Breaking News
Home / کالم / نظارے میری کھڑکی سے

نظارے میری کھڑکی سے

شازیہ عندلیب
میں نے اپنی خواب گاہ کی کھڑکی سے سیاہ بلائنڈز ہٹائیں تو باہر اسے اپنا منتظر پایا۔وہ اپنی پوری رعنائیوں اور حسن کے ساتھ وہاں براجمان تھیاپنے خوبصورت اور دلکش وجود کے ساتھ۔ وہ وہاں یوں پھیل کے بیٹھی تھی جیسے میرا ہی انتظار کررہی ہو۔اس کے بنقشئی اور کالی جھالر جیسے ڈیزائن والے پر دیکھ کر تو میں قدرت کی صناعی پر عش عش ہی کر اٹھی۔وہ خوبصورت تتلی میرے کمرے کی کھڑکی کے شیشے سے چپکی میرے کمرے میں جھانک رہی تھی۔میں نے کمرے سے نیچے باغ میں جھانکا جہاں سرخ بیریز سے لدے درخت اور رنگ برنگے پھولوں کے پیڑ تھے۔اسے تو وہاں ہونا چاہیے تھا مگر وہ یہاں تھی۔۔۔ میرے سامنے۔۔۔۔۔
اسے یہاں کس نے بھیجا تھا؟ اور کس لیے بھیجا تھا؟
یقیناآ اس کے خالق اور میرے مالک نے۔۔۔۔۔
اور میرے لیے ہی تو بھیجا تھا۔۔۔۔۔۔
کیا اس بات میں کسی کو کوئی شک ہے تو بتادے۔۔۔۔۔
یہ سوچ کر تو میرا دل خوشی سے پھول کی طرح کھل اٹھااور ہونٹوں پہ مسکراہٹ سی بکھر گئی۔یہ تو ایک احساس کی بات ہے۔یہ خالق کائنات ہر کسی کو کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور دیتاہے۔۔۔ کسی کو کم کسی کو ذیادہ مگر دیتا ضرور ہے بس دیکھنے والی آنکھ اور محسوس کرنے والا دل ہونا چاہیے۔یقین نہ آئے تو اپنے آس پاس دیکھ لیں آپ کو بیشمار چیزیں نظر آئیں گی جو صرف آپ ہی کے لیے خاص ہیں۔ اگر نہ ملیں تو مجھے بتا دیں میں ڈھونڈ دوں گی آپ کو سچ۔۔۔
مجھے یاد ہے جب دو برس قبل مجھے ایک پراجیکٹ ملا تھا جس کا مقصد ڈپریشن اور تناؤ میں مبتلاء مہاجر خواتین کو ذہنی اور جسمانی طور پر متحرک کرنا تھا۔اس کے آغاز کے دن ہی مجھے قدرت کی جانب سے ایک خوبصورت تحفہ ملا تھا اور پتہ ہے وہ کیا تھا۔ایک لمبی کارپٹڈ سڑک۔جی ہاں یہ سڑک اسی رات مکمل ہوئی تھی جس کی صبح کو میں نے اس نئے پراجیکٹ کا چارچ سنبھالنا تھا۔تو پھر میں اسے کیوں نہ اپنی جانب منسوب کرتی اور پھر میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ کامیابی سے اس پراجیکٹ کو مکمل بھی کر لیا۔
اس کے دوران مشکلات بھی آئیں۔کسی نے ٹانگ کھینچنے کی کوشش کی تو کسی نے رقم لوٹنے کی کوشش کی مگر جب انسان اپنی بھرپور کوشش کے بعد اللّہ تبارک کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے تو پھر پتہ ہے اللّہ سبحان کیا کہتا ہے اپنے بندوں سے؟
اے مومنوں تم دشمنوں کی چالوں سے مت گھبراؤ
اور اللّہ بڑی چال چلنے والا ہے۔
سو جس نے آگے بڑھنا ہے اللّہ پہ کامل بھروسے کے ساتھ بڑھتا چلا جائے راستوں میں روڑے اٹکانے والوں کو تو پھر اللّہ دیکھ ہی لے گا۔کیا خیال ہے آپ کا؟ تو پھر آپ کب اٹھا رہے ہیں نیا قدم نئی توانائیوں اور زندگی کی بھرپور رعنائیوں کے ساتھ؟؟جلدی کریں وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔۔جاری ہے

Check Also

(محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی یاد میں ناچیز کی چند سطور )

راجہ محمد عتیق افسر اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات قرطبہ یونیورسٹی پشاور 03005930098, attiqueafsar@yahoo.com 28 مئی 1998 ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: