Breaking News
Home / کالم / / تو پھرکمزورذہن سے مضبوط دماغ کیسے جنم لیتے ہیں؟:ڈاکٹر شہلانواب

/ تو پھرکمزورذہن سے مضبوط دماغ کیسے جنم لیتے ہیں؟:ڈاکٹر شہلانواب

مذہبی ڈسکورس میں عورتوں کے تعلق سے جو بیانیے ہیں ان سے تشکیل شدہ معاشرے میں مردوں کی برتری اور بالادستی ہی نظر آتی ہے۔ عمل اور نظریے کی سطح پر بھی تضاد ہے۔مرد حاکم تو عورت محکوم ، مرد غالب تو عورت مغلوب، مسیحی اور اسلامی بیانیے میں بھی زیادہ فرق نہیں ہے۔ مردانہ تسلط کا عکس بیشتر تصورات میں ملتا ہے۔ مردانہ سماجی ساخت میں عورت کی حیثیت ثانوی اور فروعی Peripheralہے مساوی نہیں۔ جب کہ زیادہ تر مذاہب مساوات اور حقوق نسواں کی بات کرتے ہیں لیکن تصورات اور عملی اطلاقات میں بہت فرق ہے۔ صرف تصورات اورنظریات سے عورت کی تقدیر یا تصویر نہیں بدل سکتی۔ اس لئے آج کے عہد میں hegemonic orthopraxis کو چیلنج کرنے والی آوازوں کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر عورتوں کو اس کا جائز مقام نہیں مل سکتا۔
آج تانیثیت کے حوالے سے جتنے بھی ڈسکورس ہیں وہ صرف تخیلاتی و تصوراتی ہیں۔ اس لئے زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے یہ فیمنزم حقیقت نہیں Oxymoron ہے۔ اس لئے اب تانیثیت پر بھی سوالات کھڑے کیا جارہے ہیںکہ کیا عورتوں کے تعلق سے جو باتیں ہیں ان میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ ہے۔
کیا یہ حقیقت ہے کہ عورتوں کو مکھی جتنی بھی آزادی نہیں ہے۔ جیسا کہ کشور ناہید نے اپنی نظم ’قید میںرقص‘میںشکوہ کیا ہے۔
’’سب کے لئے ناپسندیدہ اڑتی مکھی
کتنی آزادی سے میرے منہ اور میرے ہاتھوں پر بیٹھتی ہے
اور اس روز مرہ سے آزاد ہے جس میں میں قید ہوں
میں توصبح کو گھر بھر کی خاک سمیٹی جاتی ہوں
اور میرا چہرہ خاک پہنتا جاتا ہے
دوپہر کو دھوپ اور چولہے کی آگ
یہ دونوں مل کر وار کرتی ہیں
گردن پہ چھری اور انگارہ آنکھیں
یہ میرا شام کا روز مرہ ہے
رات بھر شوہر کی خواہش کی مشقت
میری نیند ہے
میرا اندر تمہارا زہر
ہر تین مہینے بعد نکال پھینکتا ہے
تم باپ نہیں بن سکے
میرا بھی جی نہیں کرتا کہ تم میرے بچے کے باپ بنو
میرا بدن میری خواہش کا احترام کرتا ہے
میں اپنے نیلونیل بدن سے پیار کرتی ہوں
مگر مجھے مکھی جتنی آزادی بھی تم کہاں دے سکوگے
تم نے عورت کو مکھی بنا کر بوتل میں بند کرنا سیکھا ہے۔‘‘
یا پھر عورت اتنی آزاد ہو چکی ہے کہ وہ تمام ورجناؤں کو توڑ کر مردوں سے کہیں زیادہ اپنے برہنہ جسموں کی نمائش کر رہی ہیں۔کنڈوم کا اشتہار یا کاماسوترا کا کردار بنتی جا رہی ہیں۔
یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا عورت ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہے۔ نئی سائنسی تحقیقات کے مطابق عورتیں ذہنی اور جسمانی طور پر مردوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ عورتوں میں مدافعت اور مزاحمت کی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔قحط سالی اوروبائی امراض Epidemicsجیسے مشکل حالات میں عورتوں کی مدت حیات زیادہ اور شرح اموات کم ہوتی ہے۔ حمیر ہاشمی نے اپنے مضمون ’’نسوانیات اور نفسیات ‘‘میں لکھا ہے۔
’’تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑی عمر میں ایک اوسط درجے کی عورت عام طور پر اس سے زیادہ زندہ رہتی ہے۔ جتنا کہ ایک مرد رہتا ہے۔ بعض ممالک میں یہ فرق سات سال تک کا بھی پایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مردوں کی شرح اموات بیوہ عورتوں کی شرح اموات سے خاصی زیادہ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جسمانی طور پر عورت کی نسبت مرد دباؤ اور فشار کے معاملے میں زیادہ غیر محفوظ اور ضرب پذیر ہوتا ہے۔ پھر صنف نازک کون ہے؟ جنسیت کے معاملے میں طویل عمری کے لحاظ سے مختلف بیماریوں کی مدافعت اور دباؤ کو برداشت کرنے کے سلسلے میں بظاہر عورت ہی ’’صنف قوی‘‘ دکھاتی دیتی ہے۔‘‘
یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو عورت نئے وجود کو جنم دیتی ہے اور درد زہ جیسی ناقابل برداشت اذیت برداشت کرتی ہے وہ جسمانی طور پر کیسے کمزور ہو سکتی ہے۔ ذہنی طور پر دیکھا جائے تو امتحانات کے نتائج بھی یہ ثابت کرتے ہیں کہ لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیاں ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہیں۔ عورتوں میں ادراکی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ۔ برین میٹابولزم پر تحقیق کے دوران بہت سے نئے حقائق سامنے آئے ہیں۔ اس لئے ذہنی طور پر عورتوں کو کمزور سمجھنا ایک متھ لگتا ہے۔
اس لئے عورتوں کی طرف سے صنفی مساوات اور مساوی مواقع کا مطالبہ غلط نہیں ہے۔ یہاں جنس اور صنف کے فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جنسی اعتبار سے عورت مرد کے درمیان مساوات اس لئے ممکن نہیں ہے کہ دونوں میں ایک حیاتیاتی فرق ہے۔ اعضاء اور جوارح کی یکسانیت بھی نہیں ہے لیکن صنفی اعتبار سے مساوات اس لئے ممکن ہے کہ صنف کا تعین سماج اور ثقافت کرتی ہے۔ اور یہ چیزیں سماجی طور پر وضع کی جاتی ہیں۔ ان کا حیاتیاتی فرق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صنفی کردار کا تعین چونکہ معاشرہ کرتا ہے اس لئے صنفی لحاظ سے عورت مرد کے درمیان مساوات ہے اور عورتیں جنسی نہیں صنفی مساوات کا ہی مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ اس لئے مرد اساس معاشرے کو چاہئے کہ عورتوں کو صنفی اعتبار سے مساوی سمجھیں اور ان کے حقوق عطا کریں تاکہ عورتوں کو اپنی کمتری کا احساس نہ ہو۔
ڈاکٹر شہلا نواب عورتوں کے مسائل اور متعلقات سے جڑی رہی ہیں۔ ماہنامہ محفل صنم کے ذریعہ بھی انہوں نے بیداری ٔ خواتین کا پرچم بلند کیا تھا۔ اور عورتوں پر ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بھی اٹھاتی رہی ہیں۔ انہیں عورتوں کے جملہ مسائل کا ادراک اور احساس بھی ہے اور صحیح سیاق و سباق میں وہ عورتوں کے مسائل کو سمجھنے کی قوت بھی رکھتی ہیں اس لئے ان کے جوابات میں Gender Bias کی بو نہیںہے۔ انہوں نے معتدل اور متوازن اور معقول انداز فکر اختیار کیا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتی ہیں کہ مرد اور عورت کے درمیان تفریق سے ہی غیر ضروری مسائل جنم لیتے ہیں اور خلیج بڑھتی ہے۔ جب کہ اس وقت ضرورت ہے کہ دونوں کے درمیان کی دوریوں کو ختم کیا جائے۔ کیو ںکہ معاشرے کے یہ دونوں بہت مضبوط پہئے ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرے کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔ شہلا نواب نے اردو اور سیاسیات سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اردو ہی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ ایل ایل بی کے علاوہ انہوں نے پوسٹ گریجویشن اِن جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن بھی کیا ہے۔اور ان کی ان ڈگریوں کے حصول میں صنفی تفریق جیسی کوئی رکاوٹ نہیں رہی ہے۔ حقانی القاسمی نے ان سے عورتوں کے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی ہے پیش ہے ان سے گفتگو کے کچھ اقتباسات:
س۔کیا آپ gender discrimination میں یقین رکھتی ہیں؟
ج۔قطعی نہیں،نہ ہی کبھی خاندان میں اپنی پرورش کے دوران اس بات کا احساس ہوا کہ اس قسم کی کوئی تفریق بھی ہوتی ہے مگر جب معاشرے میں مختلف میدانوں میںتعلیم کے حصول ،نوکری ،صحافت میں قدم رکھا تب اس بات کا علم ہوا کہ اس قسم کی تفریق بھی پائی جاتی ہے۔
س۔کیا عورت ذہنی اور جسمانی اعتبار سے کمزور ہے؟
ج۔عورت کو جسمانی ساخت کے اعتبار سے کمزور کہا جانا مناسب نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کسی نہ کسی وصف سے نوازا ہے اگر آپ اس کو جسمانی کمزوری کہیں گے تو پھر اس بات کا اعتراف بھی کرنا پڑے گا کہ عورت کے مقابلے مرد جذباتی طور پر کمزور ہوتے ہیں ۔ عورت کی جسمانی سا خت کے علاوہ دماغی طور پر اس کو کمزور کہنا بھی غلط ہے کیا ایسا کوئیIQٹیسٹ یا اس کی رپورٹ ہے جو اس بات کو ثابت کرسکے کہ عورت دماغی طور پر کمزور ہے ۔کہا جاتا ہے ماں کی گود کسی بھی بچے کی پہلی درسگاہ ہے پھر اس کمزور دماغ درسگاہ سے با صلاحیت ،ہنر مند دما غ دار کیسے پیدا ہوتے ہیں آپ کے سوال کا یہی جواب ہے۔
س۔اگر نہیں تو پھر دو عورتو ںکی گواہی ایک مرد کے برابر کیوں مانی جاتی ہے؟
دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر ماننے کی وجہ یہ دلیل نہیں بن سکتی کہ عورت ذہنی یا جسمانی طور پر کمزور ہے۔ اسلام مذہب انسانی زندگی کا مکمل احاطہ ہے اور اس بات کا جواز میں یہ مانتی ہوں کہ اگر شرعی طور پر ایک مرد کے برابردو عورتوں کی گواہی مانی جاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دوران حمل و ماہواری میں عورت کے جسم میں بہت سی تبدیلیا ں ہوتی ہیں اور اس کا اثر اس کی یادداشت یا قوت حافظہ پر پڑنا یقینی ہے ۔ اس کا مقصد یہ قطعی نہیں کہ وہ ذہنی طور پر کمزور ہوجاتی ہے ہوسکتا ہے کوئی بات بھول جائے یا ذہن سے نکل جائے اور وہ صرف توجہ کا مرکز بننے یا شرمندگی سے بچنے کے لئے کسی بات میں مبالغے کا سہارا لے اس لئے ایک طرح سے کراس چیک کرلینا مناسب ہے اسی لئے دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر مانی جاتی ہے ۔
س۔ مسلم معاشرے کی خواتین تعلیم صحت اور انصاف کے باب میں دوسروں سے پچھڑی ہوئی ہیں ۔
ج۔ سوال صرف مسلم معاشرے کا ہی نہیں ہے ہر جگہ کی خواتین کا کم و بیش یہی حال ہے۔ اسلام مذہب تعلیم پر زور دیتا ہے ۔تعلیم حاصل کرنا سب پر فرض ہے اقرا کا درس دیتا ہے جب ہم احکام ِ خداوندی نہیں مانیں گے تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو یہ حال ہونا فطری ہے۔
س۔ کیا دیہی خواتین اپنے حقوق، اختیارات اور فلاحی اسکیموں سے آگاہ ہیں؟
ج۔ جہاں تک آگاہ ہونے کا تعلق ہے شہری خواتین کا بھی یہی حال ہے یہ بات صرف دیہی خواتین تک محدود نہیں ہے بات تعلیم کی ہے جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی سب اسکیمیں بیکار ہیں۔
س۔کیا social convertism عورتوں کی تعلیم و ترقی اور آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟
نہیں عورتوں کی تعلیم و ترقی کے راستے میں اگر کوئی چیز رکاوٹ ہے تو وہ صرف ان کی اپنے تئیں سوچ ہے اگر انہوں نے خود اپنے لئے اپنی سوچ بدل لی تو کوئی ان کی تعلیم و ترقی کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتا۔
س۔فیمنزم سے عورتوں کو فائدہ ہوا ہے یا نقصان ؟
ج۔سراسر نقصان
س۔کیا مرد کے بغیر عورت کے وجود کو مکمل مانتی ہیں ؟
ج۔عورت اور مرد ہیں تو جہان مکمل ہے اور ان کی تکمیل سے ہی تخلیق کا سلسلہ جڑا ہوا ہے جس کے نتیجے میں قدرت کا حسین تحفہ نئی نسل کی شکل میں سامنے آتا ہے ایک دوسرے کے بغیر نہ یہ مکمل ہیں نہ سماج کی تکمیل ۔
س۔کیایہ سچ نہیں ہے کہ اکیسویں صدی کے اواخر میں رام موہن رائے اور ودیا ساگر کی اصلاحی تحریکوں کے بعد ہی فیمنزم کو آواز ملی؟
ج۔میرا ماننا ہے کہ یہ آواز ہندوستان میں جب ہی اٹھ چکی تھی جب رضیہ سلطان ہندوستان کی پہلی خاتون حکمراں بنیں۔خواتین نے اپنے حق کی لڑائی لڑنا بہت پہلے سے ہی سیکھ لیا تھا راجہ رام موہن رائے اور ودیا ساگر کی کوششوں نے اس کو مزید جلا بخشی ہے۔
س۔ڈپٹی نذیر احمد ،مولوی ممتاز علی، مولانا حالی نہ ہوتے تو کیا عورتیں اپنے حقوق کی لڑائی لڑپاتیں ؟
ج۔عالمی سطح پر بات کی جائے تو خواتین نے اپنے وجود کے لئے لڑائی اس وقت جیت لی تھی جب پیغمبرمحمدﷺ نے لڑکیوں کے زندہ دفن کئے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور عالم انسانیت کو بتایا کہ عورت کا کیا درجہ ہے۔جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے ان حضرات کی تحریروں نے عورت کے وجود کو سمجھنے کے لئے قلم کے ذریعے ایک نیا نظریہ دیا۔ایک انقلاب پیدا کیا ویسے اگر خواتین کو اپنے درجے اپنی عظمت کا احساس کرانا ہے تو بی بی فاطمہ اور ازواج ِ مطہرات کی زندگی کا مطالعہ اور عمل ہی مشعل ِ راہ ہے۔
س۔عورتوں کے رسائل و اخبارات زیادہ تر مردوں نے نکالے تو پھر حق تلفی کا شکوہ کیوں ؟
ج۔ حق تلفی کا شکوہ کون کررہا ہے اور کس سے کررہا ہے کیا خواتین کے لئے اخبارات و رسائل نکالنے سے ان کے حقوق کی بازیابی ہوجاتی ہے۔اگر میری اس بات کا جواب مل جائے تو اس سوال کا بھی جواب مکمل ہوجائے جب ہم اشتہارات میں خواتین کی تصاویر لگاکر پروڈکٹس مارکیٹ میں لاتے ہیں ان کی پبلسٹی سے جو فائدہ کمپنی کو ہوتا ہے تو کیا عورت کے حقوق کی بازیابی ہوجاتی ہے۔
س۔کوئی تو وجہ ہوگی کہ مردو ں کے حقوق کے لئے confidareنامی تنظیم قائم کرنی پڑی۔جس کے ممبران میں خواتین بھی شامل ہیں۔
ج۔ اس تنظیم میں خواتین کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مردو ںکی حق تلفی ہوتی ہے تو ان کووہاں بھی خواتین کا ساتھ ملتا ہے سماج میں ہر طرح کے لوگ ہیں کہیں مردوں کی حق تلفی ہوتی ہے کہیں خواتین کی ۔ مگر مثبت بات یہ ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سماج کو بدلنے کی مہم میں شریک ہیں۔
س۔کیا عورت وجود کی جنگ لڑتے لڑتے عصمت و وقار کی جنگ ہار چکی ہے۔
سو فیصد اتفاق کرتی ہوں کہ جو خواتین نام نہاد آزادی کے نام پر نعرے لگاتی ہیں اور جو ان کی آواز میں آواز ملاتی ہیں ان دونوں میں ہی بہت فرق ہے نعرہ لگانے والے پارلیمنٹ میں ہیں بڑی بڑی مسندوں پر براجمان ہیں جو ان کی آواز کو تقویت دیتی ہیں آج وہ کہا ںہیں ۔ آج ز یادہ تر عورتیں اپنے وجود کو منوانے کے لئے گھر کی چار دیواری سے نکل تو جاتی ہیں مگر اپنے لئے صحیح اور غلط کا فیصلہ کرپانا ان کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے وہ شہرت اور باوقارشہرت کے فرق کو سمجھ نہیں پاتی ہیں ۔جب عورت گھر کے اندر تھی تو حکمرا ں تھی مگر اب اس حکمراں نے ایک باندی کی شکل اختیار کرلی ہے ایک مشین بن گئی ہے ۔ اس کو گھر کے کچن میں کام کرنا بے عزتی لگتا ہے مگر ترقی کے نام پر بڑے بڑے ریستوراں اور ہوٹلوں میں مسکراہٹ کے ساتھ دوسروں کے سامنے کھانا پیش کرنے میںفخر محسوس ہوتا ہے آخر وہ خود کفیل جوہوگئی ہے۔
س۔ مرد کی آوارگی اور بے راہ روی میں عورت کو کتنا حصہ دار مانتی ہیں؟
ج۔مرد نے تو جنت سے نکلوانے کا الزام بھی عورت کو ہی دیا تھا ۔وہ تو ہر بات کے لئے قصور وار ہے ۔ بیٹا بگڑ جائے تب بھی بیٹی بگڑ جائے تب بھی۔مگر آجکل معاشرے میں کافی تبدیلی آئی ہے اقدار و روایات کے پیمانے بدل چکے ہیں ۔مرد ہو یا عورت اپنی بے راہ روی کے لئے دونوں خود ہی ذمے دار ہیں۔جہاں تک خواتین کا سوال ہے میں صرف اتنا ہی کہنا چاہتی ہوں جب ہم کوئی قیمتی چیز خریدتے ہیں تو اس کو بہت سنبھال کر رکھتے ہیں سونا تجوری میں اور پیتل کچن میں اس لئے کیا قیمتی ہیں یہ وہ خود فیصلہ کرلیں ۔جب ہم بازار سے گوشت خریدتے ہیں تو اس کو تھیلی میں بند کرکے لاتے ہیں اگر کھلا گوشت ہاتھ میں لیکر چلیں گے تو سڑک کے کتے بھی حملہ کردیتے ہیں۔ یہ تو صرف مثال ہے عورت ہو یا مرد سب کو سوچنا ہے کہ عزت بڑی مشکل سے کمائی جاتی ہے اور گنوانے میں ایک پل لگتا ہے ۔اس بے راہ روی کے لئے دونوں کو مل کر سوچنا ہے تب ہی ایک بہتر نسل کی نشونما ممکن ہے۔
س۔کیا آزادی نسواں کے نام پر adultryکو بڑھاوا نہیں مل رہا ہے؟
ج۔سو فیصد اتفاق ۔ چند چالا ک بھیڑیوں نے چندعیار لومڑیوں کا سہارا لے کر آزادی نسواں کا نعرہ لگاکر معصوم عورتوں کو گھر سے نکال باہر کردیا ہے مگر بات یہی ہے کہ عورت کے وقار اور اس کی عظمت کو مجروح کیا جارہا ہے پھر یہی کہوںگی ماڈرن سوسائٹی کے آداب بدل رہے ہیں کبھی آزادی کے نام پر کبھی ترقی کے نام پر۔
س۔آزادی نسواں کے نام پر خواتین دو خانوں میں منقسم کیوں ہیں ؟
ج۔ ہر جگہ ہی تقسیم ہے کیوں کہ نظریہ ایک ہے مگر اس کو حاصل کرنے کے راستے اور کسوٹی الگ الگ ہیں اسی لئے دو نہیں الگ الگ کئی خانوں میں منقسم ہیں ۔
س۔کیا خانگی تشدد مردوں کے خلاف ایک ہتھیار ہے ؟
ج۔ جی ہاں، مگر 90%تک دس فیصد معاملات ایک دم درست ہوتے ہیں ویسے یہ بھی سچائی ہے اصل تشدد کے معاملات عدلیہ تک نہیں آتے۔
س۔ کیا وومن ایمپاورمینٹ کے نام پر مردوں کو مفلوج بنایا جارہا ہے؟
ج۔ ایک حد تک درست ہے ویسے بھی سائیکل یا اسکوٹر کے ایک پہیے میں زیادہ ہوا بھر دی جائے تو جو نتائج ہوتے ہیں وہی آجکل وومن ایمپاورمینٹ کے نام پر سماج کا حال ہے۔
س۔کیا عورتوں کا ایمپاورمینٹ مردوں کا endegermentبنتا جارہا ہے؟
ج۔یقینا مردوں کا ایمپاورمینٹ جیسے خواتین کا endegermentبنا اور اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش پھر وہی صورتحال پیدا کررہی ہے۔
س۔کیا صرف شراب اور سگریٹ نوشی کا عمل عورتوں کواسٹیریوٹائپ سے نکالنے کے لئے کافی ہے؟
ج۔ قطعی نہیں یہ دونوں ہی چیزیں صحت کے لئے نقصان دہ ہیں اور صحت کے لئے نقصاندہ سماج کے لئے صحت مند کیسے ہوسکتی ہیں۔
س۔کیا عورتوں کے objectificationپر عورتوں نے سنجیدگی سے احتجاج کیا ہے؟
ج۔ میںنے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ کچھ عیار لومڑیوں کی وجہ سے یہ صورتحال سامنے آئی ہے اگر اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچ ہی لیا جائے تو تصویر بدل جائے گی اس مسئلے پر عورت کو ہی نہیں مردوں کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کیونکہ اس معاشرے کی ترقی میں دونوں کا ہی اہم کردار ہے۔
س۔کیا سماج میں صرف خواتین ہی harrasmentکا شکار ہوتی ہے؟
نہیں جناب ،عورت، مرد، بوڑھے، جوان ،بچے سب ہی اس کا شکار ہوتے ہیں ۔کسی ایک پر موقوف نہیں ہے۔
س۔کیا آپ کو نہیں لگ رہا کہ جہیز مخالف اور خانگی جنسی تشدد کا قوانین کا بہت غلط استعمال ہورہا ہے؟
ج۔ اتفاق کرتی ہوں اور پہلے ہی کہہ چکی ہوں کہ جو اصل معاملات ہیں وہ عدلیہ تک نہیں پہنچتے ہیں اور صرف دس فیصد ہی معاملات سچے ہوتے ہیں۔
س۔کیا عورتوں کے چست،تنگ اور مختصر لباس کوآپ ترغیبات جنسی میں شمار کرتی ہیں ؟
ج۔ ترغیبات ِ جنسی اچھا لفظ استعمال کیا ہے جناب آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ صرف یہی وجہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو جن ممالک میں خواتین برقع پہنتی ہیں کیا وہاں ایسے واقعات نہیں ہوتے ۔ویسے بھی آجکل تو برقعے کا بھی موٹیفکیشن ہوچکا ہے۔ کچھ حد تک ہوسکتا ہے ایسا ہو جاتا ہو ویسے بھی اگر آپ کو چائے کی طلب لگی ہو اور سامنے کوئی چائے پی رہا ہوتو کیا اس کے ہاتھ سے چائے جھپٹ کر بھاگ جائیں گے۔ جناب یہ ہماری سوچ پر منحصر ہے بس۔ہمارے نفس پر۔
س۔عورت خود ہی commercial proposition کے لئے بیتاب ہے تو پھر مرد معاشرہ پر الزام کیوں ؟
ج۔ یہ سب ہی عورتوں کے لئے نہیں ہے کہیں کہیں مجبوری بھی ہے اس کے لئے بار بار یہی کہونگی جناب ذمے دار دونوں ہی ہیں ۔اور پھر دہراؤنگی سماج میں آداب زندگی تیزی سے بدل رہے ہیں۔سب اپنی اپنی سہولت کے اعتبار سے نئے پیراہن ،نئے رنگ اور نئی خوشبو استعمال کررہے ہیں جناب۔
س۔آج کی عورت بہشتی زیور سے باہر آچکی ہے مگر پھر بھی اس کے ہونٹوں پر بے بسی ،بے کسی اور مظلومیت کی فریاد کیوں ہے؟
ج۔ بہت حد تک ممکن ہے مگر ذرا سا فرق ہے عورتیں دوسری عورتوں کی مظلومیت کی داستان سناکر خود ظالم بن رہی ہیں ۔جیسے سنتے ہو پڑ وس کے فلاں صاحب نے دوسری شادی کی ہے آپ ایسے نہ کرو اس لئے میں یہ سب کررہی ہوں ۔
س۔کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ مردوں کے مقابلے میںعورتیں ان کا زیادہ استحصال کرتی ہیں؟
ج۔سو فی صد درست نہیں ہے آپ کی یہ بات ۔ تناسب جدا ہوسکتا ہے کہیں کم کہیں زیادہ مگر لفظ بمقابلہ مرد زیادہ مجھے مناسب نہیں لگتا ۔
س۔بہو کے ساتھ ساس کا ظالمانہ رویہ بھی اس کی تصدیق کرتا ہے؟
ج۔ ساس بلاوجہ بدنام ہے اب کہا جاتا ہے بہوئیں بہت ظالم ہیں۔ظالم و مظلوم کا رشتہ صرف ساس بہو تک نہیں ہے کہیں بہن بہن پر ظلم کررہی ہے، کہیں ماں بیٹی کے لئے ظالم ہے، جب ایک بہو کیس کرتی ہے تو اس میں ساس اور نند بھی شامل ہوتی ہیں ۔میں نے پہلے بھی کہا ہے صرف چند واقعات کی بناء پر پورے سماج کا تجزیہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
س۔وش کنیا کے باے میں سنا ہے وش پرش بھی ہوتا ہے ؟
ج۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے کہ عورت مظلوم ہے تو ہر مرد ہی وش پرش ہوا۔ ویسے میں نے تو کچھ وش پرش ایسے بھی دیکھے ہیں جنہوں نے سماج کی رگوں سے ظلم و تشدد،بد نظمی ،بدعنوانی کا وش پیا ہے ان کو آپ کس خانے میں رکھیں گے یہ میں نہیں کہہ سکتی۔
س۔زر زمین کے ساتھ زن کو فساد کی جڑکیوں کہا جاتا ہے؟
ج۔انسان قیمتی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے اور عورت کا معاملہ مرد کی عزت کا معاملہ ہے اس کی حفاظت کے لئے وہ ہر حد سے گزر سکتا ہے اب اس کو فساد کی نظر سے دیکھیں یا حفاظت کی۔ اپنی اپنی سوچ ہے۔
س ۔آپ کی ترقی اور کیریر پر ازدواجی زندگی کے کتنے منفی و مثبت اثرات پڑے ہیں؟
ج۔سو فی صد مثبت،میں نے اپنی ڈاکٹریٹ اور ایل ایل بی شادی کے بعد ہی مکمل کی اور میرے شوہر کا کہنا ہے شادی انسانی زندگی کی ضرورت ہے اور ضرورت کبھی ترقی کے راستے میں حائل نہیں ہوتی۔
س۔میاں بیوی کے مابینtoxic relationکے کیا اسباب ہیں؟
ج۔ ایک دوسرے کو نہ سمجھنا اور ایک دوسرے میں صرف خامیاں تلاش کرنا ،معاشرے کی افواہوں کو زندگی کا مقصد بنا لینا جیسے مرد ظالم ہی ہوتے ہیں یا شکی ہوتے ہیں یا عورتیں نا سمجھ ہوتی ہیں یہ کہنے میںتو بہت چھوٹی باتیں ہیں مگر ان کے نتائج بہت خطرناک ہوتے ہیں۔
س۔ کامیاب بیویوں سے مرد کیوں خائف رہتے ہیں؟
ج۔ میں ایسا نہیں مانتی اس بات کو بھی عام نہیں کہا جاسکتا کچھ معاملات میں ہوسکتا ہے ایسا ہو۔کچھ معاملات میں ضرورت سے زیادہ فکر یا دیکھ بھال کو بھی لوگ خوف کا نام دے دیتے ہیں۔
س۔ کیا تنہا عورت اپنی نسائیت کے تحفظ میں کامیاب ہوسکتی ہے۔
ج۔ نہیں اگر وہ کہیں بہک جائے یا بہکنے کا اندیشہ ہو تو اس کی رہنمائی بہت ضروری ہے اور یہ فرض کہیں ماں کو ،کہیں دوست کو اور کبھی شوہر کو بھی نبھانا پڑسکتا ہے۔
س۔من کی کوئی بات جو دنیا سے شئیر کرنا چاہتی ہوں۔
ہاں یہی کہ رشتوں کو صرف حق کی نظر سے نہ دیکھا جائے ان کے فرائض کی بھی شناخت ہو تو زندگی بہت پرسکون اور خوشگوار ہوگی۔اصل سکون چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں ہے۔
س۔آپکی کوئی خواہش کوئی خواب جس کے پورا نہ ہونے کا ملال ہو؟
ج۔ نہیں قطعی نہیں اللہ نے ہر خواہش پوری کی اس کا کرم ہے۔
س۔مساوات کے لئے عورتیں کن محاذوں پر سرگرم ہیں؟
ج۔ ہر بات اب تو محاذ ہے جناب زندگی کو ایک محاذ ہی بنا لیا ہے اور ہر قدم پر یہی سوچ ہے ہم کسی سے کم نہیں تو میرے خیال میں زندگی کا ایسا کوئی شعبہ نہیں جہاں وہ سرگرم نہیں ہیں ۔
س۔عملی طور پر آپ نے حقوق نسواں کے لئے کیا کیا ؟
ج۔ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوں اور یہی کوشش ہے لڑکیوں کوزندگی کے حقائق سے روشناس کراؤں میں نے کئی بار خواتین ریزرویشن بل کی حمایت میں تقاریر بھی کی ہیں اور مظاہرے بھی ۔ مگر اس سوچ کے ساتھ شاید زندگی کو دیکھنے کا اور سمجھنے کا نظریہ بدل سکے اور سب ملکر ترقی کرسکیں ۔
س۔ عورتوں پر جبر کے خلاف کسی مظاہرے میں حصہ لیا ہے۔
ج۔متعدد باراور یہ سوچ کر نہیں کہ سامنے ایک مرد کے خلاف مظاہرہ کرنا ہے بلکہ سماج کے اس طبقے کے خلاف مظاہرہ کیا جو عورت کی عزت نہیں کرتے۔
س۔عورتوں میں ایک دوسرے سے زیادہ حسد ہوتا ہے۔
ج۔نہیں عورت اور مرد دونوں ہی اس میں شامل ہیں ۔کبھی کبھی پروفیشنل جیلیسی مردوں میں زیادہ ہوتی ہے یا کبھی خواتین کے لئے مردوں کے دل میں حسد زیادہ ہوتا ہے۔
س۔مرد عورت پر اعتبار کرے تو کیسے اس کے سامنے راجہ بھرتری ہری کی رانی پنگلہ کی مثال موجود ہے۔
ج۔ مرد کے سامنے بی بی ہاجرہ،بی بی سارہ اور ایسی لاتعداد خواتین کی مثالیں بھی موجود ہیں۔میں وہی کہونگی ایک مثال زندگی کے تئیں نظریات کو مکمل نہیں بدل سکتی۔
س۔کیا بدنامی کے ڈر سے عورتیں چپ رہنا پسند کرتی ہیں ؟
ج ۔جناب عورتیں خاموش ہی کہاں رہتی ہیں کہتے ہیں نہ دو عورتیں اور خاموش یہ ایک لطیفہ ہے۔ ایسا نہیں ہے جہاں جس کو موقع ملتا ہے احتجاج ضرور کرتی ہیں یہ اور بات ہے کہ احتجاج کے انداز جدا جدا ہوتے ہیں۔

Check Also

مشکلیں کچھ بھی نہیں عزم جواں کے آگے

محمد ندیم الدین قاسمی مدرس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد آج ہندوستانی مسلمان تاریخ کے مشکل ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: