افغانستان میں ناروے کی خصوصی ذمہ داری

الینا امیری ایک پوسٹ میں لکھتی ہیں کہ افغان عورت اپنے حقوق کی جنگ تنہا نہیں لڑ سکتی اور ناروے کو اس جدو جہد میں انکی مدد کرنی چاہیے۔اس زمانہ میں خواتین کے حقوق کی جنگ ہمارے لیے سب سے اہم ہے۔معاشرتی اداروں سے طالبان نے خواتین کو نکال دیا ہے۔اب ہمیں اپنے حقوق اور اظہار رائے کی جنگ لڑنی ہے۔اب خواتین افغانستان میں سایہ بن کے رہ گئی ہیں۔
یہاں لڑکی کی حیثیت سے پیدا ہونا ایک مشکل چیلنج ہے انہیں اسکولوں میں پڑھنے سے روک دیا گیا ہے اور گھر سے باہر ملازمت کرنے سے بھی روکا ہیانہیں گھر کی چاردیواری میں بند کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ یہاں ذہنی صحت کی خرابی، خود کشی کی کوششوں، انسانی حقوق کی پامالی اور مالی بحرانوں میں بھی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے خواتین گھروں سے باہر نکل آئی ہیں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گی اور طالبان کی بات مان کر کم درجہ کی عورت کی نہیں بنیں گی۔
NTB/UFN

اپنا تبصرہ بھیجیں