Home / کالم / سویڈش پاکستانیوں کا جذبہ ایثار

سویڈش پاکستانیوں کا جذبہ ایثار

عارف محمود کسانہ
بیرون ملک مقیم لوگ اپنے اولین وطن کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں اور ان کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ ان کا وہ ملک بھی ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار ہو۔ اہل پاکستان جہاں بھی رہتے ہیں ان کے دل اپنے ہم وطنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ ہمیشہ ان کی بہتری کے لئے سوچتے اور عملی اقدامات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان اور اہل وطن کی خدمت کا بہترین طریقہ وہاں سماجی بہبود کے کاموں میں حصہ لینا ہے۔بیماری، غربت، جہالت کے خلاف لڑنے والی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ تعاون پاکستان کی سب سے بڑی خدمت اور عظیم عبادت ہے۔ الحمداللہ رب کریم کی توفیق اور احباب کے تعاون سے سویڈن میں پاکستان کے بڑے اور اہم فلاحی اداروں کی بنیاد رکھنے اور ان کے آغاز کی سعادت حاصل ہوئی۔ قرآن حکیم نیکی اور خیرات کے کاموں کو خفیہ اور اعلانیہ دونوں طرح سے کرنے کا حکم دیتاہے۔ انسانی خدمت کا یہ فریضہ جب حکم الہی کی روشنی میں ہو تو وہ ایسی عبادت بن جاتی ہے جو دلوں کو اطمینان، دنیا میں عزت اور آخرت میں باعث نجات ہوتی ہے۔ سویڈن میں پاکستانی خیراتی اداروں کے کام کی تاریخ حالیہ چند سالوں میں شروع ہوئی ہے۔ اگست 2016 عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان تشریف لائیں اور نمل یونیورسٹی کا تعارفی پروگرام منعقد کرنے کا موقع ملا۔اس کے بعد معذور افراد کے لئے مفت وہیل چئیر دینے والی فلاحی تنظیم سکون کا پہلا پروگرام اپریل 2017 میں پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائیٹی سویڈن (PICS) کے تعاون سے ہوا۔ 2017 میں سویڈن میں فرینڈز آف شوکت خانم کینسر ہاسپیٹل کی بنیاد رکھنے کی سعادت ملی۔ فرینڈز آف شوکت خانم کا پہلا پروگرام جون 2017 کو سٹاک ہوم میں ہوا جس میں شفقت کھٹانہ اور شیخ سعیدنے خصوصی معاونت کی۔شوکت خانم کے لئے دوسرا پروگرام اپریل 2018 میں منعقد کروایا جس میں ریما خان خصوصی مہمان تھیں اور وہ پروگرام بہت کامیاب رہا۔ شوکت خانم کے لئے فنڈ ریزنگ کے لئے تیسرا پروگرام اپریل 2019 میں جس میں شہریار منور اور مایہ علی شریک ہوئیں۔بھمبر آزادکشمیر میں قائم چنار ڈائیلسسز سینٹر جو تمام مریضوں کو مفت سہولت فراہم کررہاہے اس ادارہ کے لئے بھی سویڈن میں ہماری کمیونیٹی نے اپنے عطیات جمع کرائے۔
دنیابھر میں قرضہ حسنہ دینے، غریبوں کی فلاح و بہبود اور فروغ تعلیم میں اخوت فاونڈیشن کی خدمات سے کون آگاہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب جب مارچ 2017 میں پہلی مرتبہ سٹاک ہوم تشریف لائے تو ان سے سفیر پاکستان طارق ضمیر صاحب کے گھر پر تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کو سویڈن میں قائم اور منظم کرنے کی دعوت اس دلنشین انداز میں دی کہ انکار کے سوا کوئی اور راستہ نہ تھا۔ وہ دن اور آج کا دن، بس اخوت کا پیغام رگ و جاں میں دوڑنے لگا اور ہر وقت بس یہی دھن سوار ہوگئی۔ شوکت خانم کی انتظامیہ سے سویڈن میں مزید کام ذمہ داری نبھانے سے معذرت چاہی۔ ان تمام احباب اور سویڈن میں اپنی کمیونیٹی کا بے حد شکریہ جنہوں نے ہر مرحلہ پر بھرپور تعاون کیا۔ یوں انسانی خدمت کے ایک عظیم ادارہ شوکت خانم کو سویڈن میں متعارف اور تین سال بڑے عوامی پروگرام منعقد کروانے کے بعد یہاں اخوت کے سفر کا آغاز کیا۔ یہ انسانی خدمت کا سفر ہے جس کے نام بدلتے رہتے ہیں بقول رضی اختر شوق ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
2018 میں اخوت کو سویڈن میں رجسٹر کروایا گیا اور یوں یہ پاکستان کا واحد چئریٹی ادارہ ہے جو سویڈش حکومت کے پاس رجسٹر ہے۔ یہ سب ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے اوراخوت سویڈن کے بورڈ کے اراکین، معاونین، کاروباری طبقہ، خواتین غرض پوری کمیونٹی کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب تین مرتبہ سٹاک ہوم تشریف لائے اور اخوت کے میثاق مدینہ پر مبنی پیغام کو سویڈن میں عام کیا۔اخوت سویڈن کا پہلا باقاعدہ پروگرام 9 مارچ 2019 کوسٹاک ہوم میں ہوا جس میں حمزہ علی عباسی نے شرکت کی۔ یہ پروگرام بہت کامیاب رہا اورسویڈن میں اخوت کا پیغام خوب پھیلنا شروع ہوا۔ اخوت سویڈن کی رکنیت حاصل کرکے ماہانہ عطیہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سویڈن کے ہر شہر اور پاکستان کے ہر علاقہ کے لوگ اس قافلہ میں شامل ہیں جن میں ہمارے پاکستانی مسیحی بھائی بھی شامل ہیں۔
اب اخوت کا سالانہ فنڈریزنگ پروگرام 14 مارچ کو سٹاک ہوم میں منعقد ہورہا ہے جس میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ گائیک رفاقت علی اور ان کے بیٹے بخت علی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ اخوت فاونڈیشن کے چئیرمین ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب اس پروگرام میں مہمان خصوصی ہوں گے دیگر مہمانوں میں سویڈن کے سابق وزیر مہمت کپلان ہوں گے۔ اس پروگرام میں داخلہ مفت ہے اور عوام میں شرکت کے لئے بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اسی نوعیت کے پروگرام13 مارچ کو کوپن ہیگن اور 15 مارچ کو اوسلو میں منعقد ہورہے ہیں۔ اسکینڈے نیویا مقیم ہماری کمیونٹی درد دل اور پا کستان کے مستحق لوگوں کی امداد کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتی ہے اور وہ اخوت کے ان پروگراموں میں بھرپور شرکت کرکے پاکستان سے بیماری، غربت اور جہالت کے خاتمہ میں اخوت کا ساتھ دیں گے۔ جو فلاحی ادارے اور تنظیمیں مستحق اور ضرورت مندوں کی مدد اور بحالی کے لئے کام کررہے ہیں ہمیں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔انسانیت کی خدمت بہت عظیم عبادت ہے اور یہ ہماری زندگی کا نصب العین ہونا چاہیے۔ یہ ایسی نیکی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کو تمام پریشانیوں میں ڈھال کا کام دے گی۔ دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرنا اور اس کے حل کے لئے کوشش کرنا معراج انسانیت ہے بقول خواجہ میر درد
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں

Check Also

کیا کروناوائرس عذاب الٰہی ہے؟‎

سہیل انجم اس وقت پوری دنیا پر کروناوائرس کا خوف چھایا ہوا ہے۔ چین سے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: