Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب / شاعری

شاعری

poetry

عشق میں نے لکھ ڈالا "قومیت” کے خانے میں

عشق میں نے لکھ ڈالا "قومیت” کے خانے میں اور تیرا دل لکھا "شہریت” کے خانے میں مجھ کو تجربوں نے ہی باپ بن کر پالا ہے سوچتا ہوں کیا لکھوں "ولدیت” کے خانے میں میرا ساتھ دیتی ہے میرے ساتھ رہتی ہے میں نے لکھا تنہائی "زوجیت” کے خانے میں دوستوں سے جاکر جب مشورہ کیا تو پھر میں ...

Read More »

کسی سے کوئی شکا یت نہ کچھ گلہ رکھئے

غزل : فریدہ لا کھا نی ۔فرحٓ ( سڈنی ۔آ سٹریلیا ) ( دو مطلو ں پر کہی ہو ئی ایک غزل ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی سے کوئی شکا یت نہ کچھ گلہ رکھئے دراز صرف محبت کا سلسلہ ر کھئے خیا ل و خواب میں ہی اس سے را بطہ ر کھئے خرد سے کچھ تو جنو ں کا معا ...

Read More »

برف باری

اے اہلِ گلزار خیال سلام مسنون   ایک نظم برفباری آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ آج کل شمالی امریکہ کے مشرقی علاقے برفباری کی لپیٹ میں ہیں۔ میں میری لینڈ کا رہنے والا ہوں۔ نظم میں وہیں کے تجربے  اور مشاہدے لایا  ہوں۔ مثلا صفا کرنے والے نے پھیرا لگایا سے مراد وہ ٹرک ہے جس کے آگے ایک ...

Read More »

دسمبر ہر سال ایک نیا زخم دے جاتا ہے 

ایک دل خراش نظم  تم نے خواب سے نکل کر نرم، گرم اوڑھنی اور بچھونے سے نکل کر  کبھی درو دیوار کے اس پار  چلنے والی سرد ہواؤں کے تھپیڑے کھائے ہیں اور ان یخ بستہ تھپیڑوں میں  (کہ جن میں نسوں میں دوڑتا خون بھی جمتا ہو) کچرا چنتے بچے کے ہاتھوں پر بار بار لگتی کھروچوں کو محسوس ...

Read More »

مصرع طرح : کبھی کبھی تو روایت سے انحراف کریں

(آل احمد سرور) ملے گا  وہ  نہ  کبھی  لاکھ اعتکاف کریں بنا خشوع حرم کا بھی ہم طواف کریں   رہیں فقیر ہمیشہ نہ ہم لکیروں کے۔۔۔ ‘کبھی کبھی توروایت سےانحراف کریں’   ہیں بخششوں کے طلبگار تو خطائیں سب تو دوسروں کرائیں وہ خودمعاف کریں   ذراسنیں تو سہی بات آپ کےہی نہ ہو یہ خود بھلے کی نہ ...

Read More »

اے دل بیتاب

شازیہ عندلیب اے دل بیتاب مجھ کو تو بتا مخفی ہے آخر راز کیا کیوں قدم جمتا نہیں کیوں قلم اٹھتا نہیں کھڑکیاں ہی کھڑکیاں ہیں ہر طرف کیوں دردل کوئی کھلتا نہیں پردہ کوئی اٹھتا نہیں اے محمل نشیں تو ہی بتا جلتا نہیں کیوں دل کا دیا کون یہ سمجھائے گا کون یہ بتلائے گا آنکھوں میں آنسوؤں ...

Read More »

آرزو آبرو سے باہر ہے

شاعر: جلیل نظامی —————————– آرزو آبرو سے باہر ہے زخم کار رفو سے باہر ہے جی بہلتا نہیں ہے گلشن میں مدعا رنگ و بو سے باہر ہے دل کا آرام ذہن کی تسکین محفل ہاؤ و ھو سے باہر ہے ناؤ ٹوٹی ہوئی ہوا برہم ناخدا آبجو سے باہر ہے کیسے سمجھاؤں کون سمجھے گا حال دل گفتگو سے ...

Read More »

ادبی ڈکیتی

selected by Tahir Ashraf   تین ﺷﺎﻋﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﺗﮭﮯ ﯾﮏ ﺟﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮩﻼ ﺷﺎﻋﺮ ﺍﮐﮍ ﮐﮯ ﯾﻮﮞ ﺑﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﻓﻦِ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﯾﮑﺘﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮔﺮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺷﻌﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﯽ ﺷﻌﺮ ﮈﮬﺎﻝ ﺩﯾﺎ ۔۔۔۔۔ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺑﻮﻻ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ...

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.