Home / ادب / طنز و مزاح / ساگ گردی کی خوفناکیاں

ساگ گردی کی خوفناکیاں

مجھے فخر ہے کہ ساگ گردی پر جب سب بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے پہلی آواز میں نے اٹھائی تھی، بچپن میں جب بھی ساگ پکا امی پوچھتی تھیں ساگ کھانا ہے یا چھتر کھانے ہیں اور تاریخ گواہ ہے ہمیشہ پہلے چھتر اور پھر ساگ کھایا ہے۔
میں نے بہت پہلے بتا دیا تھا ساگ گردی کے خلاف متحد ہوجاؤ ورنہ یہ ہمارے گلی محلوں اور گھروں تک پہنچ جائے گئی لیکن کسی نے میری بات کو سنجیدہ نا لیا اور آج ساگ گردی ہمارے گلی کوچوں تک پھیل گئی ہے، ساگ کے حملے گھروں سے نکل کر اب ہوٹلوں ریسٹورنٹ تک پہنچ چکے ہیں، بازار سے کھانا کھانے والوں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔ ساگ کی ایک خودکش ہانڈی جہاں پھٹ جائے تیس چالیس معصوم لے جاتی ہیں ۔
ایک بار “اُس” نے فون پر بتایا ساگ کھا رہی ہوں تو یہ سن کر میں نے کئی ہفتے اُس سے بات نہیں کی تھی۔
میں نے کہا تھا سنو اگر مجھ سے پیار ہے تو ساگ چھوڑ دو اور پھر اس نے مجھے ہی چھوڑ دیا۔ ساگ کا مجھ پر یہ پہلا اور آخری احسان ہے۔
ہم دونوں ساگ میں انتہا پسند تھے اور ہمارے پیار کو ساگ کی نظر لگ گئی۔
لوگ ساگ کھاتے ہیں اور ساگ لوگوں کا پیار کھا جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے دو پیار کرنے والوں میں سب سے زیادہ نفرتیں ساگ نے پھیلائی ہیں، ہنستے بستے گھر اجاڑ دئیے ہیں۔جب بھی گھر میں ساگ پکا ہے لڑائی ہوئی ہے اور لڑائی تب تک رہی جب تک ساگ ختم نہیں ہوگیا۔ اپنی لڑائی ختم کرنے کیلئے ساگ ہمسائے کے گھر بھیج کر وہاں لڑائی شروع کروا دی ہے۔
رشتہ داروں اور ہمسائیوں میں سب سے زیادہ لڑائی سردیوں میں ہوتی ہیں کیونکہ ساگ کا لین دین ہوتا ہے۔ صرف اس وجہ سے سردی ناپسند ہے کہ اپنے ساتھ نا ختم ہونے والا ساگ لیکر آتی ہے۔
ساگ نا ہوتا تو بہت سی دوستیاں بچ سکتی تھیں اور ختم ہونے والے پیار قائم رہ سکتے تھے۔ بیویوں کو ساگ صرف اس لئے پسند ہے کہ ایک بار پکا کر ہفتہ دس دن کچن سے جان چھوٹ جاتی ہے۔
ساگ ایک سبز رنگ کی ڈھیٹ قسم کی سبزی ہے ڈھیٹ اس لیے کہ جس گھر میں گھس جائے پوری سردیاں قبضہ رہتا ہے۔
ماؤں کو اتنی فکر اپنے بچوں کی نہیں ہوتی، جتنی ساگ کی ہوتی ہے
کہتے ہیں کوئی مہمان اپنے ساتھ ساگ نا لائے تو اسکا مطلب ہے وہ گاؤں سے نہیں آیا یا وہ رشتہ دار نہیں ہے۔
میرا تو یہ ماننا ہے کہ ساگ اور آگ جس گھر کو لگ جائے وہ مشکل سے ہی بچتے ہیں۔
ساگ ایک خود پسند اور انا پرست سبزی ہے اس کی کسی کے ساتھ نہیں بنتی اور ہمیشہ اکیلی ہی پکتی ہے
ایسی ضدی ہے کہ پکنے کے بعد بھی اپنا رنگ نہیں بدلتی۔
پاکستان کے جھنڈے اور ساگ میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے یوں لگتا ہے جھنڈے کا ڈیزائن بنانے والا اس وقت ساگ پر مکھن رکھے کھا رہا تھا جھنڈے میں سفید رنگ ساگ کا مکھن ہے۔
جو قوم ایک پورا دن ساگ پکانے پر ضائع کردیتی ہے وہ انسانیت کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے یہ کہہ کر سکندراعظم نے پنجاب پر چڑھائی کردی۔
محمود غزنوی کو بتایا گیا کہ دنیا میں ایک ایسا خطہ بھی ہے جو ساگ کو انسانوں کی خوراک کہتے ہیں یوں سترہ حملے وجود میں آئے۔
غوری سے لیکر ابدالی تک کے لشکر کے جانورں کا ساگ اسی خطے سے جاتا تھا۔
مجھے یقین ہے ایک دن ہم اس ملک پر قابض ہوجائیں گے کیونکہ یہ ساگ خور قوم ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلا تاجر
جو قوم ساگ کھاتی ہو وہاں تعلیم کچھ نہیں کرسکتی۔ لارڈ میکالے۔
ہمارے اور تمھارے درمیان اب ساگ فیصلہ کرے گا۔ نیوٹن
میری بڑی خواہش تھی پنجاب کے لوگ بھی نوبل انعام جیتیں مگر وہ ساگ کھانا نہیں چھوڑ سکتے۔ الفریڈ نوبل
نیپال پر آج تک کوئی حملہ آور فتح حاصل نہیں کرسکا کیونکہ وہ ساگ نہیں کھاتے۔ نپولین
میری قوم اگر ساگ کھانا چھوڑ دے تو کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔ سرسید احمد خان
کولمبس کو راستے میں ہی پتہ چل گیا تھا برصغیر میں ساگ کھایا جاتا ہے اس لئے وہ راستہ بدل کر امریکہ نکل گیا۔
ایک بار عرب کے جانوروں کا ساگ کم پڑگیا تو معلوم ہوا جہاں سے آتا تھا وہاں کے لوگوں نے خود کھانا شروع کردیا ہے اور پھر ان کی سرکوبی کیلئے حجاج نے محمد بن قاسم کو بھیجا۔
ایک منگول کو جب بغداد میں ساگ کھانے کو دیا گیا تو اس نے واپس جاکر چنگیز خان کو شکایت کردی اور پھر چنگیز خان قہر بن کر ٹوٹ پڑا۔ اسکے ایک تاجر نے بتایا کہ دنیا بھر کا ساگ پنجاب سے آتا ہے تو چنگیز خان نے اپنی فوجوں کو پنجاب پر حملہ کا حکم دے دیا۔

نوٹ۔ میری طرف سے ساگ پر پابندی لگاؤ تحریک کا آغاز کردیا ہے متاثرین ساگ جلدی ممبر بنیں

Check Also

بیچارہ شوہر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: