ابابیلوں کو آنا تھا

محسنہ جیلانی

ابابیلوں کو آنا تھا۔۔۔۔۔۔
یہ کیسی ساعتیں گذریں یہ کیسی آفتیں آئیں
ابابیلوں کو آنا تھا ابابیلیں نہیں آئیں
یہ کیسا زعم تھا اپنا یہ کیسی خوش گمانی تھی
وہی تھی داستان غم وہی دکھ کی کہانی تھی
ابابیلوں کو آنا تھا ابابیلیں نہیں آئیں
کہیں جلتے ہوئے خیمے کہیں بجھتے ہوئے انسان
کہیں لٹتی ہوئی دنیا کہیں بکھرا ہوا ساماں
زمین کربلا پہ کربلا کا دور دورہ تھا
نہتے بے کسوں کے گھر اندھیرا ہی اندھیرا تھا
زمیں پر آسماں سے خون کی برسات ہوتی تھی
کہیں شام غریباں تھی کہیں پر رات ہوتی تھی
یہ کیسی ساعتیں گذریں یہ کیسی آفتیں آئیں
ابابیلوں کو آنا تھا ابابیلیں نہیں آئیں
کہیں ننھے بدن شعلوں میں جلتے تھے تڑپتے تھے
کہیں ماں کی جلتی کوکھ میں خنجر اترتے تھے
کہیں ام سلیمہ تھی کہیں بلقیس و ریحانہ
کہ پتھر بھی ہوئے نم ناک سن کے جن کا افسانہ
یہ کیسے ساعتیں گذریں یہ کیسی آفتیں آئیں
ابابیلوں کو آنا تھا ابابیلیں نہیں آئیں
اندھیری رات کہتی ہے کہ تم مایوس مت ہونا
میرے دامن میں صبح ہے میرے آنچل میں تارے ہیں
کہ میرے بعد دنیا میں اجالے ہی اجالے ہیں
ابابیلیں نہیں آئیں تو تم مایوس مت ہونا
ابابیلیں نہیں آئیں تو تم مایوس مت ہونا

اپنا تبصرہ بھیجیں