Home / ادب / شعرو ادب / شاعری (page 10)

شاعری

poetry

خزانے نہیں ہیں لٹانے کی خاطر

نہیں عمر یونہی گنوانے کی خاطر چلو ہم کریں کچھ زمانے کی خاطر خزانے نہیں ہیں لٹانے کی خاطر نہیں دل کے ارماں مٹانے کی خاطر ہوا ایسی ظالم نہ گزرے چمن سے جو چلتی ہے آندھی اُٹھانے کی خاطر شہیدوں نے دیکھے تھے کیا کیا نہ سپنے وطن کو ہی جنت بنانے کی خاطر بکھرتے ہیں پل بھر میں ...

Read More »

میری پہچان کو بس نام ہی ٹھہرا میرا

اب نہ وہ میں ہی رہا اور نہ وہ چہرہ میرا میری پہچان کو بس نام ہی ٹھہرا میرا جاگتی آنکھوں کے خوابو مجھے اب سونے دو کچھ تو نیندوں کا بھی ہو قرض تو ہلکا میرا   قرض خواہوں کی طرح یا تو پڑوسی جیسا زندگی تجھ سے رہا اور کیا رشتہ میرا   یا زبانوں پہ ہوں یادل ...

Read More »

اسے پسند ہے رت کون سی کہے تو سہی

غزل از ڈاکٹر جاوید جمیل     اسے پسند ہے رت  کون سی کہے تو سہی مرے بغیچے کی آغوش میں کھلے تو سہی   ہے اک غزل مترنم وہ حسن میں ملبوس اسے سنوں گا بھی، دیکھوں گا بھی، ملے تو سہی   میں تیری راہ کو کر دونگا مختصر بیحد قدم ترا مری جانب کوئی اٹھے تو سہی ...

Read More »

جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائے (رازدان راز)

selected by Mohammad Tariq جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائے کل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائے   خدمت خلق سے ہستی کو فروزاں کر لے کیا پتہ کون سی ظلمت میں قضا لے جائے   اس لیے کوئی جہاں سے نہ گیا کچھ لے کر کیا ہے دنیا میں ‘ کوئی ساتھ بھی کیا لے ...

Read More »

ہلکی سی دستک دے دو ناں

دو اک بار دھیرے سے ہلکی سی دستک دے دو ناں اندر نہ آنا رکنا نہیں جلدی میں ہوں کہہ دینا سناٹا من کے اندر راتیں بنجر پاس پڑوس آباد برابر تاریکی میں آگ لگا دو تار یہ دل کے چھیڑو ناں ہلکی سی دستک دے دو ناں برسوں بیتے آیا نہ گیا اندر سے وہ سایہ نہ گیا حقیقت ...

Read More »

رہ گزارِ شوق میں کیا دشت و دریا دیکھنا

شاعر: جناب رفیع الدّین راز رہ گزارِ شوق میں کیا دشت و دریا دیکھنا عشق کا احرام باندھا ہے تو پھر کیا دیکھنا   شوقِ     دیدہ   زندگی   کا   استعارا   دیکھنا دن میں سورج دیکھنا شب میں ستارا دیکھنا   اس تماشا گاہ میں کیا  کار ہائے  روز و شب یا   تماشا   بن  کے   رہنا  یا   تماشا   دیکھنا   ...

Read More »

کیوں نور کے دریا میں نہائیں نہ یہ زائر

Read More »

کل شام جو حرم میں بچھڑگئے

ربیعہ بد ر اوسلو حرم میں کرین کے گرنےکاتو اک بہانہ تھا  کل شام جو حرم میں بچھڑگئے  وہ چہرےاور بھی نکھر گئے  وہ جو گھروں سے چلےتھے  سب سے خود معافیاں مانگ کر  سب دین لین خود کلئیر کرکے  مکہ پہبچ کر  ابھی صرف چند منٹ پہلے  خانہ کعبہ کےسامنے  پہلی دعا کی ھوگی انہوں نے  بھیگی آنکھوں کےساتھ ...

Read More »

حج کا مہینہ

Read More »

آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.