Home / اسلام / کیا کسی نے کبھی ایسا سوچا تھا؟

کیا کسی نے کبھی ایسا سوچا تھا؟

رمضان المبارک:
سہیل انجم
کروناوائرس اور اس کی وجہ سے نافذ لاک ڈاون نے پوری دنیا کے معمولات تبدیل کر دیے ہیں۔ ”کروناپیریڈ“ سے قبل کی دنیا کچھ اور تھی آج کی کچھ اور ہے اور ”مابعد کروناپیریڈ“ کچھ اور ہو جائے گی۔ معمولات زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے غور و فکر کا زاویہ بھی بدل گیا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ رابط کاری کا انداز بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ اب دوستوں کی محافل نہیں جمتیں، اب کوئی کسی سے مصافحہ نہیں کرتا، اب کوئی کسی سے بغل گیر نہیں ہوتا۔
مہمان نوازی کی روایت تو بالکل اٹھ ہی گئی ہے۔ لاک ڈاون کی وجہ سے نہ کوئی کسی کے یہاں جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی کسی کو اپنے یہاں مدعو کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ رشتے داروں کا رویہ بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اب کوئی کسی کو پہچانتا نہیں۔ یہ تو بالکل میدان حشر جیسی کیفیت ہوئی کہ جہاں نہ تو والدین اپنی اولاد کو پہچانیں گے او نہ ہی اولاد اپنے والدین کو۔ نہ ماں اپنے بچے کو نہ بچہ اپنی ماں کو۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔ آج کچھ اسی طرح کی صورت حال ہے کہ کوئی کسی کی پرسش کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر کوئی دوست کسی مصیبت میں ہے تو کوئی دوڑ کر اس کی اشک شوئی کرنے نہیں جاتا۔
حد تو یہ ہے کہ عبادتوں کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔ حالانکہ عبادت ایک ایسی چیز رہی ہے کہ اس میں ذرہ برابر تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ لیکن آج حالات کے تقاضے نے عبادت کے طریقے میں بھی بنیادی تبدیلیاں کر دی ہیں۔ چونکہ انسانی جان کی قیمت سب سے زیادہ ہے اور جان جانے کا خطرہ ہو تو حرام شے بھی کم از کم اتنی کھانے کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ جان بچ جائے۔ اسی جان کو بچانے کے لیے عبادت کے طریقے میں زبردست تبدیلی کی جا رہی ہے۔
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ مسلمانان عالم کے لیے سب سے اہم مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی ماہ مقدس میں اللہ کا کلام جسے ہم قرآن مجید کہتے ہیں، زمین پر اتارا گیا۔ اس ماہ کی عبادت دیگر تمام مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ رمضان کا مہینہ ماہ صیام ہے۔ یعنی پورے مہینے روزے رکھے جاتے ہیں اور نماز تراویح کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں پوری دنیا کے مسلم معاشرے پر ایک عجیب و غریب روحانیت طاری ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کا کوئی معاشرہ ایسا نہیں بچتا جہاں لوگ روزوں، افطار پارٹیوں اور تراویح کا اہتمام نہ کرتے ہوں۔
کروناوائرس اور اس کے نتیجے میں نافذ لاک ڈاون نے اس ماہ کی عبادتوں اور اس کے معمولات کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ کبھی رمضان المبارک میں لوگ مسجدوں میں نہیں جائیں گے بلکہ گھروں میں نماز اور تراویح کا اہتمام کریں گے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ مسجدوں میں زیادہ سے زیادہ حاضری کی تلقین کرنے والے اب سختی کے ساتھ یہ ہدایت جاری کریں گے کہ مسجدوں کا رخ نہ کریں۔
کیا کسی نے سوچا تھا کہ رمضان المبارک میں نماز تراویح کے دوران قرآن مجید مکمل کرنے (پڑھنے یا سننے) سے بھی ایک بہت بڑی اکثریت محروم ہو جائے گی۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ اگر کہیں مسجدوں میں لوگ اکٹھا بھی ہوں گے تو بالکل نئے طریقے سے۔ یعنی مل مل کر صف بندی کرنے کے بجائے چار چار اور چھ چھ فٹ کی فاصلے پر کھڑے ہوں گے۔ کیا کسی نے سوچا تھا کہ نماز میں مل مل کر کھڑے ہونے کی تلقین کے بجائے دور دور کھڑے ہونے کی تلقین کی جائے گی۔
ایسی بہت سی انہونی باتیں ہیں جو اس رمضان میں ہو رہی ہیں۔ ہندوستان میں تمام مسالک کے علمائے کرام و مفتیان عظام نے ایک اپیل جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ لاک ڈاون کے دوران مسجدوں کا رخ نہ کریں بلکہ اپنے اپنے گھروں میں نماز تراویح کا اہتمام کریں۔ پاس پڑوس کے گھروں سے لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
بازاروں میں جانے سے حتی الامکان بچیں اور خاص طور پر افطاری سے قبل خریداری کی بھیڑ سے گریز کریں۔ رمضان کی راتوں میں ادھر ادھر گھومنے سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔ اعتکاف رمضان المبارک کی ایک خاص عبادت ہے۔ لوگ آخری عشرے میں دنیا جہان سے کٹ کر مسجدوں میں گوشہ ¿ تنہائی میں رہتے ہیں اور اپنے رب کی زیادہ سے زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ اس رمضان میں گھروں میں اعتکاف کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ادھر بعض دوسرے ممالک میں جہاں رمضان میں مسجدوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے وہیں بہت سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں نماز تراویح کا اہتمام مسجدو ںمیں تو ہوگا لیکن سماجی فاصلے کے اصول کو قائم رکھنے کے ساتھ۔ لوگ دور دور کھڑے ہوں گے۔ دو مصلیوں کے درمیان دو مصلیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ چھوڑنی ہوگی۔ اس سلسلے میں ایک چارٹ جاری کیا گیا ہے۔
مسجدوں اور امام بارگاہوں میں قالین اور دریاں اٹھا دی جائیں گی تاکہ لوگوں کی سانس ان میں جذب ہو کر دوسروں کو متاثر نہ کرے۔ چٹائیاں بچھائی جا سکتی ہیں۔ فرش کی جراثیم کش ادویات سے اچھی طرح دھلائی کی جائے گی۔ پچاس سال سے اوپر اور دس سال سے کم کے لوگوں کو مسجدوں میں آنے پر پابندی ہوگی۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے وضو کرکے آئیں۔ مسجد میں نہ تو کسی سے مصافحہ کریں نہ معانقہ۔
بعد نماز گروپ بنا کر نہ بیٹھیں بلکہ نماز ختم ہوتے ہی فوری طور پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو جائیں۔ مسجدو ںکے باہر بھیڑ نہ لگائیں۔ اگر مسجد یا امام بارگاہ میں صحن بھی ہے تو اندر نماز کی ادائیگی کے بجائے صحن میں ادائیگی کی جائے۔ اس طرح بیس نکات پر مشتمل ایک قرارداد جاری کی گئی ہے جس میں رمضان المبارک میں مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کے طریقے بتائے گئے ہیں۔
بعض دوسرے ممالک میں تو رمضان کے پہلے سے ہی سماجی فاصلے کے ساتھ نمازیں قائم کی جا رہی ہیں۔ یعنی امام کے پیچھے چھ فٹ کے بعد ایک مصلی کھڑا ہوگا اور جتنے بھی مصلی ہوں گے سب چھ چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا میں اس قسم کی تصاویر موجود ہیں۔
کیا کسی نے کبھی سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا ہو رہا ہے اور کروناوائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے ہو رہا ہے۔اللہ تعالی ہم تمام

Check Also

خلیفہ سوم حضرت سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال حضرت عثمان غنی رضی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: