اسمبلیوں کی اخلاقی حالت۔۔۔۔

سندھ اسمبلی میں شراب خانوں پر پابندی کی قرارداد
نامنظور
وزیر داخلہ کا مؤقف،پابندی سے کئی طبقات متاثر ہوں گے۔
فکر انگیز حقیقت یہ کہ پابندی کی قرارداد ایک اقلیتی رکن اسمبلی نے پیش کی، جبکہ مسلمان حکومتی اراکین اسمبلی نے اسے مسترد کر دیا۔
جمہوریت صرف ووٹوں سے نہیں، اعتماد سے چلتی ہے۔
جب عوام یہ سوچنے لگیں کہ ان کے نمائندے اخلاقی معیار پر کہاں کھڑے ہیں تو بحران سیاسی نہیں، اخلاقی بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری اسمبلیوں کے حوالے سے یہی احساس عام ہوتا جا رہا ہے، اور عوام و قیادت کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔
ایک صوبے کی اسمبلی شراب پر پابندی سے انکاری ہے، جبکہ اقلیتی رکن خود کہہ رہا ہے کہ ہمارے مذہب میں شراب ناپسندیدہ ہے۔
دوسرے صوبے میں بسنت کو سرکاری سطح پر منا کر ثقافت کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔ خواتین اراکین اسمبلی کی پتنگ بازی نے قوم کو کیا پیغام دیا؟
عوام کے ذہن میں سوالات ہی سوالات ہیں۔
کیا ہماری قانون ساز اسمبلیاں واقعی شریعت اور معاشرے کی اقدار کی نمائندگی کرتی ہیں؟
یا فیصلے نظریات سے زیادہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں؟
یہ کسی ایک قرارداد کا مسئلہ نہیں…
یہ ایک تاثر ہے جو جڑ پکڑ رہا ہے کہ اسمبلیاں عوام کے جذبات کی ترجمان نہیں رہیں۔ یہی شکوک وقت کے ساتھ اعتماد کے بحران میں بدل جاتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ہونا صرف آئینی الفاظ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ عوام اسمبلیوں میں کامل انسان نہیں چاہتے، مگر اصولی اور مذہبی اقدار سے قریب فیصلے ضرور چاہتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسمبلیاں معاشرے ہی کا عکس ہوتی ہیں
اگر معاشرہ تضادات اور مفادات میں الجھا ہو تو سیاست بھی اسی کا عکس بن جاتی ہے۔
جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے۔
جمہوریت کا حسن اختیار میں نہیں، کردار میں ہے۔ اور جب کردار کمزور ہو جائے تو قوم اپنے ہی نصیبوں کو کوستی رہ جاتی ہے۔
قرآن کریم صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے۔
اس رمضان جب قرآن کھولیں تو یہ بھی سوچیں کہ ہم بحیثیت قوم اس کی تعلیمات سے کتنے دور ہو چکے ہیں۔قرآن مجید پورا نظام لے کر آیا تھا۔۔
اگر ہماری اسمبلیاں اجتماعی فیصلوں میں شریعت سے ہٹ جائیں اور ہماری پیشانی پر بل تک نہ آئے تو کیا ہم سے اس کا حساب نہیں ہوگا؟

افشاں نوید
11 فروری

اپنا تبصرہ لکھیں