہے کہ جب ہم اچھے انسان اور کامل مسلمان نہیں تو محب وطن کیسے ہو سکتے ہیں؟تاریخ کے اس نازک موڑ تک پہچانے والے ہم عوام و حکمران ہی تو ہیں۔۔ملک میں پھیلے تمام بیگاڑ کے جتنے ذمہ دارحکمران ہیں اُس سے کہیں زیادہ ذمہ ہم عوام ہیں۔ ہمارے عوام بہت باشعور ہیں لیکن حکمرانوں کے انتخاب کا جب وقت آتا ہے تو ایسے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے جونہ تو اسلامی اقدار کی قدر کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کے بنیاد حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمارے ہاں ایسے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے جو بنیادی مسائل کے حل میں ہمیشہ سے نکال چلے آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں انہی لوگوں کو اولیت دی جاتی ہے۔ اگر عوام باشعور ہے اور عوام سمجھتی ہے کہ اسلامی اور بنیادی ضروریات پوری نہیں ہورہیں تواپنا انتخاب درست کریں۔ کوئی بھی غلط کام جب طول پکڑتا ہے تو عوام دبے الفاظ میں اس پر احتجاج کرتے ہیںمگر اب وقت کے ساتھ ساتھ احتجاج میں بھی کمی آتی جارہی ہے۔ ہر شخص اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے اور بیگاڑ پیدا کرنیوالوں کو مکمل ڈھیل میسر آگئی جس سے معاشرہ مسائل گڑھ اور زندگی مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔جیسے ابتدا میں لکھا گیا کہ ”اگر تم نے کردار کھو دیا تو سب کچھ کھو دیا”۔ اپنا کردار درست کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ کردار درست کرنے کے ساتھ معاشرے میں پھیلے بیگاڑ کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار بھی ادا کرنا سب پر واجب ہوچکا ہے ۔کیونکہ کردار ایک تنا آور درخت ہے اور اسکا سایہ Reputation   کیونکہ جیسا درخت ہو گا  اس کا سایہ بھی ویسا ہی ہو گا۔ اسلیے جیسا ہمارا کردار ویسی شہرت۔عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت کی نہ نوری ہے نہ ناری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں