آٹو گراف

یہ بابوں کے ڈیرے ہوتے تھے ،جہاں بیٹھ کر ایسی ہی مشکلوں اور چیزوں کے علاج کرتے تھے۔ نہ تو وہ ڈاکٹر ہوتے تھے نہ وہ کوئی بڑے عالمِ دین ہوتے تھے ،نہ ہی بڑے ناصح ہوتے تھے، وہ کچھ ایسی محبت کی پڑیا بندے کو عطا کرتے تھے، جو نفسیاتی مشکلات اور ڈپریشن کا کاٹ کرتی تھی اور اس سے انسان کی طبیعت اور روح سے بوجھ ختم ہو جاتا تھا۔ آپ سارے صوفیا کی تاریخ دیکھ کر بتائیں کہ انہوں نے لوگوں کو کس کس طرح سے ٹھیک کیا اور راحت دی۔ ان کے علاج میں مذہب کی بھی تمیز نہیں ہوتی تھی۔ وہ تمام بندوں کو اپنے قریب لے آتے تھے۔

میں سوچتا ہوں کہ بندے کی اکثر یہ آرزو رہتی ہے اور میری بھی ایسی یہ تمنا ہوتی ہے اور میں نوجوانوں کی طرح اس عمر میں اپنی آٹوگراف بک لے کر گھومتا ہوں اور ایسے لوگوں کے آٹو گراف حاصل کرنا چاہتا ہوں ،جو آسائش اور آسانی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگوں کو اداکاروں یا گانے والوں کے آٹوگراف لینے کا شوق ہوتا ہے۔ میں ایسے لوگوں کے آٹوگراف لینے کا خواہشمند ہوں ،جن پر دنیا کے جھمیلوں کا تشنج یا بوجھ نہیں ۔ میرے پاس جتنے بھی کاغذ ہیں اس میں دستخط تو کم لوگوں کے ہیں جب کہ انگوٹھے زیادہ لوگوں نے لگائے ہیں۔ کسی لکڑہارے کا انگوٹھا ہے، کسی ترکھان کا ہے، کسی قصائی کا ہے اور دیگر سخت سخت پیشے والوں کے انگوٹھے بھی ہیں۔ ابھی تازہ تازہ میں نے جو انگوٹھا لگوایا ہے، وہ میں نے لاہور سے قصور کے راستے کے درمیان میں آنے والے چھوٹے سے شہر یا منڈی مصطفی آباد للیانی سے لگوایا ہے۔ میرے منجھلے بیٹے کو پرندوں کا بڑا شوق ہے۔ اس نے گھر میں پرندوں کے دانا کھانے کے ایسے ڈبے لگا رکھے ہیں جن میں Automatically دانے ایک ایک کر کے گرتے رہتے ہیں اور پرندے شوق سے آکے کھاتے رہتے ہیں۔ جب ہم قصور سے لاہور آ رہے تھے، تو اس نے للیانی میں ایک دکان دیکھی جس میں پانچ پانچ کلو کے تھیلے پڑے ہوئے تھے جن میں باجرہ اور ٹوٹا چاول وغیرہ بھرے ہوئے تھے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ابو یہ پرندوں کے لیے بہت اچھا دانا ہے۔ میرا بیٹا اس دکان سے چاول اور باجرہ لینے گیا تو اس نے پوچھا کہ آپ کو یہ دانے کس مقصد کے لیے چاہئیں تو میرے بیٹے نے اس بتایا کہ پرندوں کو ڈالنے کے لیے۔ اس پر اس دکاندار نے کہا کہ آپ کنگنی بھی ضرور لیجیے کیونکہ کچھ خوش الحان پرندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو باجری نہیں کھا سکتے بلکہ کنگنی کھاتے ہیں۔ وہ بھی پھر کنگنی کھانے آپ کے پاس آیا کریں گے۔ اس نے کہا کہ بسم اللہ کنگنی ضرور دے دیں اور اس رہنمائی کا میں آپ کا عمر بھر شکر گزار رہوں گا۔ وہ چیزیں لے کر جب اس نے پرس نکالنے کی کوشش کی تو نہ ملا۔ جیبوں، گاڑی، آس پاس ہر جگہ دیکھا لیکن وہ نہ ملا تب وہ تینوں تھیلے گاڑی سے واپس اٹھا کر دکاندار کے پاس گیا اور کہا میں معافی چاہتا ہوں میں تو اپنا بٹوہ ہی بھول گیا ہوں۔ اس دکاندار نے کہا کہ صاحب آپ کمال کرتے ہیں یہ لے جائیں پیسے آ جائیں گے۔ میرے بیٹے نے کہا کہ آپ تو مجھے جانتے نہیں ہیں ! وہ دکاندار بولا کہ میں تو آپ کو جانتا ہوں۔ وہ کیسے میرے بیٹے نے کہا۔ دکاندار گویا ہوا صاحب جو شخص پرندوں کو دانا ڈالتا ہے ،وہ بے ایمان نہیں ہو سکتا۔ میں نے جھٹ سے اپنی آٹوگراف بک نکالی اور اس کا انگوٹھا لگوا لیا۔ ایسے ہی میرے پاس کئی لوگوں کے دستخط اور انگوٹھے موجود ہیں۔ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور ان لوگوں کی طرح ،جن کے میرے پاس آٹوگراف موجود ہیں۔ ان کی طرح آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ (اشفاق احمد کی کتاب زاویہ سے اقتباس) ٭٭٭

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں