ادھورا لمس: ایک ذہنی المیہ

خیال: ڈاکٹر شہلا گوندل

کمرے میں مدھم روشنی کی زردی پھیلی ہوئی تھی بالکل ویسی ہی جیسے خزاںی رسیدہ پتوں پر ڈھلتی شام کا سایہ ہو۔ آریان اور زویا جو اپنی عمر کی چالیسویں دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے آج ایک طویل عرصے بعد اس قربت کی طرف لوٹ رہے تھے جو روزمرہ کی تھکن اور زویا کے ذہنی مشاغل کی نذر ہو چکی تھی۔ زویا جس کا دماغ ہر وقت فلسفے، تحقیق اور پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے میں لگا رہتا تھا آج کچھ دیر کے لیے ذہن سے بدن کی طرف ہجرت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ دوسری طرف آریان تھا ایک عملی، پرجوش اور خوش باش انسان جس کی زندگی سیدھی لکیروں پر استوار تھی۔
آریان نے اس کے کان میں سرگوشی کی زویا آج کچھ نیا تجربہ کرتے ہیں میں نے سنا ہے یہ ایکسٹرا تھن لیٹیکس بالکل قدرتی احساس دیتا ہے اسے آزما کر دیکھیں؟ زویا نے ایک ہلکی سی مگر کسی حد تک لاتعلق مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔ اس کے نزدیک یہ محض ایک نیا تجربہ تھا بالکل ویسا ہی جیسے وہ کوئی نئی کتاب پڑھنا شروع کرتی تھی۔
جیسے ہی وہ اس عمل میں داخل ہوئے کمرے کی فضا بدل گئی۔ لیکن وہ جس لطف کی تلاش میں تھے اس کی جگہ ایک عجیب سے بوجھل پن نے لے لی۔ لیٹیکس اور جلد کے درمیان پیدا ہونے والی شدید رگڑ زویا کے لیے کسی اذیت سے کم نہ تھی۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی دو ٹانگوں کے درمیان کسی نے دہکتی ہوئی لکڑی رکھ دی ہو۔ وہ کراہی لیکن یہ آوازیں ملی جلی تھیں۔ ان میں حقیقی جسمانی تکلیف بھی تھی اور ایک مصنوعی پن بھی جو وہ محض اس لیے پیدا کر رہی تھی کہ آریان کی مردانہ انا اور تحریک برقرار رہے۔ وہ چاہتی تھی کہ یہ مشقت جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔
بیس پچیس منٹ گزر گئے لیکن لذت کا وہ مقام کہیں دور افق پر غائب تھا۔ زویا کا جسم وہاں تھا مگر اس کا دماغ کہیں اور پرواز کر رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ انسانی تہذیب میں جنسی جبلت اور عقل کا توازن کتنا نازک ہے۔ وہ اپنی انٹلیکچول سوچوں میں گم تھی جبکہ اس کا اپنا بدن جل رہا تھا۔ دوسری طرف آریان جو شروع میں ان کراہوں کو اپنی جیت سمجھ کر انجوائے کر رہا تھا اچانک ایک عجیب سے نفسیاتی موڑ پر آ گیا۔ زویا کی تکلیف زدہ آوازوں نے اس کے لاشعور میں ایک کالی کھڑکی کھول دی۔
اسے اچانک ان خبروں کا خیال آیا جو وہ روز اخبارات میں پڑھتا تھا ریپ کرنے والے وحشی درندے، سسکتی ہوئی عورتیں اور معصوم بچیاں۔ وہ کراہیں جو اسے لذت دے رہی تھیں اچانک چیخوں میں بدل گئیں۔ اسے لگا کہ وہ کوئی پیار کرنے والا شوہر نہیں بلکہ ایک شکاری ہے جو کسی کی تکلیف پر خوش ہو رہا ہے۔ انسانیت کا وہ درد جو اس کے اندر کہیں چھپا تھا ایک دم بیدار ہو گیا۔ اس کا پورا وجود ٹھنڈا پڑ گیا اور زبردست کوشش کے باوجود وہ اس عمل کو جاری نہ رکھ سکا۔
دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو کر ہانپ رہے تھے۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد زویا نے اپنے حصے کی تلخی بیان کی آریان مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا جسم آگ کے حوالے کر دیا گیا ہو میں اس تکلیف کو چھپانے کے لیے آوازیں نکال رہی تھی لیکن میرا دماغ کہیں اور تھا کوئی لذت نہیں ملی۔ آریان نے ایک گہرا سانس لیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا زویا تمہاری ان آوازوں نے مجھے ڈرا دیا۔ شروع میں لگا کہ تم لطف اندوز ہو رہی ہو لیکن پھر مجھے ان مظلوم عورتوں اور بچیوں کا خیال آ گیا جن پر جبر ہوتا ہے۔ مجھے لگا جیسے میں تم سے محبت نہیں کر رہا بلکہ تمہاری تکلیف کا تماشا دیکھ رہا ہوں۔
زویا نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور دھیمے لہجے میں کہا آریان ہم نے سوچا تھا کہ ہم کسی مادی چیز کے سہارے قریب آ جائیں گے لیکن ہم بھول گئے کہ لذت کا مرکز جسم نہیں بلکہ ذہن ہے۔ اگر ذہن میں سکون نہ ہو اور روحیں ایک دوسرے کی تکلیف سے ناواقف ہوں تو دنیا کی مہنگی ترین آسائش بھی محض اذیت بن جاتی ہے۔ ہم اکثر جسموں کے ملاپ کو محبت سمجھ لیتے ہیں جبکہ محبت تو اس احساس کا نام ہے جہاں دوسرے کا درد اپنا بن جائے۔ اس رات انہوں نے جسمانی فاصلے ختم نہیں کیے بلکہ ذہنی قربت حاصل کی اور سمجھ لیا کہ اصل سکون مصنوعی تجربات میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کے شعور کے احترام میں پوشیدہ ہے کیونکہ جب تک روح بیدار نہ ہو بدن صرف مٹی کا ڈھیر رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں