Home / کالم / ہندوستان کی تباہ ہوتی معیشت اور ہندوستانی قوم

ہندوستان کی تباہ ہوتی معیشت اور ہندوستانی قوم

تیشہ فکر عابد انور
ہندوستانی عوام کی حالت ستی پر بیٹھنے والی اس عورت کی ہے جواپنے جلنے کے ا نجام سے بے خبر کبھی ہنستی ہے، کبھی روتی ہے، کبھی ہذیانی ہنسی ہنستی ہے، کبھی نیم بے ہوشی کی حالت میں اول جلول بات کرتی ہے، کبھی لیٹ جاتی ہے، کبھی عجیب و غریب حرکت کرتی ہے، کبھی پاگل پن کا مظاہرہ کرتی ہے تو کبھی عجیب سی آواز نکالتی ہے۔ کیوں کہ وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتی، اسے دھتورا یا نشہ آور کوئی چیز پلادی جاتی ہے تاکہ ان کو کوئی ہوش باقی نہ رہے اور جب ارتھی پر جلانے کے لئے بٹھایا جائے تو کوئی مزاحمت نہ کرسکے۔اس کے باوجود اسے بانس سے یا دیگر چیزوں سے باندھ یا دبا دیاجاتا تھاتاکہ وہ ارتھی سے بھاگ نہ جائے۔ بالکل یہی حالت آج ہندوستانی عوام کی ہے جسے مسلم دشمنی، فرضی دیش بھکتی اور ابھی کشمیر سے دفعہ 370اور 35اے کے خاتمہ (جس میں ملک میں کوئی مسلم وزیر اعلی نہیں ہوگا کا دھتورا بھی شامل ہے)کا دھتورا پلادیا گیا ہے۔ اس میں پوری طرح مست ہیں۔ ان کو کوئی فکر نہیں ہے،نہ ہندوستانی معاشرتی یگانگت، قومی یکجہتی، بھائی چارہ، آپسی تعلقات، نہ ہندوستانی معیشت، نہ ہندوستانی کی شبیہ نہ ساکھ کی اور نہ ہی اس کے نتیجے میں ہونے والی کسی تباہی کی فکر ہے۔ ہندوستانی عوام کی اکثریت اسی میں مست ہیں ایک دن ہندوستان’مسلم مکت بھارت‘ بن جائے گا اور مودی اور امت شاہ یہ کارنامہ انجام دے دیں گے۔ وہ کشمیر سے دفعہ 370اور 35اے کا خاتمہ اسی سلسلے میں اٹھایا گیا قدم مانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پورے ملک میں اس کا جشن منایا گیا ہے اور ہمارے پردھان سیوک ملک و بیرون ملک یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ جو کام 70برسوں میں نہیں ہوسکا وہ ہم نے پچاس دن میں کردکھایا۔ یہ بھی قاعدہ کلیہ اور سورج کی طرح سچ ہے کہ تخریب میں وقت نہیں لگتا جب کہ تعمیر میں دس بیس سال لگتے ہیں اور اسے توڑنے میں مہینے دو مہینے۔ ملک کو ایک مضبوط ملک بنانے میں ستر سال لگے اور ملک کو برباد کرنے میں صرف پانچ سال، ملک کی معیشت کو پانچویں پوزیشن پر لانے میں ستر سال لگے اور اسے پانچویں پوزیشن سے ساتویں پوزیشن پر لے جانے پر پانچ سال۔ مغلوں کو متحدہ ہندوستان میں بنانے میں چارسو سال لگے تب جاکر ہندوستان برما سے لیکرافغانستان اور کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک بنا۔ اتنا بڑا ملک بنا کہ جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ متحدہ ہندوستان اوراتنا بڑا ہندوستان بنانے کا سہرا اورنگزیب عالمگیر کے سر جاتا ہے، جس سے ہندوستان کے عوام کی اکثریت نفرت کرتی ہے، ا نہوں نے سیکڑوں مندروں کی نہ صرف تعمیر کروائی بلکہ سیکڑوں مندروں کو جائداد یں بھی عطا کیں تاکہ ان کے اخراجات پورے ہوسکیں، مغلیہ حکومت میں ہندوستانی معیشت کے عروج کا یہ عالم تھا کہ پوری دنیا کی جی ڈی پی کی ایک چوتھائی ہندوستان کی تھی۔ کسی ملک میں یہ کام ہوتا ہے تو وہاں عوام عقیدت و احترام سے سر جھکاتے، ان کے لئے یادگار بناتے لیکن ہندوستانی عوام کی احسان فراموشی دیکھئے ان کے نام پر رکھاگیا روڈ کا نام بھی برداشت نہیں ہوا۔ ہندوستانی عوام کی اکثریت اورنگزیب عالمگیر کو ظالم و جابر اور ہندو مخالف بادشاہ قرار دینے پر تلی ہوئی ہے۔ تصور کیجئے اگر اورنگزیب عالمگیر نے پورے ملک کو ایک ساتھ نہ کیا ہوتا تو آج ہندو حکمرانوں کو حکومت کرنے کے لئے اتنا بڑا ہندوستان ملتا؟ لیکن جب فطرت میں احسان فراموشی ہوتو پھر اس کے لئے کچھ بھی کرلیا جائے بدنامی ہی ملتی ہے جیسی بدنامی آج کل جواہر لال نہرو، کانگریس اورموہن داس کرم چند گاندھی (مہاتما گاندھی)مل رہی ہے۔ نئے ہندوستان کی تعمیر و تشکیل ان کے کردار کی نفی کرنا ہندوستان کی نفی کرنے کے مترادف ہے لیکن ہندوستانی عوام کو فرضی دیش بھکتی اور مسلم دشمن کا دھتورا پلاکر اس قدر بدمست کردیا گیا ہے کہ جو کچھ مودی، امت شاہ، بی جے پی، آر ایس ایس اور اس کی تمام ذیلی تنظیمیں کہہ دیتی ہیں وہ حرف آخر ہوتا ہے۔ اس کے سامنے گیتا کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔مودی، امت شاہ، بی جے پی، آر ایس ایس اور اس کی تمام ذیلی تنظیمیں دلال میڈیا اور مودی دھن پر رقص کرنے والی /والے اینکروں کی مدد سے مغلظات کا دھتورا پلادیا گیا ہے اور یہاں کے عوام کو کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ ورنہ کانگریس کی قربانیوں، اس کی خدمات، جہالت، ترقی سے کوسوں دور، بنیادی سہولت کے فقدان اور تمام طرح کی ترقیاتی ڈھانچوں سے محروم ملک کو پانچوں درجہ کی معیشت بنانے کا احساس کرتے اور جواہر لال نہرو، کانگریس اور مہاتما گاندھی کو گالی نہ دیتے لیکن آج جس کو بھی دیکھیں جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی اور کانگریس کو کوس رہا ہے اور ہر مسائل کے لئے، کانگریس، جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کو ذمہ دار ٹھہرارہا ہے۔ مسلم دشمنی اور فرضی دیش بھکتی کا دھتورا پیئے ا ہوئے اس قوم کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ جس طرح کے حالات ہوتے ہیں اس وقت اسی طرح کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اپنی اوقات کے حساب سے اپنی بات منوائی جاتی ہے۔ دنیا کی متعددممالک کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ سردست ہندوستان کی اقتصادی حالات پر بات کرنی ہے، کانگریس، جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کی خدمات ہندوستانی عوام کی احسان فراموشی پر کبھی اور قلم اٹھاوں گا۔
پردھان سیوک یا ملک کے چوکیدار نریندر مودی نے ہر معاملے میں ستر سال کا ذکر کرتے ہیں اور ہر ناکامی کے لئے جواہر لال نہرو کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ ہر کام میں یہ کہتے ہیں کہ یہ ستر سال پہلی بار ہورہا ہے یا ستر سال میں کچھ کام نہیں ہوا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نریندرمودی کی دوسری میعاد کی حکومت میں سنٹرل ہال میں اراکین پارلیمنٹ سے مشترکہ خطاب میں ہمارے صدر جمہوریہ جن کواہم مندروں میں جانے سے روک دیا گیا ہے، نے اپنے خطاب میں یہ کہہ بیٹھے کہ ترقی کا دور 2014 سے شروع ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گزشتہ ستر برسوں میں کوئی کام نہیں ہوا۔ جب پارلیمنٹ جیسے مقدس آئین ساز ادارے میں اس طرح کی باتیں کی جائیں گی تو اس کا راست اثر ہندوستانی عوام پر ہوگا ہی، لوگ جانتے ہیں اور یہ قانون بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں جھوٹ نہیں بولاجاتا ورنہ مراعاست شکنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہندوستان کے بیدار مغز اور ہندوستانی جمہوریت کی لاج بچانے والے کچھ لوگوں کو معلوم ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پارلیمنٹ میں کیا ہوا ہے اور کس قدر ڈھتائی کے ساتھ جھوٹ بولا گیا ہے لیکن ہندوستانی عوام اس کو تو گیتا کی طرح سچ مانتے ہیں۔
مودی نے جو ستر ستر سال کا نعرہ لگایا تھا وہ اب اس کے گلے کا پھاندا بن کر ان کے لئے مذاق کا موضوع بن گیا ہے۔ اب رپورٹ آرہی ہے کہ ملک کی اقتصادی حالت ستر سال سے بدتر حالت میں ہے۔ ہندوستانی حکومت کے پالیسی تھنک ٹینک نیشنل انسٹی ٹیوشن فار ٹرانسفارمنگ انڈیا کے وائس چیئرمین راجیو کمار کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو اس وقت جس اقتصادی سست روی کا سامنا ہے اس کی مثال پچھلے 70 سال میں نہیں ملتی۔راجیو کمار کا کہنا ہے کہ پورا مالیاتی شعبہ خراب صورت حال سے دو چار ہے اور کوئی بھی کسی پر اعتماد نہیں کر رہا۔دوسری جانب امریکا کے آزاد مالیاتی ادارے جیفریز کے ایکویٹی اسٹریٹجیز شعبے کے گلوبل ہیڈ اور معروف تجزیہ کار کرس ووڈ نے بھی موجودہ سیکورٹی صورت حال کے پیش نظر ہندوستان کی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہونے کی پیش گوئی کر دی ہے۔کرس ووڈ نے اپنے نیوز لیٹر گریڈ اینڈ فیئر Greed and Fear میں انہوں نے ہندوستان کے ایسیٹ ایلوکیشن پورٹ فولیو میں ایک فیصد کی کمی کی ہے جو اب 16 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آ گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی قبضے والے کشمیر کی سنگین صورتحال نے بھی ہندوستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں ہندوستان سے سوال پوچھا گیا ہے کہ قومی بجٹ میں میں ٹیکسوں اور جی ایس ٹی ٹیکسز کے حوالے سے جو اہداف مقرر کیے گئے وہ تاحال کیوں حاصل نہیں ہوئے؟ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال یکم اپریل سے 15 اگست کے درمیان براہ راست ٹیکس ریونیو میں بہت زیادہ کمی ہوئی اور وصولی کی شرح کم ہو کر 4.7 فیصد تک پہنچ گئی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں سال دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں ٹیکس وصولی کی شرح 9.6 فیصد تھی اس طرح تیسرے سہ ماہی میں مطلوبہ شرح 17.3 فیصد کم رہی جسے اور بھی بڑھایا جانا چاہیے، یہ بھی بتایا گیا کہ ہندوستانی معیشت میں سست روی کے باعث لاکھوں افراد کا روزگار ختم ہوگیا، حکومتی اداروں معاشی ماہرین کے بعد اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی گرتی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا، آئی ایم ایف نے ہندوستانیحکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بلواسطہ ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لائے اور جی ایس ٹی کی راہ میں حائل رکاوٹو کو دور کرے اگر ایسا نہ ہوسکا تو شدید دھچکا پڑ سکتا ہے۔ملک کی خراب اقتصادی صورتحال کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اْس کی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا تقریباً 7 ماہ سے فیول کی مد میں اپنے واجبات ادا نہیں کر سکی اور واجب الادا رقم ساڑھے 4 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے،اس صورت حال میں ایئر انڈیا کو فیول فراہم کرنے والی کمپنیوں نے اْسے 6 ائیر پورٹس پر جیٹ فیول کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔مجموعی طور پر اس وقت ایئر انڈیا پر 58 ہزار کروڑ روپے کا قرضہ ہے۔
ڈوئچے ویلے ایک رپورٹ کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے بھی ملکی معیشت میں سست روی کو انتہائی حد تک باعث تشویش قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ”میرا ماننا ہے کہ معیشت میں سست روی یقینی طور پر بہت ہی تشویش ناک ہے۔ آپ ہر طرف دیکھ سکتے ہیں کہ کمپنیاں فکر مند ہیں۔ نئی اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن بین الاقوامی منڈیوں سے قرض لینے سے کوئی سدھار تو ممکن نہیں مگر صرف وقتی بہتری ہی آ سکتی ہے۔”سوسائٹی آف انڈین آٹو موبائل (سیام) کے مطابق آٹو موبائل انڈسٹری میں دس لاکھ ملازمتوں کے ختم ہو جانے کاخطرہ اور بڑھ گیا ہے۔ مزید یہ کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے، تو یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ہندوستان کی فیڈریشن آف آٹو موبائل ڈیلرز (فاڈا) کے مطابق گزشتہ تین ماہ یعنی مئی سے جولائی کے درمیان گاڑیاں فروخت کرنے والے تاجروں نے اپنے تقریباً دو لاکھ ملازمین فارغ کر دیے۔ فاڈا کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں کسی بہتری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی۔ مستقبل میں مزید ملازمتیں ختم ہونے سے بہت سو شو رومز بند ہو سکتے ہیں۔ فاڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 18 ماہ میں 271 شہروں میں 286 آٹو موبائل شورومز بند ہو چکے ہیں۔ کاروں کی فروخت میں 31 فیصد کمی ہو چکی ہے جو گزشتہ 19برسوں کی سب سے اونچی شرح ہے۔ہندوستان میں اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی حالت بھی نہایت خراب ہے۔ اس شعبے سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر دس کروڑ افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ لیکن ملک بھر میں ایک تہائی اسپننگ ملیں بند ہو چکی ہیں اور جو چل رہی ہیں، وہ بھی خسارے میں ہیں۔ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے پچھلے دنوں ملک کے متعدد قومی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کروا کر مودی حکومت کی توجہ اس تشویش ناک صورت حال کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔ اس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اب تک 25 لاکھ سے 50 لاکھ تک ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔معیشت میں سست روی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید پر بھی کافی اثر پڑا ہے۔ دیہی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بسکٹ تیار کرنے والی ایک 90سال پرانی اور سب سے بڑی کمپنی پارلے نے اسی سست روی کی وجہ سے اپنے دس ہزار سے زائد ملازمین کو ملازمتوں سے نکال دینے کا عندیہ دیا ہے۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ بالخصوص دیہی علاقوں میں بسکٹ کی فروخت بہت کم ہو جانے کی وجہ سے کمپنی اپنی پیداوار کم کر سکتی ہے اور ایسا ہونے پر بڑی تعداد میں ملازمین کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔برآمدات کے محاذ پر بھی اس وقت ہندوستان کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل سے جون 2018 کے درمیانی عرصے میں ہندوستان نے 1064 ملین امریکی ڈالر کہ مصنوعات برآمد کی تھیں۔ لیکن اس سال کے اسی عرصے میں ملکی برآمدات کی مالیت بہت زیادہ کمی کے بعد 695 ملین ڈالر رہ گئی تھی۔ گویا برآمدات میں 35 فیصد کی کمی ہوئی۔
سوجھ بوجھ سمجھ رکھنے والے عوام نے بھی سوشل میڈیا پر مودی کے ستر سال کا مذاق اڑانا شروع کردیا ہے۔مودی نے جو جو نعرے دئے گزشتہ پانچ سال کے دوران اس کے برعکس ہوا۔خواتین اور بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی میں اضافہ ہوا، کرپشن میں اضافہ ہوا، ہندوستان کی شبیہہ ہر سطح اور ہر پلیٹ فارم پر خراب ہوئی اور ہندوستان کی معیشت کی حالت تو سب سے زیادہ خستہ ہوئی اور جی ڈی پی میں اضافے کا موجب بننے والے تمام شعبے سست روی ہی نہیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ہندوستانی حکومت کو پیٹرولیم نے سہارا دیا ہے اس لئے پوری دنیا میں سستا ہونے کے باوجود یہاں کے عوام کو اس کا فائدہ نہیں ملا ہے کیوں کہ عوام اس وقت نشے میں ہیں۔ اسی لئے منموہن سنگھ کو گالی دے رہے ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی سوجھ بوجھ اور معیشت کی سمجھ سے اپنی دس سالہ حکمرانی کے دوران کروڑوں لوگوں کو جو نان شبینہ کے محتاج تھے ان کو دوپہیہ اور چار پہیہ کا مالکبنادیا، جو جھونپڑی میں رہتے تھے ان کے پاس پختہ مکان ہوگیا۔جن کے پاس پیسے نہیں تھے وہ آج لاکھ اور کروڑوں میں کھیل رہے ہیں اس لئے کانگریس اور منموہن کو تو گالی دی ہی جانی چاہئے۔کیوں کہ انہوں نے لازمی تعلیم کا حق اور حق اطلاعات جیسے قانون بناکر بے زبانوں کوزبان عطا کردی۔ یہ گالی کے ہی لائق ہیں۔

Check Also

جرم اور مجرم، حیثیت سے بنتے ہیں!

(شیخ خالد زاہد) حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ کفر کا نظام توقائم رہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: