Home / ادب / شعرو ادب / شاعری

شاعری

poetry

ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ

  انتخاب سفورہ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﻬﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ، ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﺑﮩﺖ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﻬﻪ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ . ﻫﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﻬﻪ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﻫﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ...

Read More »

ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو بہت عجیب ہیں یہ بندشیں محبت کی نہ اس نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوئے ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں وہ سب دوست اب تھکنے لگے ہیں کسی کا پیٹ نکل آیا ہے کسی کے بال پکنے لگے ہیں سب پر بھاری ذمہ داری ہے سب کوچھوٹی موٹی کوئی بیماری ہے دن ...

Read More »

نظم پردیسیوں کے دکھ‎

وہ جو پردیس رہتے ہیں کبھی سوچا ہے کیسے دن بِتاتے ہیں جو چہروں سے نظر آتے ہیں آسودہ بظاہر پرسکوں لیکن ٹٹولو تو سہی اِن کو کبھی اِن کے دِلوں میں جھانک کر دیکھو غموں کا اک سمندر ہے سمندر جو بظاہر پرسُکوں لیکن کسی کمزور لمحے میں فصیلیں توڑ کر دل کی نکل آتا ہے آنکھوں سے اکیلے ...

Read More »

وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو شاعر جان احمد   لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے! عشق پِیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے کیتلی ہجر کی تھی , غم کی بنا لی چائے وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے میرے دالان کا منظر کبھی دیکھو آ کر درد میں ڈوبی ہوئی شام ,سوالی چائے ہم نے مشروب سبھی ...

Read More »

جوگی።።።።።

سڑک کنارے بیٹھا تھا کوئی جوگی تھا یا روگی تھا کیا جوگ سجائے بیٹھا تھا ؟ کیا روگ لگائے بیٹھا تھا ؟ تھی چہرے پر زردی چھائی اور نیناں اشک بہاتے تھے تھے گیسو بکھرے بکھرے سے جو دوشِ ھوا لہراتے تھے تھا اپنے آپ سے کچھ کہتا اور خود سن کے ھنس دیتا تھا کوئی غم کا مارا لگتا ...

Read More »

"ہم بڑے ہو گۓ”

انتخاب فوزیہ وحید مسکراہٹ تبسم ہنسی قہقہے سب کے سب کھو گئے ہم بڑے ہو گۓ ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہے بوجھ اوروں کا بھی ہم اٹھاتے رھے اپنا دکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں۔ محفلوں میں مگر مسکراتے رھے کتنے لوگوں سے اب مختلف ہو گۓ ہم بڑے ہو گۓ اور کتنی مسافت ھے باقی ابھی زندگی کی حرارت ...

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.