کشمیر پر ایک بھارتی دانشور سے مکالمہ

Arif Mahmud Kisana
عارف محمود کسانہ
ایک یورپی یونیورسٹی میں سیاسیات اور تاریخ کے شعبہ سے وابستہ بھارتی نژاد دانشور اور محقق سے ایک محفل میں ملاقات جہاں وہ فخر سے بھارتی جمہوریت کی خوبیاں بیان کررہے تھے اور اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دے رہے تھے۔ ان کی گفتگو میں مخل ہوتے ہوئے میں نے عرض کی کہ
یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں ایک زیر قبضہ ریاست کے لوگوں کو جبر اور عسکری دباو کے تحت رکھا گیا ہے۔ ان لوگوں کو جمہوری حق کیوں نہیں دیا جاتا؟ ان کے حق خود آرادیت کو نہ صرف اقوام عالم نے تسلیم کیا ہے بلکہ خود بھارت نے بھی یہ وعدہ کیا تھا۔ کیا ان بھی بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوٰی کرسکتا ہے۔ آپ ہی کے بانی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے جموں کشمیر کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔
کہاں گیا وہ وعدہ اور کیسی ہے یہ جمہوریت؟
میرا یہ سوال سن کر وہ بوکھلا گئے اور دفاعی انداز اختیار کرتے ہوئے بولے نہرو کی یہی سب سے بڑی غلطی تھی کہ وہ جموں کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لے گئے۔ نہ وہ اس مسئلہ کو وہاں لے کر گئے ہوتے اور نہ آج ہمیں دنیا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا۔ بھارت نے حیدر آباد، جونا گڑھ، مناور اور سکم جیسی ریاستوں کو اپنا حصہ بنا لیا اور آج ان کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ میں عرض کہ جموں کشمیر کا معاملہ ان ریاستوں سے الگ ہے، ریاست جموں کشمیر کا ایک حصہ آزاد ہے اور پھر پاکستان پوری دنیا میں کشمیریوں کے حق خود آرادیت کے لیے ستر سال سے اصولی موقف پر کھڑا ہے۔
‏ اصولی موقف؟ میری طرف وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے بولے۔
‏یہ درست ہے کہ پاکستان دینا میں مسئلہ کشمیر پو واویلا کرتا ہے لیکن دنیا اس پر کوئی توجہ نہیں دیتی۔ پاکستان کے راہنما خود اسصکا اعتراف کرتے ہیں۔ اوروں کو تو چھوڑیں آپ کے اپنے اسلامی ممالک جن کے لئے آپ دل و جان سے فدا ہوتے ہیں، وہ بھی مسئلہ کشمیر پر خاموش ہیں۔ مودی حکومت نے جو 5 اگست 2019 کے اقدامات کئے تھے مجھے بتائیں کہ اسلامی ممالک نے اس پر کیا ردعمل دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی نسبت بھارت کے اسلامی دنیا سے بہتر تعلقات ہیں۔ ایران اور سعودی عرب جو کبھی پاکستان کے سب سے بڑے حمایتی ہوتے تھے، اب بھارت کے ہم نوا بن چکے ہیں۔
جہاں تک پاکستان کے اصولی موقف کا تعلق ہے تو یہ صرف اتنا ہی کہ جموں کشمیر بھارت سے چھین کر پاکستان کو دے دیا جائے۔ اب اس مطالبے کی دنیا کے ممالک کیوں تائید کریں۔ ہمیں تو پاکستان کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ایک بین الاقوامی مسئلہ کو دو طرفہ مسئلہ بنا دیا ہے۔ بنیادی طور پر جو حق خود آرادیت کا مسئلہ تھا وہ الحاق پاکستان کا مطالبہ بن گیا ہے۔ اگر کشمیریوں سے پوچھا جائے تو ممکن ہے کہ نہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہیں اور نہ بھارت کے ساتھ بلکہ ایک آزاد اور خودمختار کشمیر کے حق میں فیصلہ کریں۔ دنیا پاکستانی حکومت کی دورخی جانتی ہے، ایک طرف آپ کا یہ مطالبہ کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے دیا جائے لیکن ساتھ ہی آپ کے وزیر خارجہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائیں۔ اب دنیا اتنی بے وقوف نہیں جتنا کہ اسلام آباد والے اسے سمجھتے ہیں۔
دیکھیں بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے جموں کشمیر پر قراردادیں منظور کیں اور بھارت چونکہ اقوام متحدہ کا رکن ہے اس لئے اسے ان پر عمل کرنا چاہیے۔ ایک طرف بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننا چاہتا ہے لیکن دوسری طرف سلامتی کونسل کی ہی قراردادیں رد کررہا ہے۔ یہ کیا ہٹ دھرمی اور منافقت نہیں، اب میں نے بات کا رخ بدلنا چاہا۔
دیکھیں نہرو کی یہی سب سے بڑی غلطی تھی جو اسے اقوام متحدہ میں لے گیا اور اسے ایک متنازعہ خطہ بس دیا۔ دوسری غلطی نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی سے ہوئی۔ 1971 میں جب پاکستان دو لخت ہوچکا تھا اور اس کے نوے ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے، وہ وقت تھا کہ شملہ معائدہ کرتے وقت مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیتے۔ پاکستان مجبور تھا لیکن اندارا گاندھی کو نجانے کیا سوجھی اور وہ مروت یا بھٹو کی چال کا شکار ہوگئیں اور اس مسئلہ کو ختم نہ کرسکیں۔
چلیں جو بھی ہے، اقوام متحدہ کی جموں کشمیر پر قراردادیں اب بھی موثر ہیں، جنہیں بھارت ماننے سے عاری ہے۔ میں نے ایک بار پھر بھارتی دانشور کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی طرف گفتگو کا رخ کیا۔
دیکھیں، جہاں تک اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں، اگر ان پر عمل ہو بھی جائے تب بھی جموں کشمیر پاکستان کو نہیں ملے گا بلکہ پاکستان کو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ بھارتی دانشور نے عجیب بات کہہ دی۔
یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پاکستان کیوں مطالبہ کرتا ہے کہ جموں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے اور بھارت کیوں انکاری ہے۔ آپ مان کیوں نہیں لیتے۔ میں نے زور دیتے ہوئے بات کی۔
وہ بولے، پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا واویلا سیاسی بیان ہے۔ پاکستان کو خود علم ہے کہ نہ تو ان پر عمل ہوگا اور نہ ان سے پاکستان کو فائدہ ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ بھارت کو پاکستان کا مطالبہ مان لینا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ ٹھیک ہے آو جموں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں تسلیم کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر بھارت یہ چال چلے گا تو پاکستان خود پھنس جائے گا اور کبھی بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے اپنی بات مکمل کی۔
میں نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں صاف لکھا ہے کہ جموں کشمیر میں رائے شماری ہوگی اور کشمیریوں سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
وہ بولے آپ اقوام متحدہ کی قراردادیں پڑھیں، اس میں پاکستان کو جارح قرار دیا گیا ہے۔ کشمیری عوام سے رائے لینے سے قبل جموں کشمیر سے پاکستان کی تمام افواج اور قبائلی نکل جائیں گے جبکہ بھارت کی افواج کا ایک حصہ جموں کشمیر میں رہے گا۔ اس صورت حال میں پاکستانی فوج گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے نکل جائے گا۔ پاکستان کا چین سے رابطہ ختم ہوجائے گا۔ آپ کا سی پیک دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ پاکستانی فوج نکل جانے کے بعد جموں کشمیر کے مہاجرین کی واپسی اور آباد کاری ہوگی۔ پاکستان میں مقیم مہاجرین واپس آئیں گے۔ اس سارے عمل میں کئی سال لگیں گے اور اس دوران بھارتی افواج جموں کشمیر میں ہوں گی جبکہ پاکستان کا ایک بھی فوجی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نہیں رہ سکے گا۔ اب بتائیں کہ کیا واقعی پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل چاہتا ہے۔
مگر اقوام متحدہ کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ اس بات پر نظر رکھے کہ بھارت صورتحال کو اپنے حق میں ایکسپلائٹ نہ کرے اور پاکستان بھی اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے اپنے مفادات کا تحفظ کروا اور کر بھی سکتا ہے، میں نے جواب دیا۔
‏بھارتی دانشور نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے لیکن آپ کو علم ہونا چاہیے کہ پوری ریاست جموں کشمیر میں صرف بھارتی فوج ہوگی اور آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان کی مقامی انتظامیہ کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ مہاجرین جموں کشمیر کی واپسی اور بحالی میں کئی سال لگیں گے، تب تک انتظامی طور پر پوری ریاست جموں کشمیر بھارتی زیر انتظام ہوگی۔ میری رائے میں بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا تسلیم کرنے کا اعلان کردیا چاہیے جس سے پاکستان مشکل صورت حال سے دوچار ہوجائے گا۔
لیکن دنیا جموں کشمیر کو متنازعہ مانتی ہے اور بھارتی اقدامات کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرتی، میں نے اب گفتگو کا رخ بدلنا چاہا۔
دیکھیں بات یہ ہے کہ دنیا کو مسئلہ کشمیر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بھارتی حکومت نے وہاں جو بھی کیا ہے کسی ایک ملک نے اس پر ردعمل نہیں دیا۔ پاکستانی عوام جذباتی ہیں اور آپ کے سیاستدان ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ مودی حکومت کی 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد پاکستان نے مظاہرے کرکے دیکھ لیا، اب خاموشی ہوگئی ہے۔ جموں کشمیر کے عوام کو اچھی طرح سے علم ہوگیا ہے کہ پاکستان ہمارے لئے کچھ نہیں کرے گا۔ پاکستان محض زبانی باتیں کرتا ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتا۔ مظاہرے اور جلسے جلوس کرکے آپ اپنا وقت اور پیسہ برباد کرتے پیں، بھارت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ کشمیریوں کوئی فائدہ ہے۔
اس طویل گفتگو کو سمیٹتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ جموں کشمیر متنازعہ علاقہ اور جب تک یہ حل نہیں ہوگا جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہوگا اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کبھی بھی خوفناک تصادم عالمی امن کے لئے تباہ کن ہوگا۔ اس لئے پاکستان اور بھارت کو یہ مسئلہ حل کر لینا چاہیے۔ اسی میں برصغیر کے عوام کا مفاد ہے اور دونوں ممالک جو بجٹ دفاع پر خرچ کرتے ہیں، وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتے ہوئے غربت، جہالت اور بیماری کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ یہ مسئلہ تب ہی حل ہوگا جب دونوں ممالک اپنی اپنی انا کو پس پشت ڈالیں گے۔
اس پر بھارتی دانشور نے کہا ہے آپ کی بات درست اور اس مسئلہ کو حل ہونا چاہیے لیکن اس کے لئے دونوں ممالک کی قیادت کو جرات مندی سے آگے بڑھنا ہوگا لیکن موجودہ حالات میں یہ ممکن نظر آرہا۔
ہماری اس گفتگو کو قریب بیٹھے ہوئے ہمارے ایک بنگالی دوست غور سے سن رہے تھے، بولے کہ جمہوری اصولوں اور انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں جموں کشمیر کو چھوڑ دیں اور جموں کشمیر کو دس سال کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں دے دیا جائے۔ دس سال بعد آزادانہ رائے شماری سے فیصلہ ہونا چاہیے کشمیریوں سے پوچھنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ یا پھر آزاد اور خودمختار ملک چاہتے ہیں۔ یہ ایسا حل ہے جو سب کے لئے قابل قبول ہونا چاہیے۔
ہماری طویل گفتگو اختتام کو پہنچی اور ہم بہت سنجیدہ بحث کے بعد مسکراتے ہوئے جدا ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)