Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب / شاعری (page 3)

شاعری

poetry

ادبی ڈکیتی

selected by Tahir Ashraf   تین ﺷﺎﻋﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﺗﮭﮯ ﯾﮏ ﺟﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮩﻼ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﮐﮍ ﮐﮯ ﯾﻮﮞ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﻓﻦِ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﯾﮑﺘﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮔﺮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺷﻌﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﯽ ﺷﻌﺮ ﮈﮬﺎﻝ ﺩﯾﺎ ۔۔۔۔۔ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ...

Read More »

مجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی

کئی دنوں سے مجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی جنابِ عالی حضورِ والا بس اک منٹ مجھ سے بات کر لیں میں اک منٹ سے اگر تجاوز کروں تو بے شک نہ کال سننا میں زیرِ لب مسکرا کے لکھتا بہت بزی ہوں ابھی نئی نظم ہو رہی ہے وہ اگلے میسج میں پھر یہ لکھتی سسکتی روتی بلکتی ...

Read More »

اب تو لوٹ آئیے جو ہوا سو ہوا

غزل  ڈاکٹر جاوید جمیل   مان بھی جائیے جو ہوا سو ہوا اب تو لوٹ آئیے جو ہوا سو ہوا   میری تنہائیاں برف سی ہو گئیں برف پگھلائیے جو ہوا سو ہوا   مانتے ہیں کہ سمجھوتہ آساں نہیں دل کو سمجھائیے جو ہوا سو ہوا   اک نیا نغمہ رقصاں فضاؤں میں ہے ناچئے گائیے جو ہوا سو ...

Read More »

لیکن یہ مکمل ابھی دیوانہ نہیں ہے

غزل  از ڈاکٹر جاوید جمیل   دل یوں تو مرا عشق سے بیگانہ نہیں ہے لیکن یہ مکمل ابھی دیوانہ نہیں ہے   دنیا کی سمجھ میں نہیں آتی ہے مری بات اطلاق_خرد میرا حکیمانہ نہیں ہے   اس دور میں نادر ہے جنوں خیزیء الفت   ہے شمع تو روشن کوئی پروانہ نہیں ہے   گرمیء لہو  آئی  ہے ...

Read More »

یا تاب و تبِ عشق میں مرنے کے لئے ہے

اعجاز شاہین غزل کیا عُمر بسر ،ایسے ہی کرنے کے لئے ہے یا تاب و تبِ عشق میں مرنے کے لئے ہے کس کس کے لئے اور کہاں تک میں سمیٹوں مٹّی تو کسی طور بکھرنے کے لئے ہے آرائش و تجمیل کے سامان بہم ہیں آمادہ مگر کون سنورنے کے لئے ہے آپ اپنے سے بھی صاف مکر جاتے ہیں یعنی جو بات ہے اپنی ،وہ مکرنے کے لئے ہے تعبیر کا اک خوف، اُڑانے کے لئے نیند اک قافلۂ خواب اُترنے کے لئے ہے گزران ہے عشّاق کی جس راہ گزر میں وہ ...

Read More »

چلو دلہنوں. سا سجائیں وطن کو

چلو دلہنوں.  سا  سجائیں  وطن کو چلو مل کے جنّت بناءیں. وطن کو   مٹا کر یہ نفرت ,  کدورت. دلوں سے  اخوّت کا مرکز  بناءیں وطن کو   ستاروں کی جھلمل ہمیں کہہ رہی ہے اندھیروں سے  آؤ  بچاءیں  وطن کو   یوں اپنے لہو سے  سنواریں یہ دھرتی  زمانے میں  ا ونچا. اٹھاءیں وطن کو   چلو ہم ...

Read More »

میں نے کہا کہ ‘جوش’ کہا قدر کھو چکے

آج کا انتخاب شاعر: دلاور فگار —————————– شاعرِ اعظم کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں کہنے لگے کہ آؤ ذرا بحث ہی کریں کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میں وہ کون ہیں کہ شاعرِ اعظم کہیں جسے میں نے کہا ‘جگر’ تو کہا ڈیڈ ہو چکے میں نے کہا کہ ‘جوش’ کہا قدر ...

Read More »

میرے آنے سے بھلا آپ کا کیا جاتا ہے ؟

Selection of Abda Rehmani Chikago مجھ کو دروازے پہ ہی روک لیا جاتا ہے میرے آنے سے بھلا آپ کا کیا جاتا ہے ؟ اشک گرنے سے کوئی لفظ نہ مٹ جائے کہیں اُس کی تحریر کو عجلت میں پڑھا جاتا ہے تُو اگر جانے لگا ہے تو پلٹ کر مت دیکھ موت لکھ کر تو قلم توڑ دیا جاتا ...

Read More »

رات ملے کچھ یار پرانے انٹر کانٹی نینٹل میں

آج کا انتخاب شاعر: ناصر کاظمی —————————– رات ملے کچھ یار پرانے انٹر کانٹی نینٹل میں یاد آئے پھر کتنے زمانے انٹر کانٹی نینٹل میں   کتنے رنگا رنگ مسافر شانہ بہ شانہ رقص کناں چھوڑ گئے کتنے افسانے انٹر کانٹی نینٹل میں   ان ہنستے ہونٹوں کے پیچھے کتنے دکھ ہیں ہم سے پوچھ ہم نے دیکھے ہیں ویرانے ...

Read More »

جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہے

abida Rahmani جناب سیؔد افتخار عارف کی ایک اچھی ، دل کو چھو لینے والی غزل۔ شائد بہت سوں نے سنی ہو۔ سنی ہو تب بھی اچھی لگے گی، اور نہ سنی ہو تو بات ہی کیا ہے، مزا آ جاے گا، جی سنیے, حاضر ہے شہرِ گُل کے  خس و خاشاک  سے خوف آتا  ہے جس کا وارث ہوں اسی ...

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.