Home / ادب / قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام آن لائن عالمی طرحی مشاعرہ

قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام آن لائن عالمی طرحی مشاعرہ

قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام آن لائن عالمی طرحی مشاعرہ

اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے کوشاں قطر کی قدیم ترین اردو تنظیم، بزمِ اردو قطر (قائم شدہ ۹۵۹۱ ء)، کی جانب سے زووم پر آن لائن عالمی طرحی مشاعرہ، ۶۲/ دسمبر ۰۲۰۲ء؁ (ہفتہ) کو بڑے اہتمام سے منعقد کیا گیا جس میں چھے ممالک سے تقریباً دو درجن شعرا و شاعرات نے شرکت کی۔ شعرائے کرام کے علاوہ مختلف ملکوں سے سخن فہم سامعین کی ایک بڑی تعداد اس مشاعرے سے اپنی اپنی قیام گاہوں سے محظوظ ہوئی۔
آکولہ، ہندوستان میں مقیم بزرگ شاعر جناب اقبال خلشؔ نے مسندِصدارت کورونق بخشی۔ دہلی میں مقیم عالمی شہرت یافتہ زود گوبزرگ شاعر ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی مہمانِ خصوصی کی کرسی پر سرفراز ہوئے جب کہ ہندوستان سے منفرد لب ولہجہ کے شاعر جناب سرفراز بزمیؔ اور امریکہ میں مقیم پر وقار لہجے کے شاعر ڈاکٹر احمد ندیم رفیعؔ مہمانانِ اعزازی کے طور پرمشاعرے میں جلوہ افروز ہوئے۔ اس عالمی آن لائن طرحی مشاعرے میں کلاسیکی ادب کے معروف شاعر مرزا داغؔ دہلوی کے دو مصرع ہائے طرح دیے گئے تھے۔
۱؎ ”اڑے گی ابھی یہ خبر دیر تک
“ (ردیف: دیر تک) اور
۲ ؎ ”گرا ہوں میں پہنچ کر آسماں تک“ (ردیف: تک)
جن پر مختلف ممالک میں مقیم شعرا و شاعرت نے غزل کہہ کر اپنی شرکت سے مشاعرے کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔ بزمِ اردو قطر کے جنرل سکریٹری افتخار راغبؔ نے مشاعرے کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مشاعرے کا آغاز ڈاکٹر سعد محمد رفیق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جب کہ دعا بنت محمد رفیق نے اپنی شیریں آواز میں حمد باری تعالیٰ پیش کی۔جناب قاضی عبد الملک اور جناب ابوالخیر خان نے اپنی دل کش آواز وں میں داغؔ دہلوی کی دونوں غزلیں پیش فرمائیں جن سے مصرع منتخب کیے گئے تھے۔ بزمِ اردو قطر کے چیئرمین ڈاکٹر فیصل حنیف نے تمام شعرا و سامعین کا پر جوش استقبال کیا اور مرزا داغؔ دہلوی کی شاعری پر مختصر اور جامع اظہارِ خیال کیا۔ ساتھ ہی اردو دنیا کے عظیم نقاد و نثر نگار شمس الرحمان فاروقی اور قطر کے معرو اردو نواز و تاجر محمد صبیح بخاری کی رحلت پر آپ نے اظہارِ افسوس کیا اور بزمِ اردو قطر کی جانب سے تعزیت پیش کی اور آپ کی گزارش پر بزمِ اردو قطر کے صدر جناب محمد رفیق شادؔ اکولوی نے دعائے مغفرت فرمائی۔ بزم کے نائب سکریٹری سید فیاض بخاری کمالؔ نے پروگرام کو زووم پر انصرام و ریکارڈنگ کی ذمہ داری بہ حسن وخوبی انجام دی۔ مختلف ممالک کے جن شعراے کرام نے اپنی طرحی غزل سے مشاعرے کو پر وقار بنایا ان کے اسمائے گرامی ہیں: صدرِ مشاعرہ جناب اقبال خلشؔ (ہندوستان)، مہمانِ خصوصی ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی (ہندوستان)، مہمانانِ اعزازی جناب سرفراز بزمیؔ (ہندوستان) اور ڈاکٹر احمد ندیم رفیعؔ (امریکہ)، جناب جلیلؔ نظامی (قطر)، جناب شاذؔ جہانی (آلوک کمار شریواستو، ہندوستان)، جناب محمد رفیق شادؔ اکولوی (قطر)، افتخار راغبؔ (قطر)، محترمہ زینت کوثرؔ لاکھانی (پاکستان)، جناب رشید شیخؔ (امریکہ)، جناب ضمیر احمد ضمیرؔ (ہندوستان)، جناب فاروق رضاؔ (ہندوستان)، جناب اجیت سنگھ بادلؔ (ہندوستان)، جناب فریدؔ انور صدیقی (متحدہ عرب امارات)، ڈاکٹر وصیؔ بستوی (قطر)، جناب منصورؔ اعظمی (قطر)، جناب فیاض بخاری کمالؔ (قطر)، جناب منصورؔ قاسمی (سعودی عرب)، جناب شہباز ؔشمسی (متحدہ عرب امارات)، ڈاکٹر طارق فیضؔ (ہندوستان)، جناب اظہار راشدؔ (ہندوستان)، جناب ویجناتھ شاہ منٹوؔ (قطر)، محترمہ رضیہؔ کاظمی (امریکہ)، محترمہ عالیہؔ تقوی (ہندوستان)، جناب سفیانؔ احمد (ہندوستان)، محترم نزحت نوشینؔ (ہندوستان) اور جناب عرفان روشن ؔ(ہندوستان)۔
صدر مشاعرہ اور تمام مہمانان نے بزم اردو قطر کی کاوش کو سراہا اور مشاعرے کی بہترین کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔ آخر میں بزمِ اردو قطر کے صدرجناب محمد رفیق شادؔ اکولوی نے تمام شعرا و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس مثالی اور یادگار عالمی طرحی مشاعرے میں پیش کیے گئے چند منتخب اشعاربا ذوق قاری کی نذر کیے جاتے ہیں:

الٰہی زندگی جھیلی میں نے
مگر شکوہ نہیں آیا زباں تک
میں آئینے سے باتیں کر رہا ہوں
کوئی ملتا نہیں ہے ہم زباں تک
اقبال خلشؔ اکولوی، ہندوستان

وہ دم بھرتا ہے میری دوستی کا
نہیں سنتا جو میری داستاں تک
سمجھتا نہیں جو مرا حالِ دل
ہلاتا رہا اپنا سر دیر تک
احمد علی برقیؔ اعظمی، ہندوستان

یہی صیاد کی مرضی ہے شاید
سمٹ جائیں پرندے آشیاں تک
مجھے پستی کا طعنہ دینے والو
”گرا ہوں میں پہنچ کر آسماں تک“
سرفراز بزمیؔ، ہندوستان

تو چپ ہو گیا پر کہانی تری
سناتی رہی چشمِ تر دیر تک
مری خامشی میں رہا موجزن
تری خامشی کا اثر دیر تک
احمد ندیم رفیع، امریکہ

جنھیں جانا تھا حدِ لا مکاں تک
سمٹ کر رہ گئے ہیں جسم و جاں تک
انا کی ضد میں ہے گلزارِ ہستی
بچائے آدمی خود کو کہاں تک
جلیلؔ نظامی، قطر

رکھوں گا اگر بند آنکھوں کو میں
وہ آتے رہیں گے نظر دیر تک
مجھے دکھتی ہے بس اچھائی اس میں
سمجھ پایا ہوں میں اس کو جہاں تک
شاذؔ جہانی (آلوک کمار شریواستو)، ہندوستان

جواں مردی پہ اپنے تھے جو نازاں
اب اُن کے مٹ گئے نام و نشاں تک
مگن ہے عیش و عشرت میں تونگر
بھلا بیٹھا ہے مرگِ ناگہاں تک
محمد رفیق شادؔ اکولوی، قطر

دباتے ہیں بیگم کا سر دیر تک
سو سوتے ہیں وقتِ سحر دیر تک
نکلتا نہیں گھر میں اک لفظ بھی
پھڑکتے ہیں لفظوں کے پر دیر تک
افتخار راغبؔ، قطر

رہے گا جو باقی شجر دیر تک
ہمیشہ وہ دے گا ثمر دیر تک
اڑائی ہوئی دشمنوں کی ہے یہ
”اڑے گی ابھی یہ خبر دیر تک“
رشید شیخؔ، امریکہ

خرد کی حد زمیں سے آسماں تک
محبت کی رسائی لامکاں تک
فسادی جیسے اندھے ہو گئے تھے
جلا ڈالی کتابوں کی دکاں تک
ضمیر احمد ضمیرؔ، ہندوستان

بنائیں شبیہِ جمال ایسی بھی
ہو خوشبو کا جس میں اثر دیر تک
کرامت ہو یہ بھی کہ خوشبو اڑے
چمیلی لکھیں صفحہ پر دیر تک
فریدؔ انور صدیقی، متحدہ عرب امارات

جلایا دل تری باتوں نے اکثر
مرے منہ سے نہیں نکلا دھواں تک
شکستہ ڈور رشتوں کی پکڑ کر
نبھاتے رسم دنیا کی کہاں تک
زینتؔ کوثر لاکھانی، پاکستان

مرے اپنے بھی ہیں ذاتی مسائل
اٹھاؤں غم جہاں بھر کے کہاں تک
کبھی چلتی تھی جن کی حکمرانی
رضاؔ کھلتی نہیں ان کی زباں تک
فاروق رضاؔ، ہندوستان

عقیدہ ہو ترا وحدانیت پر
نہ کوئی شرک ہو دل میں نہاں تک
میں خوش تھا بہت وصلِ محبوب سے
خوشی سے تھیں آنکھیں بھی تر دیر تک
فیاض بخاری کمالؔ، قطر

ہمیں لے ہی بیٹھی یہ دیوانگی
بچایا تھا ہم نے بھی سر دیر تک
ابھی اور رسوا کرے گی مجھے
”اڑے گی ابھی یہ خبر دیر تک“
اجیت سنگھ بادلؔ، ہندوستان

جلائے کس ہنر سے گھر ہمارے
کہاں دیکھا کسی نے بھی دھواں تک
پرندے رو رہے ہیں ڈر سے منصورؔ
پہنچ آئی ہے ناگن آشیاں تک
منصورؔ قاسمی، سعودی عرب

ذرا سا حوصلہ دل میں اگر ہو
گراں رہتا نہیں کارِ گراں تک
دباؤ مت وصیؔ آواز اپنی
اِسے جانے دو یہ جائے جہاں تک
وصیؔ بستوی، قطر

پلا دے مجھے وہ شرابِ وفا
رہے مجھ پہ جس کا اثر دیر تک
اذاں ہو رہی ہے اٹھو میرے لال
رہے گی نہیں یہ سحر دیر تک
منصورؔ اعظمی، قطر

خوشی سے آگئے آہ و فغاں تک
محبت لے کے جائے گی کہاں تک
اشاروں کے اشارے کہہ رہے ہیں
کسی کی نا کی ضد پہنچے گی ہاں تک
شہباز شمسی، متحدہ عرب امارات

مجھے دیوانگی تجھ پر یقیں ہے
مجھے لے چل مقامِ جاوداں تک
ابھی تو دل ہی بس قرباں ہوا ہے
لٹانا عشق میں پڑتا ہے جاں تک
طارق فیضؔ، ہندوستان

سناتے رہتے ہیں روداد اپنی
نہیں سنتے ہماری داستاں تک
زبانِ قال سے اظہارؔ کر دو
اشاروں کی زباں آخر کہاں تک
اظہار راشد، ہندوستان

تو گھر میرے آئے گی چندن بدن
تو مہکے گا میرا بھی گھر دیر تک
اگر بے وفا سے لگاؤ گے دل
تو کیسے رہے گا اثر دیر تک
بیجناتھ شاہ مِنٹوؔ، قطر

ہوا ہر زخمِ دل اس طرح گویا
نہ دل کی بات کچھ آئی زباں تک
شکستہ ہو گئے یہ پر تو کیا غم
”گرا ہوں میں پہنچ کر آسماں تک“
عالیہؔ تقوی، ہندوستان

قسم لے لو کوئی حرفِ شکایت
جو آیا ہو کبھی میری زباں تک
اڑا کر لے گئی بادِ حوادث
ہماری کشتیوں سے بادباں تک
رضیہؔ کاظمی، امریکہ

سکوں مجھ کو حاصل ہو ممکن نہیں
رہے گا یہ دردِ جگر دیر تک
تو آئے نہ آئے ہے مرضی تری
میں دیکھوں گا تیری ڈگر دیر تک
سفیان احمد، ہندوستان

حیا سے یہ پلکیں بھی جھک جائیں گی
رہے گی جو رخ پر نظر دیر تک
کہاں لطف ملتا ہمیں وصل کا
بہانہ نہ کرتے اگر دیر تک
نزہت نوشینؔ، ہندوستان

اسی اک ادا نے ہے رکھا بھرم
وہ ہنستا بھی تھا روٹھ کر دیر تک
وہ اک شام ہے یاد اب تک ہمیں
ملے آخری بار پر دیر تک
عرفان روشنؔ، ہندوستان

رہا جذب دل کا اثر دیر تک
ملائے رہے وہ نظر دیر تک
نئی چاہ اے داغؔ چھپتی ہے کب
اڑے گی ابھی یہ خبر دیر تک
مرزا داغؔ دہلوی (پیش کش: جناب عبد الملک قاضی)

یہ سب جھگڑے ہیں جانِ ناتواں تک
رہے گا دَم کہاں تک، خم کہاں تک
دل اس کی بزم سے کس طرح اکھڑے
ٹھہر جائے جہاں عمرِ رواں تک
مرزا داغؔ دہلوی (پیش کش: جناب ابوالخیر خان)

رپورٹ: افتخار راغبؔ
جنرل سکریٹری، بزمِ اردو قطر، دوحہ قطر
Mobile: +97455707870

 

 

Check Also

کچھ حیران کن حقائق

  کچھ حیران کن حقائق ”انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: