ادھوری نظم

شعاع نور

وجود خاک میں

ہاری ہوئی ساعت
کی جب تحلیل ہوتی ہے

کسی طاقت کی تب تکمیل ہوتی ہے

یہی کہتی تھی نا مجھ سے

بڑی دلگیر ساعت ہے

یہ جب تحلیل ہوتی ہے

بڑی تکلیف ہوتی ہے

کہ اس تحلیل کے منظر میں

تکمیل سفر آساں نہیں ہوتا

کہ اک مثبت سے دیکھو سینکڑوں منفی نکلتے ہیں

تخیل کے سفر پہ زرد سطروں کے
پڑاؤ میں کسی نمناک خواہش

سے کبھی تو رک کے پوچھوں گی

کہ وہ گیلے ورق کی کیا کہانی تھی کہ جس کے شبد آتش تھے

قلم کے دل میں اتروں گی

اور اس کی ہر اکھڑتی سانس کو
جینا سکھاؤں گی

میں لاحاصل سے حاصل
کے اسی منظر میں اتروں گی

جہاں تقسیم ہونے کا عمل تیزی سے ہوتا ہے

ادھوری نظم چھوڑے جارہی ہوں

میز پر راحت

مکمل ہو بھی سکتی تھی

مگر تحلیل نفسی کا سفر

اب تک ادھورا ہے

مگر وعدہ رہا تشکیل دے لوں گی

بشرطیکہ کسی تکمیل نے جو ہاتھ تھاما تو۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں