اطہر علی نارویجن پاکستانی سیاست دان


انٹر ویو،نامہ نگار اردو فلک ڈاٹ کام
اطہر علی گزشتہ کئی برسوں سے ناروے میں مقیم ہیں۔ اطہر علی کا تعلق پاکستان کے ضلع گجرات سے ہے۔آپ نے اپنی تعلیم ناروے میں ہی مکمل کی۔ اطہر کے پاس سوشل ورک کی یونیورسٹی لیول کی ڈگری ہے۔انہوں نے سولہ برس تک ناروے میں سیاست میں حصہ لیا۔آجکل ،بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے، میں اسٹاف گروپ لیڈر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ان کے ساتھ پاکستانی بچوں اور پاکستانیوں کے بارے میں کی گئی گفتگو ملاحظہ کریں۔
اطہر علی نے ادارہ بچوں کی دیکھ بھال میں پاکستانی بچوں ی بڑی تعداد میں آنے کی وجوہات بتائیں ۔ ان کے مطابق پاکستانی والدین یہاں کے قوانین سے ناواقف ہیں۔ جس کی وجہ سے کئی بچے اس ادارے کی تحویل میں چلے جاتے ہیں۔نارویجن کلچر اور قانون کے مطابق بچوں کو مار پیٹ کی اجازت نہیں ہے۔زیادہ تر کیسز میں بچوں سے مار پیٹ اور تشدد کیا جاتاہے۔لیکن تمام والدین مار پیٹ نہیں کرتے اس کے علاوہ بھی کئی دوسری ذاتی وجوہات ہیں۔ان میں والدین کے مابین جھگڑے،ناکافی رہائش اور دوسرے مالی اورروزگار کے مسائل شامل ہیں۔جب والدین کے جھگڑے طول پکڑتے ہیں اور نتیجہ علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔پھر دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی بن جاتی ہے۔اس کا بچوں پر نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔والدین انکی تعلیم و تربیت پر توجہ نہیں دیتے۔یہاں ناروے میں پاکستان کی طرح فیملی نیٹ ورک نہیں ہے۔ پاکستان میں والدین کی علیحدگی یا کسی اور حادثہ کی صورت میں رشتہ دار اور احباب بچوں کی پرورش کا ذمہ لے لیتے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں بچوں کی پرورش کے اداروں کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔یہاں وہ خااندانی نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ پاکستانی بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری صرف نارویجن خاندان ہی کیوں کرتے ہیں،پاکستانی خاندان کیوں نہیں کرتے ؟ جبکہ ناروے میں ایک بڑی تعداد پاکستانی بے اولاد جوڑوں کی بھی ہے ۔ اظہر علی نے کہا کہ اکثر پاکستانی بے اولاد جوڑے دوسرے پاکستانی بچے گود لیتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں کوئی اپنا بچہ واپس نہ لے لے۔یا پھر کوئی دشمنی نہ بن جائے۔لیکن اس میں نارویجن حکام کی بھی غلطی ہے جو بچوں کی دیکھ بھال کا ادارہ چلاتے ہیں۔ صرف اخبار میں لے پالک بچوں کے لیے اشتہار دے دینا ہی کافی نہیں بلکہ پاکستانی والدین کو بھی اس طرف متوجہ کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔ ان میں بچہ گود لینے موضوع پر سیمینار یا کورسز ہو سکتے ہیں۔ ان سیمیناروں میںلے پالک بچے کے والدین کو گورمنٹ کی طرف سے دی گئی مراعات ،سہولتوں اور تحفظات کی معلومات ہونی چاہییں۔اس لیے کہ اگر یہاں ایک مرتبہ کوئی خاندان لے پالک بچہ لیتا ہے تو اسے قانونی تحفظ ملتا ہے۔ بچہ بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کوئی نہیں لے سکتا۔پھر یہ بچے کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس کا انتخاب کرتا ہے۔جبکہ وہ پاکستانی بچے جو نارویجن فیملیز کے پاس پلتے ہیں۔ انہیں اپنا ماحول ، مذہب اور زبان نہیں ملتی۔ اس طرح انکی تربیت صحٰح خطوط پر نہیں ہوتی۔جبکہ بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ بچے کو اسکے خاندانی اور قومی پس منظر کے مطابق ماحول فراہم کرے۔ لیکن جب پاکستانی فیملیز آگے نہیں بڑہیں گی تو وہ مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ مسلئہ عدالت میں بھی اٹھایا گیا ہے کہ ایک پاکستانی بچہ غیر پاکستانی منہ بولے والدین کے زیر سائی رہ کر اپنی زبان اور کلچر دو تین برسوں میں بھول جاتا ہے۔
میرے نزدیک اسکا حل یہ ہے کہ اس مسلئے کے حل کے لیے پاکستانی سماجی تنظیمیں اور سماجی کارکن آگے آئیں۔ایسے پاکستانی والدین ڈھونڈیں جو ان بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہوں۔ انہیں اس کام کے لیے آمادہ کریں۔انہیں اس ادارے کے قوانین اور تحفظات سے آگاہ کریں۔تاہم جو بچے ان اداروں کے زیر سایہ تربیت پاتے ہیں ان کی حالت بہت بہتر ہو تی ہے۔انہیں اچھا ماحول خوراک اور لباس میسر ہوتا ہے۔
ناروے میں پاکستانی سیاست دانوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے اطہر علی نے کہا کہ میں ان کے کردار سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں بھی سیاست سے وابستہ رہ چکا ہوں۔میں سٹی کونسل میں الیکٹ ہوا تھا پاکستانیوں کو سن ٨٣ میں ووٹ کا حق ملا تھا۔ان میں وہ پاکستانی بھی شامل تھے جو کہ تین سال سے ناروے میں رہائش پذیر تھے۔اس طرح پاکستانی خود بھی الیکٹ ہو کر کونسل میں آ سکتے تھے۔ مگر انہوں نے اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا۔ہمارے پاکستانی نمائندے پارلیمنٹ اور اوسلو سٹی کونسل میں بھی ہیں۔ لیکن وہ اپنی کمیونٹی کے مسائل میں بالکل دلچسپی نہیں لیتے۔ ان کے لیے بالکل آواز نہیں اٹھاتے۔میں نے تمام پاکستانی نمائندوں کو اکٹھا کر کے گزارش کی کہ وہ ناروے میں مادری زبان اردو کی تعلیم اسکولوں میں سے ختم کرنے کے خلاف آواز اٹھائیں لیکن ایک پاکستانی سیاسی نمائندے نے میری اس بات اکی حمائیت نہیں کی۔پاکستان کا سیاسی ماحول تو کرپٹ سیاستدانوں سے پر ہے لیکن یہاں ناروے میں ایسا نہیں۔ پھر انہیں کیا چیز حق بات کہنے سے روکتی ہے۔یہ پاکستانی سیاستدان مختلف سیاسی پارٹیوں سے منسلق ہیں۔ یہ لوگ اپنی پارٹی کے اندر رہ کر اپنی کمیونٹی کے لیے کام کرسکتے ہیں۔ لیکن نہیں کرتے۔اس کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال کے ادارے کی بہتری کا مسئلہ ہے لیکن کسی سے اس سلسلے میں کام نہیں کیا۔انہیں چاہیے کہ اپنی کمیونٹی کے مسائل کو آگے لائیں۔نارویجن اسمبلی اور کونسل میں اپنی موجودگی کا فائدہ اٹھائیں۔پاکستانی اپنی اپنی پارٹی کے منشور کو فالو کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ اسی طرح اپنی قومی زبان کو بھی سپورٹ کریں۔ یورپین اقوام اپنی زبان بولنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتیں لیکن ہم اپنی زبان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ جہاں تک قومی زبان میں ویب سائٹ کا ناروے میں شروع ہونے کا سو١ل ہے تو میرے نزدیک یہ اچھ کوشش ہے۔ لیکن اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی یہ کام ہونا چاہیے۔ اس میں پنجابی پشتو اور سندھی جییسی صوبائی زبانیں بھی شامل ہیں۔

اطہر علی نارویجن پاکستانی سیاست دان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں