اسلام زکوٰۃ کو اجتماعی معاشی نظام کے طور پر پیش کرتا ہے حافظ اقبال چونا والا


Mediacell JIH Maharashtra

جالنہ
زکوٰۃ کو محض انفرادی عبادت نہیں بلکہ ایک منظم سماجی و معاشی نظام کے طور پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، زکوٰۃ سینٹر انڈیا کے قیام کے ضمن میں جالنہ میں ایک اہم نشست منعقد کی گئی، جس کی صدارت حافظ محمد اقبال چونا والا (رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند وقف ممبئی) و رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ نے فرمائی۔
نشست کا آغاز حافظ شبیر احمد کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جس کے بعد افتتاحی کلمات عبدالوحید ، امیرِ مقامی جماعتِ اسلامی ہند جالنہ نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ دینِ اسلام کا بنیادی رکن ہے جو معاشرے میں عدل، مساوات اور خود کفالت کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے جالنہ میں زکوٰۃ سینٹر انڈیا کا قیام کیوں ضروری ہے بتایا۔
اس موقع پر عبدالحسیب بھاٹکر ، معاون امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے زکوٰۃ سینٹر انڈیا کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ جون 2022 میں بطور رجسٹرڈ ٹرسٹ قائم ہوا، اور اب تک ممبئی، پونہ، اورنگ آباد، بھیونڈی، ناندیڑ اور پربھنی میں اپنی شاخیں قائم کر چکا ہے۔ انہوں نے جالنہ میں بھی زکوٰۃ سینٹر کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ مزید بتایا کہ یہ ادارہ کس طرح کام کر رہا ہے۔ ممبئی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ زکوٰۃ لینے والوں نے تقریبا آٹھ لاکھ زکوٰۃ جمع کروائی یہی مقاصد زکوٰۃ سینٹر انڈیا کا ہے زکوٰۃ کے لینے والے کم ہوتے چلے جائیں۔
اپنے صدارتی خطاب میں حافظ اقبال چونا والا نے کہا کہ زکوٰۃ صرف چند سکوں کا نام نہیں بلکہ امت کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اگر اسے اجتماعی، شفاف اور منظم انداز میں نافذ کیا جائے تو غربت، بے روزگاری اور سماجی عدم توازن جیسے مسائل پر مؤثر طور سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
اِسی کے ساتھ جالنہ میں زکوۃ سینٹر انڈیا کا قیام عمل میں آیا جسکے ذمہ دارا ن کی تفصیلات بعد میں پیش کی جائےگی۔
نشست کے اختتام پر شیخ عبدالمجیب ، کوآرڈینیٹر فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا، جبکہ پروگرام کی کنوینر شپ شیخ اسماعیل نے انجام دی۔
حافظ اقبال چونا والا کی دعا پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا
اس فکری و اصلاحی اجلاس میں جالنہ کے اہلِ خیر اور معززینِ شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں