بھارت: امید کی علامت شاہ رخ خان کی ’’خاموشی‘‘

برکھا دت بھارت کی سینئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔ انہوں نے متعدد مواقع پر انتہائی درجے کی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہی کچھ لکھا اور کہا ہے، جو ضمیر کی آواز کے مطابق تھا۔ بھارت میں مسلمانوں سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے انہیں بلاجواز نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے بھی برکھا دت نے کئی بار حق بیانی اور حق نویسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ زیر نظر مضمون میں برکھا دت نے بھارت میں مسلمانوں سے روا رکھے جانے امتیازی سلوک کو خاصے بلیغ انداز سے بیان کیا ہے۔ برکھا دت کے مطابق یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان کا منشیات استعمال کرنے کے کیس میں گرفتار کیا جانا، حالات کی اصلیت سے عوام کی توجہ ہٹانے کے عمل کا بڑا حصہ ہے۔

بھارت کے سب سے بڑے فلمی ہیرو شاہ رخ خان کو ایک طویل مدت تک امید کی علامت کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اب جو کچھ اُن کے بیٹے کے ساتھ ہوا ہے اُس سے یہ اندازہ لگانے میں بہت آسانی ہوئی ہے کہ بھارت میں بہت کچھ ختم ہوچکا ہے۔ شاہ رخ خان آخری بار کسی عوامی مسئلے پر اس وقت سامنے آئے تھے جب وہ پچاس برس کے ہوئے تھے۔ یہ نومبر ۲۰۱۵ء کی بات ہے اور اس سے صرف ایک ماہ قبل محمد اخلاق کو اپنے ریفریجریٹر میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں ہجوم نے تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ والد کی جان بچانے کی کوشش کرنے پر محمد اخلاق کے بیٹے کو بھی نہیں بخشا گیا تھا اور تشدد سے اس کی کھوپڑی چٹخ گئی تھی۔

اس مسئلے پر شاہ رخ نے اپنے انٹرویو میں دوٹوک موقف اختیار کیا تھا۔ مجھ سے گفتگو میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے مذہب (اسلام) کو گوشت کھانے کی عادت کے ذریعے بیان کیا جاسکتا ہے نہ احترام ہی دیا جاسکتا ہے، یہ کس قدر احمقانہ بات ہے۔ اس پر اُنہیں شدید تنقید اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑا۔ اور تو اور، اُن کی قوم پرستی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ شاہ رخ خان سے کہا گیا کہ وہ پاکستان چلے جائیں۔

اس کے بعد سے شاہ رخ خان نے، جنہوں نے کہا تھا کہ مذہبی عدم رواداری بھارت کو تاریک زمانوں میں لے جائے گی، خود کو ایک طرح کے خول میں بند کرلیا۔پھر اُنہوں نے میڈیا والوں سے ملاقات کے لیے سخت کنٹرول والے ماحول میں ملنا شروع کیا۔ شاہ رخ خان کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ انہوں نے ایک ہندو (گوری) سے شادی کی ہے، ثقافتی تنوع کو قبول کیا ہے، مزاح کو مزاج ہی نہیں بلکہ زندگی کا حصہ بنایا ہے۔ ان تمام حقائق نے انہیں بھارت سے جڑے ہوئے تمام مثبت معاملات اور سب کو قبول کرکے چلنے کی روایت کے تناظر میں نمایاں علامت کا درجہ دیا۔ اب وہ انتہائی المناک اور دل توڑ دینے والی تبدیلی کے نتیجے میں ایک اداس، معذرت خواہ اور خاموش پبلک فگر میں تبدیل ہوچکے ہیں، تو آج کے بھارت میں واقع ہونے والی شدید ثقافتی گراوٹ اور اخلاقی تنزل کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

ہجوم کے ہاتھوں کسی پر تشدد کرنے والوں کے آگے سجدہ گزار ہونے کی حماقت یاد کرکے شاہ رخ خان آج، ایک مشتعل باپ کی حیثیت سے، ملول ضرور ہوں گے جب ان کا اپنا ۲۳ سالہ بیٹا آریان منشیات استعمال کرنے کے الزام میں جیل میں دن گزار رہا ہے۔ آریان کی ضمانت کی درخواست اسپیشل نارکوٹکس کرائم کورٹ نے مسترد کی تو شاہ رخ خان نے ممبئی کی اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

انتہا پسند ٹولے نے اسلامو فوبیا کے حوالے سے اپنی طاقت کا پھر مظاہرہ کیا ہے۔ اس بار ملک کے ایک بڑے فیشن برانڈ ’’فیب انڈیا‘‘ کی باری ہے۔ دیوالی کے موقع پر پیش کیے جانے والے اپنے نئے ملبوسات کے لیے ’’فیب انڈیا‘‘ نے ’’جشنِ رواج‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے ایک ہائی پروفائل رکن بھی ان لوگوں میں شامل تھے، جنہوں نے اردو کے الفاظ کے استعمال کو ہندو مخالف ہی نہیں بلکہ ملک کی اسلامائزیشن کی سازش قرار دیا! حقیقت یہ ہے کہ اردو ایک ایسی زبان ہے جو بھارت کی سرزمین ہی پر پیدا ہوئی۔ فیب انڈیا کی اشتہاری مہم میں جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ اردو اور ہندی کا مشترکہ ورثہ ہیں۔ ہاں، انتہا پسند ہندوؤں کے اعتراض میں چھپا ہوا پیغام واضح ہے: یہ کہ اردو مسلم ہے لہٰذا گندا شور مچاؤ۔

بھارت میں خامیوں سے اٹے ہوئے نظامِ انصاف اور اس کی بھرپور معاونت کرنے والے نفرت انگیز ٹی وی چینلوں نے متعدد مواقع پر غیر مسلموں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ۲۰۲۰ء میں اداکارہ ریا چکر ورتی نے محض اس الزام کی بنیاد پر کم و بیش ایک ماہ جیل میں گزارا کہ اس نے اپنے دوست اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کے حالات پیدا کیے۔ میڈیکل رپورٹس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ سُشانت سنگھ راجپوت نے خود کشی کی تھی اور یہ کہ اس کی موت میں کسی کا ہاتھ نہیں تھا۔

جب کسی مسلمان کا معاملہ ہو تو ہجوم کا رویہ یا ردعمل بہت مختلف ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے قانونی کارروائی اور انصاف کی فراہمی کے عمل پر کوئی سوال کرے تو اس کی حب الوطنی جانچی جانے لگتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ جس کروز شپ سے آریان کو گرفتار کیا گیا تھا، اس پر چھاپہ مارنے کے حوالے سے بعض امور پر اختلافات کے باوجود شاہ رخ خان خاموش ہیں۔ بی جے پی کا ایک کارکن اور ایک پرائیویٹ جاسوس (جو میگا اسٹار کے بیٹے کے ساتھ سیلفیاں لیتا ہوا پکڑے جانے کے بعد فرار ہوا) اس پورے معاملے کا حصہ تھا اور وڈیو میں اسے آریان کو چھاپہ مار کارروائی کے بعد تحویل میں لیے جانے تک گام گام دیکھا جاسکتا ہے۔ آریان پر منشیات خریدنے یا اپنے پاس رکھنے کا کوئی الزام نہیں۔ اس کے وکیل نے تو منشیات استعمال کیے جانے کی بھی تردید کی ہے۔ وکلائے استغاثہ البتہ یہ کہتے ہیں کہ اس نے منشیات استعمال کی تھی اور واٹس ایپ پر کی جانے والی چیٹ کو وہ ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس بات سے کوئی بھی اختلاف نہیں کر رہا کہ اگر آریان خان نے قانون شکنی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔ اور میرے لیے یہ نکتہ بھی ناقابل قبول ہے کہ وہ مسلم ہونے کی وجہ سے پکڑا گیا ہے۔ایک ایسے نظامِ انصاف میں کہ جس میں ضمانت استثنا نہیں بلکہ عمومی چلن ہونا چاہیے، عدالت کے ردعمل کا غیر متناسب ہونا اور زہریلے ہجوم کو چمک دمک کے ساتھ پیش کرنا بہت کچھ بیان کرتا ہے۔

شاہ رخ خان اور ان کے بیٹے کا معاملہ عوام کی توجہ ہٹانے کا بھرپور واقعہ ہے۔ جب ٹی وی چینلوں پر پرائم ٹائم میں فلمی ستارے دکھائی دے رہے ہوں اور ہاتھ کے ہاتھ فیصلہ سنانے کا موقع بھی ہاتھ آئے تو چین کے خطرے، یا پھر کورونا وائرس کی وبا کے معاشی و معاشرتی (منفی) اثرات کی بات کرنا کون پسند کرے گا؟ اب اس پورے معاملے میں تھوڑا سا اسلاموفوبیا بھی ڈالیے تو عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے متعارف کرایا جانے والا پیکیج زیادہ جاندار انداز سے کام کرے گا۔ جو محض نام کے بدمعاش ہیں وہ ایسے میں زیادہ طاقتور دکھائی دیتے ہیں اور جو کبھی واقعی طاقتور ہیرو تھے وہ زیادہ گہری خاموشی کی طرف چل دیتے ہیں۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ غربت، تعصّب، ذات پات اور طبقات کے اثرات سب جیل میں ختم ہو جاتے ہیں۔ آریان زندگی کی تمام بنیادی سہولتوں سے مستفید ہوتے ہوئے زندگی بسر کرنے والا نوجوان سہی مگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلم، دلت اور قبائلی برادریوں کے لوگ اپنی تعداد کے اعتبار سے کہیں بڑی تعداد میں جیلوں میں ٹھونسے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، دادری کیس کو پانچ سال گزر جانے پر بھی مقتول محمد اخلاق کے بیٹے دانش نے، جو ایک شریف النفس اور مسکراتا ہوا انسان ہے اور دماغ کی دو جراحتوں کے بعد بھی معجزانہ طور پر بچ گیا اور جو کبھی حکومت کا حصہ بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا، مجھ سے کہا کہ ہم سب بس تھوڑی سی محبت کے بھوکے ہیں۔ آج شاید شاہ رخ خان بھی، جو اسکرین پر محبت کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں، یہی محسوس کر رہے ہوں گے۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Shah Rukh Khan was a symbol of hope in India. Now his story shows all that is being corroded”. (“washingtonpost.com”. October 20, 2021

اپنا تبصرہ بھیجیں

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)