Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب

شعرو ادب

ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ

  انتخاب سفورہ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﻬﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ، ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﺑﮩﺖ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﻬﻪ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ . ﻫﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﻬﻪ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﻫﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ...

Read More »

ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو بہت عجیب ہیں یہ بندشیں محبت کی نہ اس نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوئے ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں وہ سب دوست اب تھکنے لگے ہیں کسی کا پیٹ نکل آیا ہے کسی کے بال پکنے لگے ہیں سب پر بھاری ذمہ داری ہے سب کوچھوٹی موٹی کوئی بیماری ہے دن ...

Read More »

اِرتقا ۔ مصطفےٰ زیدی اور ویرا سے شادی کا قصہ

مصطفےٰ زیدی الہ آباد میں پیدا ہوئے تھے[1]۔ ۱۹۵۱ میں پاکستان آگئے۔ انگریزی میں ایم۔اے کیا اور اسلامیہ کالج کراچی میں لکچرر ہو گئے۔ پھر پشاور یونیورسٹی چلے گئے۔ ۱۹۵۴ میں سی۔ایس۔پی میں کامیاب ہوئے۔ ۱۹۵۶ میں انگلستان سے ٹریننگ لے کر آئے اور سیالکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ اسی دوران ایک جرمن نژاد خاتون ویرا فان ہِل سے ...

Read More »

نظم پردیسیوں کے دکھ‎

وہ جو پردیس رہتے ہیں کبھی سوچا ہے کیسے دن بِتاتے ہیں جو چہروں سے نظر آتے ہیں آسودہ بظاہر پرسکوں لیکن ٹٹولو تو سہی اِن کو کبھی اِن کے دِلوں میں جھانک کر دیکھو غموں کا اک سمندر ہے سمندر جو بظاہر پرسُکوں لیکن کسی کمزور لمحے میں فصیلیں توڑ کر دل کی نکل آتا ہے آنکھوں سے اکیلے ...

Read More »

وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو شاعر جان احمد   لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے! عشق پِیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے کیتلی ہجر کی تھی , غم کی بنا لی چائے وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے میرے دالان کا منظر کبھی دیکھو آ کر درد میں ڈوبی ہوئی شام ,سوالی چائے ہم نے مشروب سبھی ...

Read More »

کیا کریں زورِ بیاں قلمیں دواتیں کیا کریں

جی نہیں لگتا کتابوں میں کتابیں کیا کریں کیا پڑھیں پڑھ کر بجھی بے نور سطریں کیا کریں کچھ عجب حالت ہے اے دل کچھ سمجھ آتا نہیں سو رہیں گھرجاکے یا گلیوں میں گھومیں کیا کریں واسطہ پتھر سے پڑ جائےجہاں سوچوں وہاں کیا کریں زورِ بیاں قلمیں دواتیں کیا کریں ایسی یخ بستہ ہوا میں کونپلیں پھوٹیں گی ...

Read More »

حقیقت کم اداکاری بہت ہے

غزل (سید اقبال رضوی شارب ) حقیقت کم اداکاری بہت ہے یہاں ہر لمحہ مکّاری بہت ہے سنہرے خواب اسنے سب کو بیچے وہ لیڈر کم ویا پاری بہت ہے فصل نفرت کی پھر کاٹے گا شاید فضاؤں میں ستمکاری بہت ہے کوئی گوشہ نہیں خوش حال سچ ہے کہ شرق و غرب سسکاری بہت ہے ہوا مخدوش جھوٹوں کا ...

Read More »

فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے نہیں ملتے تو ایک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے یہ مانا شیشۂ دل رونقِ بازارِ الفت ہے مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے نگاہیں تاڑ لیتی ہےمحبت ...

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.