Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب / شاعری (page 4)

شاعری

poetry

جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے

abida Rahmani جناب سیؔد افتخار عارف کی ایک اچھی ، دل کو چھو لینے والی غزل۔ شائد بہت سوں نے سنی ہو۔ سنی ہو تب بھی اچھی لگے گی، اور نہ سنی ہو تو بات ہی کیا ہے، مزا آ جاے گا، جی سنیے, حاضر ہے شہرِ گُل کے  خس و خاشاک  سے خوف آتا  ہے جس کا وارث ہوں اسی ...

Read More »

عید کا چاند

Read More »

بچپن کی سنہری یا دیں

  ہم کو ابھی تک وہ زمانہ یاد ہے بیٹھے بیٹھے ہمارا مسکرانا یاد ہے موسم بھی بارش کا کتنا سہانا لگتا ہے بھیگتے وہ اسکول سے آنا یاد ہے ہوتا جو نزلہ بخار ہم کو اگر راتوں میں ماں کا جا گنا یاد ہے سنے کو وہ آواز ہم ترستے ہیں ماں تیرا وہ راتوں میں لوری سنانا یاد ...

Read More »

وقت اور ہم

وقت   بھی  یوں   کمال  کرتا  ہے ماضی  کے اب یہ  سوال کرتا  ہے پہنچ کر عروج پر یہ نہ بھول  جانا سب  کا  یہاں  وہ  زوال  کرتا   ہے سچ   ہمیشہ     بولے   گا  یہ  آئینہ کیوں یہاں مصنوعی جمال کرتا ہے کیسے    بنے  گا  وہ   رہبر   ہمارا جو   مظلوموں  کا   قتال  کرتا  ہے ذائقہ  سچ کا  ہوتا  ہے  اکثر   کڑوا چھوڑو ...

Read More »

ہو دل الفت سے گر خالی بڑا ویران ہوتا ہے

غزل سید اقبال رضوی شارب ہو دل الفت سے گر خالی بڑا ویران ہوتا ہے ہر اک آتا ہوا لمحہ  وبالِ جان ہوتا ہے نظر بھر کر نہیں پر کنکھیوں سے دیکھ لیتے ہیں یہ انکا لطفِ اصغر بھی بڑا احسان ہوتا ہے بدل ڈالے ہیں طرزِ زندگی نے اس طرح رشتے کوئی مجبور ہو تب ہی کہیں مہمان ہوتا ...

Read More »

اس کو کہتے ہیں اچانک ہوش میں آنے کا نام

عبدالحمید عدم selection by Tariq Shah   اس کو کہتے ہیں اچانک ہوش میں آنے کا نام رکھ دیا دانش کدہ، رندوں نے میخانے کا نام   حُور ھے، رعنائیِ نسواں کا اک نقلی لباس خلد ھے، زاہد کے دانستہ بہک جانے کا نام   آپ پر بھی وار ہو دل کا، تو پوچھیں آپ سے عشق بیماری کا غلبہ ...

Read More »

مجنو نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

انتخاب طاہر اشرف Allama Iqbal

Read More »

کبھی کبھی کوئی غم ایسے آن پڑتا ہے

رخشندہ نوید لاہور

Read More »

میں اب زمانے کی چالاکیوں سے تنگ آ کر

ڈاکٹر جاوید جمیل     کبھی فلک تو کبھی خاک ہونا چاہتا ہوں ازل سے پیکر_ادراک ہونا چاہتا ہوں   جنوں ہوں ایک گریبان کی طرح اک روز خود اپنے ہاتھوں سے ہی چاک ہونا چاہتا ہوں   میں چاہتا ہوں رہوں میں بھی گلستاں ہوکر میں کب بھلا خس و خاشاک ہونا چاہتا ہوں   بلا جھجھک وہ لکھوں ...

Read More »

جب ہواؤں میں بھی دیوار نظر آنے لگے

سید اقبال رضوی شارب جب ہواؤں میں بھی دیوار نظر آنے لگے پھر تو جینا بڑا دشوار نظر آنے لگے اختلافات اچھالے ہیں فضا میں ایسے مختلف جو ہے وہ غدّار نظر آنے لگے عید و دیوالی مناتے تھے جو اک دوجے سنگ آج وہ بر سرِ پیکار نظر آنے لگے ساٹھ برسوں پہ جو تنقید کیا کرتے تھے دو ...

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.