Home / کالم / دیوارِ مہربانی سے نیکی کی ٹوکری!

دیوارِ مہربانی سے نیکی کی ٹوکری!

(شیخ خالد زاہد)

اللہ نے کائنات خوبصورت بنائی ، اور اس کائنات کو خوبصورت لوگوں سے مزین کیاجنہیں ناصرف خوبصورت نین نقوش دیئے بلکہ خوبصورت ترین دل بھی دئیے یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے دم سے اللہ کریم نے کائنات کو سجائے رکھا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خوبصورتی کا حقیقی تعلق نیکی کرنے والوں سے ہے ۔ گوکہ نیکی کرنے والوں کی بہتات ہے ، لیکن یہاں اسکی وضاحت نہیں کرنا چاہتا کیونکہ سماجی ذراءع ابلاغ کے توسط سے نیکی کرنے والوں تک با آسانی پہنچا جاسکتا ہے کہ انکی نیکیاں کس کس طرح سے لوگوں کی عزت نفس کا جنازہ نکال رہے ہیں ۔ حالات کی سنگینی کے باوجود سفید پوش لوگ ایسے خوفناک نیکی کرنے والوں کے خوف سے اپنے گھروں سے نہیں نکل رہے ۔ یہ مضمون خوبصورتی پر مبنی ہے یہاں کسی بدصورتی کا تذکرہ نہیں چاہئے ۔

2014 میں سماجی ذراءع ابلاغ کے توسط سے یہ اطلاع دنیا جہان تک پہنچی کے سعودی عرب کے ایک شہری نے ایک فریج اپنے گھر کے باہر نصب کیا اور اپنے آس پڑوس والوں کو آگاہ کیا کہ وہ اپنے گھر کا اضافی کھانا اس فریج میں رکھدیں تاکہ ضرورت مند لوگ اپنی ضرورت بغیر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے پوری کرسکیں ۔ اس سعودی شہری کے عمل کو سماجی ذراءع ابلاغ پر بہت سراہا گیا اور اس کی تقلید میں دنیا جہان میں اس قسم کے کام کئے گئے ۔ گزشتہ دنوں ایک بہت اچھی روایت ہمارے معاشرے کا حصہ بنی جسے دیوارِ مہربانی کا نام دیا گیا ، دیوار مہربانی کا تصور ایران سے پاکستان 2017 کے آخر میں آیا ۔ یہ ایک ایسی دیوار ہے کہ جس کا بنیادی مقصد لوگوں کو تن ڈھانپنے اور موسموں کی تلخیوں سے محفوظ رکھنے کا انتظام کیا جاسکے ، اس دیوار پر لوگ ملبوسات ٹانگ دیتے ہیں اور یہ کپڑے جس کسی ضرورت مند کی ضرورت ہوں وہ وہاں سے اتار کر اپنے استعمال کیلئے لے جائے ۔ اسطرح سے کسی سفید پوش ضرورت مند کی ضرورت بھی پوری ہوجاتی ہے اور اسکی عزت نفس بھی کسی حد تک مجروح ہونے سے بچ جاتی ہے ۔

سفر ہو، کتابیں ہوں ، واقعات ہوں یا پھر کوئی اچھی سی مختصر فلم ہو سبق ضرور ملتا ہے اب یہ آپ پر ہے کہ آپ میں جذب کرنے کی کتنی صلاحیت ہے ۔ ذراءع ابلاغ کے توسط سے آج ایک ایسی ہی خوبصورت اور بھرپور سبق آموز مختصر فلم دیکھی کہ جس کا عنوان تھا نیکی کی ٹوکری ، بھلا نیکی کو بھی چھوٹی سی ٹوکری میں رکھا جا سکتا ہے یہ پھیلا سوال تھا جو ذہن میں آسکتا تھا ۔ یہ مختصر فلم ہمارے بہت ہی پیارے دوست ملک ترقی سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ ترک بہت روشن تاریخ رکھتے ہیں ۔ یہ کہانی ایک تندور کی ہے جہاں روٹی لگائی جاتی ہے اس تندور والے نے ایک ٹوکری جسے وہ نیکی کی ٹوکری کہتا ہے لٹکائی ہوئی ہے اور جو کوئی بھی اسکے پاس روٹی لینے آتا ہے وہ اس سے چار روٹی لیتا ہے تو دو روٹی نیکی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے اسی طرح جب کوئی ضرورت مند تندور پر آتا ہے تو تندور والا اسے نیکی کی ٹوکری میں سے اسکی ضرورت کے عین مطابق روٹی دے دیتا ہے ، فلم میں دیکھایا گیا ہے کہ ایک ضرورت مند خاتون روٹی لینے آتی ہیں تو تندور والا اسے چار روٹی دیتا ہے تو وہ دو روٹی واپس کردیتی ہے اور کہتی ہے کہ اسکی ضرورت دو روٹی سے پوری ہوجائے گی ۔

پاکستان میں عبد الستار ایدھی فائنڈیشن ، الخدمت فاءونڈیشن، رمضان چھیپاصاحب (چھیپا فائنڈیشن)، محمد بشیر فاروقی صاحب (سیلانی انٹرنیشنل)، ظفر عباس صاحب (جے ڈی سی)، ڈاکٹر امجد ثاقب (اخوت)یہ وہ چند نام ہیں جو ہمارے ملک کے خوبصورت ترین لوگوں میں شامل ہیں ، ہم انہیں چلتی پھرتی نیکیاں کہہ سکتے ہیں ضرورت مندوں کیلئے جن کے لئے زمین پر یہی سہارا بنے ہوئے ہیں اللہ کے فرشتوں کے جیسے ہیں ۔ بہت سارے انسانیت کے خدمت گزار حادثوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں اور پھر انسانیت کی خدمت پر مامور ہوجاتے ہیں ۔ یہ ہر حال میں انسانیت کی خدمت پر مامور ہیں یہ بھوکوں کو کھانا کھلا رہے ہیں ، یہ بے لباس لوگوں کے تن ڈھاپنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان جیسے لوگوں کی بدولت پاکستان کیسے کیسے حادثوں کو جھیل گیا ۔ آج جب دنیا کے امیر ترین ممالک خدا کی قدرت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوچکی ہے تب بھی پاکستان میں یہ لوگ عوام کو بہت حد تک سنبھالے ہوئے ہیں ۔ یہ جان کر دکھ کیساتھ خوشی بھی ہوئی کہ لوگ راشن لے کر دکانوں پر جا رہے ہیں کہ انکے پاس راشن بہت جمع ہوگیا ہے اسکے بدلے انہیں دیگر اشیاء دے دی جائیں ۔

اللہ تعالی نے دنیا کو ایسے ہی خوبصورت لوگوں کی وجہ سے شاد باد رکھا ہوا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کی سچی اطباع میں اپنا ایک ایک پل گزارتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جو ہر حال میں اللہ کی رضا کیلئے زندگیاں گزارتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دنیا کو اپنا پتہ بھی نہیں چلتے ، ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے دنیا خوبصور ت دیکھائی دے رہی ہے ۔

یہاں جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ ہم سب مل کر اس دنیا کو اپنے ملک کو اپنے شہر کو اپنے علاقے کو اور بھی خوبصور ت بنا سکتے ہیں اگر ہم اس ضرورت مند عورت کی طرح صرف اور صرف اپنی ضرورت کی روٹیاں لیں اور یہ یقین رکھیں کہ جس نے اس وقت روٹی کا بندوبست کر دیا ہے وہ اگلے وقت بھی کردے گا، ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کی ہوس کرنا چھوڑ دیں ، ہم کسی کے مال پر نظریں رکھنا چھوڑ دیں ، مال کی خاطر جھوٹ بولنا چھوڑ دیں ، نفرت کرنا ، دلوں میں بغض رکھنا چھوڑ دیں ، ایک دوسرے کا احترام کریں ، اللہ کی مدد سے دینے والوں کو نوچیں نہیں وہ دینگے انہیں اللہ نے تعینات کر دیا ہے اس کام پر کہ وہ آپ کو دیتے رہیں کیونکہ وہ انکو دے رہا ہے اور دینے والوں کے ایمان کو بھی مضبوط کئے ہوئے ہے ۔ چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے بڑی نیکیاں پیدا ہوتی ہیں ہم نے اپنے معاشرے کو بہت بد نما کر رکھا ہے یہ بہترین وقت ہے کہ رجوع کریں اپنے رب کی طرح اپنے پیارے آقا ﷺ کی طرف کے ہ میں تباہی اور بربادی سے نجات کا شائد اس سے بہترین وقت میسر نا آسکے ۔ ہم سب خوب صورت ہیں بس اپنے ارد گرد نسب کئے گئے یہ بدصورت آئینے توڑ دیں ۔ دل صاف ہوجائینگے تو دنیا اور خوبصورت دیکھائی دینے لگے گی ۔


Regards,

Sh. Khalid Zahid

Check Also

بیروت سانحہ، ایک سازش یا اتفاقی حادثہ

شہباز رشید بہورو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بندرگاہ کے قریب منگل کی شام ایک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: