Breaking News
Home / ادب / سنیارا / جیولر ایک چھپا ڈاکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Hand full of cash for a hand full of scrap gold.

سنیارا / جیولر ایک چھپا ڈاکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

میں آپ کو سمجھاتا ھوں کہ جیولرز کیسے اچھے خاصے پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں کو ایک روایتی طریقے سے بیوقوف بنا لیتے ہیں اور ان پڑھ لوگوں کی تو بالکل مت ہی مار دیتے ہیں۔
مثلا
ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیں۔
اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیں۔

اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ھے 2 ماشے کٹوتی کرتا ھے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رھے تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا۔

نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داو کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا۔

آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے
ایک ماشے کی اندازہ قیمت 9000 روپے ھے آج کل یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 27000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے۔

اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو 👇
ایک تولہ سونا 24 قیراط ھوتا ھے۔
پہلے آپ کو سمجھاتا ھوں کہ قیراط کس بلا کا نام ھے۔

#قیراط
قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار کا نام ھے۔
تقریبا سو فیصد خالص سونا 24 قیراط ھوتا ھے جتنے قیراط کم ھوں گے مطلب اتنی اس سونے میں ملاوٹ شامل ھے
ویسے یہ 99.99 ٪ خالص ہوتا ھے۔
12 قیراط مطلب 50 فیصد ملاوٹ اور 18 قیراط 75 فیصد خالص اور 25 فیصد ملاوٹ ھے۔
قیراط کمیت (وزن) کے پیمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ھے۔
ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کا وزن عام طور پر قیراط میں ناپا جاتا ہے۔
(ویسے قیراط عربی زبان کے ایک وزن کا نام بھی ھے جو 5 جو کے برابر ھوتا ھے ۔ ایک قیراط 200 ملی گرام یعنی 0.007,055 اونس یا 3.086 گرین حبہ (grains) کے برابر ہوتا ھے)

اب آتے ہیں اصل بات کی جانب کہ جب آپ سونا بنواتے / خریدتے ہیں تو
سنیارے عام طور پہ 15 یا 18 قیراط سونا بنا کے دیتے ہیں اور پاکستان میں چند ایک بڑے جیولرز کو چھوڑ کر کسی کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونا بنانے کی مشین نہیں ھے۔
22 قیراط بس کراچی میں ایک 2 جیولرز بنا کے دیتے ہیں۔

اگر سنیارے نے آپ کو 18 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس نے سونے میں 25 فیصد ملاوٹ کی ھے۔
مطلب اگر ایک تولہ زیور بنا کر دیا ھے تو مثلا ایک تولہ ایک لاکھ کا ھے تو سنیارا آپ کو 75000 کا سونا دے کر ریٹ ایک لاکھ روپے لگا رھا ھے۔

اسی طرح اگر سنیارے نے آپ کو 21 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس کا مطلب یہ ھے کہ زیور آپ کو 87500 کا دے رھا جبکہ قیمت آپ کو 1 لاکھ سونے کی لگا رھا ھے۔

سیدھی سے بات ھے کہ ایک تولہ زیور ملاوٹ کر کے آپ کو بس 75000 سے 87500 کا دیں گے اور قیمت پورے تولے کی ایک لاکھ لگائیں گے۔

دوسرا داو ان کا پالش کے نام پہ ھوتا ھے ایک آدھ ماشہ الگ سے لگا لیں گے کہ اتنا ہمارا سونا زیور بناتے ھوئے ضائع ھو گیا ھے جس کی ایک تولے کے پینچھے قیمت 9000 سے 10000 ھو گی
یاد رھے کہ سنیارے کی دوکان کا کوڑا بھی لاکھوں میں بکتا ھے اور ان کا کچھ ضائع نہیں ھوتا۔

آخر پہ انہوں نے مزدوری ڈالی ھوتی ھے
آپ کے بہت زیادہ اصرار پہ آپ کو مزدوری کا 2000 سے 4000 چھوڑ کر آپ پہ بہت بڑا احسان کریں گے اور کہیں گے آپ نے ہمیں بچنے کچھ نہی دیا اور یہ مزدوری بس آپ کو چھوڑ رھے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ہمارا دوسری یا تیسری نسل سے تعلق ھے بلا بلا بلا بلا۔

سونا بیچتے وقت سونے کی ڈلی بنوائیں (وہ بھی اعتماد والے بندے سے ۔ رعایت خیر وہ بھی نہی کرتا) مطلب ملاوٹ نکال دی جاتی ھے اور خالص 24 قیراط سونا رہ جاتا ھے۔

پھر اس ڈلی یعنی خالص 24 قیراط سونے کو اس دن کے سرکاری ریٹ پہ بیچیں
ورنہ آپ کو بہت بڑا چونا لگ جائے گا۔

زیور بنواتے وقت پہلے طے کریں کہ سونا 21 قیراط بناو گے 18 یا 15
جتنا خالص وہ سونا بنائے اس حساب سے 15، 18 یا 21 قیراط کے مطابق قیمت دیں نا کہ 24 قیراط کی قیمت ادا کریں۔

ساتھ دھمکی دیں کہ میں ابھی اسی مشین پہ چیک بھی کرواوں گا کہ یہ 15، 18 ھے یا 21 قیراط ہے۔
اور وقت یا سہولت میسر ھو تو اس کو مشین پہ چیک بھی کروا لیں کے کتنے قیراط بنا اور آپ نے کتنے قیراط کے حساب سے قیمت ادا کی۔

میری ان سب باتوں سے ھو سکتا میرے چند دوست ناراض ھوں لیکن میرا بتانا فرض تھا تاکہ لوگ Educate ھوں۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے سارے انگلیاں برابر نہی چند ایک اچھا کاروبار کرنے والے بھی ھوں گے لیکن میرے خیال میں ان کی تعداد شاید 1 فیصد سے زیادہ نا ھو۔۔

نوٹ: چوری کے مال کی خریدوفروخت الگ ڈاکہ ھے۔

میری حکومت پاکستان سے اپیل ھے کہ سونے کی خریدوفروخت اور زیورات کی بناوٹ پہ باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔

منقول

Check Also

کینیڈا کا ذکر آپ نے پنجابی فلموں میں بہت سنا ہوگا لیکن اس ملک کے بارے میں وہ تمام باتیں سامنے آگئیں جو آپ شاید نہیں جانتے

کینیڈا کے شہر واٹر لو میں صبح صبح ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا یہ کالم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: