Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب

شعرو ادب

………….میری بات بیچ میں‌رہ گئی

انتخاب عبدہ رحمانی شکاگو تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا ، مری بات بیچ میں رہ گئی میرے دل کو درد سے بھر گیا ، مجھے بے یقین سا کرگیا تیرا بات بات پہ ٹوکنا ، مری بات بیچ میں رہ گئی ترے شہر میں ...

Read More »

بے وجہ گھر سے نکلنے کی ضرورت کیا ہے

انتخاب عائشہ قدیر ٹورنٹو

Read More »

بہت مصروف رہتے تھے

بہت مصروف رہتے تھے ہواؤں پر حکومت تھی تکبر تھا کہ طاقت تھی بلا کی بادشاہت تھی کوئی بم لے کے بیٹھا تھا کسی کے ہاتھ حکمت تھی کوئی تسخیر کرتا تھا کوئی تدبیر کرتا تھا کوئی ماضی دکھاتا تھا کسی کے ہاتھ فیوچر تھا سب ہی مصروف تھے ایسے کہ ایک ہستی بھلا بیٹھے بہت پرواز کر بیٹھے خدا ...

Read More »

کارٹون بھی بڑھتی عمر کے اثرات سے متاثر

پبلک حیران۔۔۔۔۔۔کارٹون پریشان مرتبہ فوزیہ وحید اوسلو  

Read More »

ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ

  انتخاب سفورہ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﻬﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ، ﻣﯿﮟ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﺑﻬﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﺑﮩﺖ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺠﻬﻪ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ . ﻫﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﭽﻬﻪ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﮔﻬﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮐﺮ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭼﮍﯾﻠﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﻫﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ...

Read More »

ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو بہت عجیب ہیں یہ بندشیں محبت کی نہ اس نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوئے ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں وہ سب دوست اب تھکنے لگے ہیں کسی کا پیٹ نکل آیا ہے کسی کے بال پکنے لگے ہیں سب پر بھاری ذمہ داری ہے سب کوچھوٹی موٹی کوئی بیماری ہے دن ...

Read More »

اک دن میں بھی آزاد ہو جاؤں گا

Read More »

اِرتقا ۔ مصطفےٰ زیدی اور ویرا سے شادی کا قصہ

مصطفےٰ زیدی الہ آباد میں پیدا ہوئے تھے[1]۔ ۱۹۵۱ میں پاکستان آگئے۔ انگریزی میں ایم۔اے کیا اور اسلامیہ کالج کراچی میں لکچرر ہو گئے۔ پھر پشاور یونیورسٹی چلے گئے۔ ۱۹۵۴ میں سی۔ایس۔پی میں کامیاب ہوئے۔ ۱۹۵۶ میں انگلستان سے ٹریننگ لے کر آئے اور سیالکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ اسی دوران ایک جرمن نژاد خاتون ویرا فان ہِل سے ...

Read More »

نظم پردیسیوں کے دکھ‎

وہ جو پردیس رہتے ہیں کبھی سوچا ہے کیسے دن بِتاتے ہیں جو چہروں سے نظر آتے ہیں آسودہ بظاہر پرسکوں لیکن ٹٹولو تو سہی اِن کو کبھی اِن کے دِلوں میں جھانک کر دیکھو غموں کا اک سمندر ہے سمندر جو بظاہر پرسُکوں لیکن کسی کمزور لمحے میں فصیلیں توڑ کر دل کی نکل آتا ہے آنکھوں سے اکیلے ...

Read More »

وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو شاعر جان احمد   لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے! عشق پِیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے کیتلی ہجر کی تھی , غم کی بنا لی چائے وصل کی پی نہ سکے ,ایک پیالی چائے میرے دالان کا منظر کبھی دیکھو آ کر درد میں ڈوبی ہوئی شام ,سوالی چائے ہم نے مشروب سبھی ...

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.