Home / کالم / کیا ناروے میں بچے برفانی بھالو پہ بیٹھ کر اسکول جاتے ہیں؟

کیا ناروے میں بچے برفانی بھالو پہ بیٹھ کر اسکول جاتے ہیں؟

شازیہ عندلیب
تازگی کسے اچھی نہیں لگتی،چاہے وہ چہرے پہ پھیلی ہو،صبح نو کی ہو، آپکی خوابگاہ کی کھڑکی سے آنے والے تازہ ہوا کے جھونکے کی یا پھر تازہ کھلتے پھو ل کی ہو۔اسی طرح تازہ نرم گرم برف کے گرتے پھول طبیعت میں عجیب سرشاری کی کیفیت دوڑا دیتے ہیں۔اگر آپ کے من میں بھی تھوڑی سی تازگی ہو اور ایسے میں باہر تازہ ہوا برفباری کے ہمراہ چل پڑے تو سونے پہ سہاگہ ہو جائے۔اس وقت برف کے ذرّات سفید ریت کی مانند چہار سو بکھرنے لگتے ہیں اور چند لمحوں میں زمین سفید ریت کے ذرّات سے پر صحراء کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔یہ خوبصورت منظر پرندے اپنے گھونسلوں میں دبک کر دیکھنے لگتے ہیں۔جبکہ خوش ذوق افراد کافی اور چائے کی چسکیوں کے ساتھ اپنے کمروں یا دفاتر کی کھڑکیوں کے شیشوں کے پار سے برفباری کو دیکھ کر لطف اندوزہوتے ہیں۔گرتی برف کے ساتھ مست ہوا برفانی پھولوں کو کالی سیاہ تارکول کی سڑک پر گول بگولوں کی شکل میں اڑاتی ہے اور گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں یہ بگولے صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ برف کالی تارکول کی سڑک پہ سفید پریوں کی مانند اڑتی پھرتی ہے۔بس بریک ایکدم سے نہ لگائیں ذرا احتیاط سے دھیرے دھیرے لگائیں ورنہ گاڑی پھسلنے کا ڈر رہتا ہے۔برفباری کے وقت آپ چاہے گھر پہ ہوں یا پھر کام پہ اس سے تھوڑی سی دیر کیلیے لطف اندوز ضرور ہوں۔یہ لطف آپکی زندگی میں میں تازہ خون بن کر ایک نیا جوش ا و ر ولولہ جگا ئے گا۔آپ کو پھر سے زندگی کی راہ گزر پہ چلنے کے لیے تازہ دم کر دے گا۔
جب جب برف پھول بنتی ہے
کھیلنے کو پھولوں سے زندگی مچلتی ہے
موسموں کی مستی میں سنگ سنگ چلتی ہے
مست حسین ہواؤں میں جھوم جھوم ہلتی ہے
زندگی ہواؤں او ربہاروں سے بھی ملتی ہے
برف کی اس پذیرائی اور خوش آمدیدی سلوک پہ برف آپ کو سارے موسم سرماء کے سیزن میں تنگ نہیں کرے گی۔یہاں تک کہ اگر آپکی ملاقات برفانی بھالو سے ہو جائے تو وہ بھی آپ سے سلامی لیتا ہوا جائے گا۔ناروے کے شہر لانگ بیّن میں انسانوں سے ذیادہ برفانی بھالو بستے ہیں۔لیکن پلیز اگر آپکا موڈ وہاں جانے کا ہو تو قانون کی پابندی ضرور کریں ورنہ خیر نہ ہو گی۔اس لیے کہ وہاں قانونی طور پر گھر سے باہر آپ بندوق کے بغیر نہیں جا سکتے۔اس لیے کہ اگر سر راہ آپکی مڈ بھیڑ کسی بھوکے مقامی برفانی بھالو سے ہو جائے تو اس سے بچنے کے لیے بندوق کی ضرورت ہے۔اسی طرح پچھلے برس چار برطانوی سیّاح لڑکے اسی شہر کی سیر کو نکلے تو ایک برفانی بھالو نے ان پہ حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ان کے پاس ہتھیار نہیں تھا۔لڑکے زخمی ہو گئے۔انہیں ہیلی کاپٹر ایمبولینس کے ذریعے طبی امداد پہنچاائی گئی۔اس لیے اس شہر میں آپ ضرور احتیاط کریں۔باقی اس کے علاوہ پورے ناروے میں انسان ہی بستے ہیں۔اور بچے بھالو پہ نہیں بلکہ گاڑیوں اور ٹرینوں میں یا پھرپیدل ہی اسکول جاتے ہیں یہ بات اس لیے بتانا ضروری ہے کہ ایک ترکش بچی نے پچھلے دنوں یہ سوال کیا تھا کہ کیا ناروے میں بچے برفانی بھالو پہ بیٹھ کے اسکول جاتے ہیں؟ ناروے کی ایک مشہور پینٹنگ میں ایک بچی آپ کو برفانی بھالو پہ بیٹھی نظر آئے گی۔گمان غالب ہے کہ اس ترکش بچی نے بھی وہی انعام یافتہ پینٹنگ دیکھ لی ہو گی۔نارویجن دنیا بھر میں سب سے ذیادہ تیز اسکیٹر مانے جاتے ہیں۔بلکہ انکا دعویٰ ہے کہ ہر نارویجن بچہ پیدائشی اسکیٹر ہوتا ہے۔
برفانی علاقوں کے مکین تو اس قدر شوقین ہوتے ہیں کہ اس موسم میں اسکیٹنگ کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔اگر انکے علاقے میں برف کم پڑے یا معمول سے دیر ہو جائے تو پھر یہ لوگ برف کے لیے پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے میں دیر نہیں کرتے۔یہ لوگ پہاڑوں پر بنی ہٹس میں ویک اینڈ پہ جاتے ہیں اپنی فیملی یا دوستوں کے ساتھ اور اسکیٹنگ کرتے ہیں۔اسکولوں میں بچے برف پہ واک کے لیے جنگلوں میں اپنے اساتذہ کے ساتھ جاتے ہیں اور برفانی جنگلوں میں آگ جلا کر ہاٹ ڈوگس گرل کرتے ہیں اور بریڈ سینک کر کھاتے ہیں۔
ایسے میں اگر آپ ایک مگ کافی یا چاکلیٹ ملک پی کر فل برفانی ڈریس می پیک ہو ک واک پہ نکل آئیں تو یہ ایک خوشگوار اور بے حد پر لطف واک ثابت ہو گی۔قدموں تلے ریت کسی ساحلی ریت کی مانند پھسلنے لگتی ہے۔مم۔۔۔ مگر احتیاط سے کہیں آپ پھسل کے گر نہ جائیں۔ہاں اگر جوتے برفانی سول کے ہیں، سر پہ اونی ٹوپی گلے میں مفلر گرم انڈر گارمنٹ س کے ساتھ ساتھ دبیز ائیرلاک جیکٹ یا گرم سمور کا اکوٹ جسم پہ ہے تو پھر تو اس واک سے لطف اندوز ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پھر تومزیدار واک کی گارنٹی ہے۔ورنہ اگر آپ تازہ برف پہ سے پھسل گئے تو پھر میرا قصور نہیں۔۔۔
ہاں اگلی مرتبہ آپ کرسٹل واک پہ چلنا۔۔۔۔۔اس وقت تک کے لیے خدا حافظ

Check Also

عید اس بار دبے پاؤں گزر جائے گی .

— مشرف عالم ذوقی عید کا دبے پاؤں گزر جانا حادثہ نہیں ہے ، حادثہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: