Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / بہت مصروف رہتے تھے

بہت مصروف رہتے تھے

بہت مصروف رہتے تھے
ہواؤں پر حکومت تھی
تکبر تھا کہ طاقت تھی
بلا کی بادشاہت تھی
کوئی بم لے کے بیٹھا تھا
کسی کے ہاتھ حکمت تھی
کوئی تسخیر کرتا تھا
کوئی تدبیر کرتا تھا
کوئی ماضی دکھاتا تھا
کسی کے ہاتھ فیوچر تھا
سب ہی مصروف تھے ایسے
کہ ایک ہستی بھلا بیٹھے
بہت پرواز کر بیٹھے
خدا ناراض کر بیٹھے😰
اب اس نے منہ جو پھیرا ہے 😰
فقط وحشت کا ڈیرہ ہے
کہ دنیا کی ہر ایک بستی
بھیانک موت چہرہ ہے
خدا منہ پھیر بیٹھا ہے
اب اس کا گھر بھی خالی ہے
قہر دنیا پہ طاری ہے
ابھی بھی وقت ہے لوگو
خدا سے گڑگڑا کر تم
اسے راضی کرو بھائی 😰
وہ جلدی مان جاتا ہے 😰
وہ اب بھی تم کو چاہتا ہے
کہیں پھر دیر ہو جاۓ
زمین ساری پلٹ جاۓ
ابھی بھی وقت ہے لوگو
وہ جلدی مان جاتا ہے
وہ جلدی مان جاتا ہے

Check Also

کارٹون بھی بڑھتی عمر کے اثرات سے متاثر

پبلک حیران۔۔۔۔۔۔کارٹون پریشان مرتبہ فوزیہ وحید اوسلو  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: