Home / ادب (page 10)

ادب

سفر نامہ عمرہ قسط نمبر چار

اٹلی سے محمد بلال کے قلم سے لکھی ایک روح‌پرور تحریر

Read More »

سفرنامہ عمرہ قسط نمبر 3

Read More »

لطیفے اور رشتے

محترمہ رابعہ درانی کی زیر نظر تحریر نہایت سنجیدہ معاشرتی مسا ئل اور انسانی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ مزاح انسانی زندگی میں خوشگوار لمحات کا اضافہ تو کرتا ہے لیکن غیر محسوس طریقوں سے جس طرح انسانی رویوں میں تبدیلی پیدا کرتا ہے اور قریبی رشتے جس طرح تحقیر کا شکار ہو جاتے ہیں اس کی نشاندہی کی گئی ...

Read More »

سانس لیتا ہوں تو اب خون کی بو آتی ہے

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ بعض اوقات انسان انجانے میں ایسے افعال کرگزرتا ہے جن کے نتائج بہت بھیانک اورہولناک ہوتے ہیں ۔ جب نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انسان چلا اٹھتا ہے کہ یہ کیا ہوا میرے ساتھ۔جیسا کہ اس کہانی میں چڑیا ایک چھوٹا سا پرندہ ہے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کسی سے اپنا انتقام ...

Read More »

اِرتقا ۔ مصطفےٰ زیدی اور ویرا سے شادی کا قصہ

مصطفےٰ زیدی الہ آباد میں پیدا ہوئے تھے[1]۔ ۱۹۵۱ میں پاکستان آگئے۔ انگریزی میں ایم۔اے کیا اور اسلامیہ کالج کراچی میں لکچرر ہو گئے۔ پھر پشاور یونیورسٹی چلے گئے۔ ۱۹۵۴ میں سی۔ایس۔پی میں کامیاب ہوئے۔ ۱۹۵۶ میں انگلستان سے ٹریننگ لے کر آئے اور سیالکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے۔ اسی دوران ایک جرمن نژاد خاتون ویرا فان ہِل سے ...

Read More »

فیشن اسٹائل اور آپ کی شخصیت

فیشن اسٹائل اور آپ کی شخصیت خوشبخت جہاں آٹھویں کلاس کی طالبہ شانیا صبح وقت کی کمی کی وجہ سے بھاگم بھاگ اسکول چلی گئی۔ذرا دیر ہو جاتی تو اسکول کی بس نکل جاتی یا پھر اسکول سے فائن ہو جاتا۔اس نے جلدی سے ایک ٹوسٹ پر مکھن اور جیم لگا کر آدھا دودھ کا گلاس غٹا غٹ چڑھایا اور ...

Read More »

عمرہ کا سفر

Read More »

سکندر اعظم کے دیس میں

   

Read More »

نظم پردیسیوں کے دکھ‎

وہ جو پردیس رہتے ہیں کبھی سوچا ہے کیسے دن بِتاتے ہیں جو چہروں سے نظر آتے ہیں آسودہ بظاہر پرسکوں لیکن ٹٹولو تو سہی اِن کو کبھی اِن کے دِلوں میں جھانک کر دیکھو غموں کا اک سمندر ہے سمندر جو بظاہر پرسُکوں لیکن کسی کمزور لمحے میں فصیلیں توڑ کر دل کی نکل آتا ہے آنکھوں سے اکیلے ...

Read More »

آزاد قوم

عابدہ رحمانی شکاگو کہیں یہ تحریر نظر سے گزری تھی کہ انگریز افسران ، جنہوں نے ھندوستان میں ملازمت کی، جب واپس انگلینڈ جاتے تو انہیں وھاں پبلک پوسٹ/ ذمہ داری نہ دی جاتی۔ دلیل یہ تھی کہ تم نے ایک غلام قوم پر حکومت کی ھے جس سے تمہارے اطوار اور رویئے میں فرق آیا ھوگا۔ یہاں اگر اس ...

Read More »
Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.