اوسلو میں پاکستانیوں کی آمد کا جشن اور سلور جوبلی کی تقریب پر خیال آرائی۔۔۔۔

تحریر شازیہ عند لیب
ایک سوال آپ سے بھی جواب ضرور دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وبائی مرض کے پھیلاؤ کے بعد پاکستانی کمیونٹی کا پچاس سالہ جشن آمد ناروے کا انعقاد کسی ٹھنڈ ی اور خوشگوار ہوا کے جھونکے سے کم نہ تھا۔یہ جشن اوسلو کاؤنٹی پچھلے دو برس سے منانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وبائی مرض کے پھیلاؤ اور بدلتے قوانین کے دباؤ کے تحت یہ تقریب التواء کا شکار ہو تی چلی گئی۔بالآخر انتیس اور تیس اکتوبر کو یہ سر انجام پا ہی گئی۔
اوسلو کاؤنٹی نے تقریب کے انعقاد کے لیے مختلف مقامی تنظیموں سے رابطہ کیا جس میں بی دیلز مودرر Bydels mødrer) (انٹر کلچرل وومن گروپ (inter culturall women group (IKKG) آئی ایچ ایچ جی (IHSG) اور ایمی (EMI) کی تنظیمیں پیش پیش تھی۔اس کے علاوہ ان کی سربراہی سرکاری تنظیمیں جن میں اوسلو اور کیف (KIF) کی تنظیمیں شامل ہیں نے کی۔
تقریب کا افتتاح نارویجن شاہ ہیرالڈ نے کیا۔جبکہ پاکستانی فنکاروں نے ترانے گا کر دیسی ماحول بنانے کی کوشش کی۔سب کچھ تھا مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ کمی محسوس ہو رہی تھی۔مثلّا انتظامی امور میں خامیاں نظر آئیں کئی لوگ رجسٹریشن کے باوجود واپس بھیج دیے گئے اسی طرح تنظیموں کو بھیجی جانے والی انفارمیشن کی ای میلز نہیں کھل رہی تھیں۔ جبکہ دوسرے روز بھی لوگوں کے پاس درست معلومات نہیں تھیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ اس پروگرام کی معلومات اردو میں بھی دینی چاہیے تھی کیونکہ سب لوگ نارویجن میں نہیں پڑھتے یا پھر نظر انداز کر دیتے ہیں۔اکثر لوگ اس میں گروپس بنا کر شامل ہوئے جو کہ ایک اچھی سماجی روائیت ہے اس طرح ایک ہی کمیونٹی کے لوگ ذیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔اس مرتبہ پاکستان کی سلور جوبلی کی تقریبکے اہتمام میں صومالین کمیونٹی کی تنظیم ایکی بھی شامل تھی۔ ایمی کی سربراہ چنے ایک بہت قابل اور خوش اخلاق خاتون ہیں۔وہ بہت کامیابی سے پچھلے کئی برسوں سے تنظیم چلا رہی ہیں۔انہوں نے پچاس سالہ جشن کے دوسرے روز بھی انتظامی امور میں حصہ لیا اور استقبالیہ پر وہ اور انکی تنظیم کی اراکین خواتین متحرک نظر آ رہی تھیں۔انہوں ے انٹر کلچرل وومن گروپ کی سربراہ غزالہ نسیم سے ایک ایسا سوال کیا جس کا جواب دینا بہت مشکل تھا اور یہ سوال سن کر میں بھی اس خوشی کے موقع پر اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔میں جس کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے مجھ سے بھی کچھ جواب بن نہ پڑا۔ آپ بھی یہ سوال جانیں اور اسکا ممکن جواب دینے کی کوشش کریں شائید ہمیں اپنے سماجی مسائل کو حل کرنے میں کوئی پیش رفت ہو۔سوال یہ ہے کہ


پاکستانی کمیونٹی کے لوگ جب سر راہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ بجائے مسکرانے کے ایک دوسرے سے اتنے متنفر کیوں نظر آتے ہیں؟
براہ کرم اس سوال کا جواب ضرور دیں تاکہ ہم لوگ اپنی کمیونٹی کی بہتر سماجی زندگی میں ایک قدم اور آگے بڑھ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)