Breaking News
Home / کالم / کچھ اس طرح منائیں اپنا جشن یوم آزادی

کچھ اس طرح منائیں اپنا جشن یوم آزادی

راجہ محمد عتیق افسر

یہ تو کبھی نہیں ہوا کہ گزرا وقت لوٹ آئے لیکن ایسا بارہا ہوا ہے کہ ایک سا وقت مختلف افراد پہ یا اقوام پہ گزرا ہو ۔ ایسے میں ان کے حالات ایک سے ہوتے ہیں اور ان کی کیفیت ایک سی ہو تی ہے ۔ اگر مصائب کا سامنا ہو تو درد اور کرب کی یکسانیت ہوتی ہے اور اگر مسرت و شادمانی کا دور ہو تو جشن کا سا سماں بھی مشترک ہوتا ہے ۔البتہ خوشی اور غم کو منانے کا ڈھنگ مختلف ہوتا ہے اور ہر قوم اسے اپنے مذہبی اور روایتی انداز میں مناتی ہے ۔ کسی بڑی ابتلاء سے اگر کرشماتی طور پر رہائی ملتی ہے تو قومیں اس دن کو یاد رکھتی ہیں اور اور اس دن کو قومی تہوار کے طور پہ مناتی ہیں ۔خوشی یا غم کو منانے کے ڈھنگ سے اس قوم کی اجتماعی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے ۔آزادی کا دن یا کسی مملکت کے قیام کا دن بھی قوموں کی زندگی میں اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ دنیا کی مختلف اقوام اسے ملّی جوش اور جذبے سے مناتی ہیں ۔ان سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن سے قومی جذبات کو مہمیز ملتی ہے اور قومیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مزید پر عزم ہوتی ہیں ۔
وطن عزیز پاکستان 14 جولائی 1947 کو آزاد ہوا۔ یہ دن اہل پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے ۔ اس دن اہل پاکستان نے غیر ملکی برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کی تھی ۔ لفظوں میں کہہ دینے کو یہ ایک معمولی سی بات ہے لیکن حقیقت میں یہ وہ نعمت ہے جوکئی نسلوں کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے ۔سلطان فتح علی ٹیپو کی تحریک مزاحمت ہو ،سید احمد شہید ؒ اور شاہ اسمعیل شہیدؒکی تحریک المجاہدین ہو ، 1857 کی جنگ آزادی ہو ، تحریک ریشمی رومال ہو ، تحریک خلافت ہو ، تحریک ہجرت ہو یا پھر 1940 کے بعد کی تحریک پاکستان ہو مسلمانوں کی ہر نسل نے غلامی کے اندھیروں کو للکارتے ہوئے قربانی دے کر اپنے حصے کی شمع فروزاں کی ہے ۔ اور بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی آزادی کی صبح کو دیکھنے کے لئے سوا ایک کروڑ انسانوں کو ہجرت کرنا پڑی جو تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے ، لاکھوں افراد کرپانوں اور برچھیوں سے لہولہاں ہو کر جانیں ہار گئے ، لاکھوں عصمتیں ہندو عصبیت کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔غیر ملکی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ملکی ہندو عصبیت سے بھی لڑنا پڑا۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
ان سب قربانیوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایسا قطعہ ارض حاصل کیا جائے جہاں مخلوق خدا اپنے خالق کے بتائے ہوئے طور اطوار کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکیں۔
اس سے ملتے جلتے حالات اہل اسلام پہ اس وقت بھی گزرے تھے جب وہ مکہ میں پیغمبر انقلاب ﷺ پہ ایمان لائے تھے انہیں نجات اس وقت ملی تھی جب وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے اور پیغمبر مہربانﷺ کی قیادت میں مدینہ کی اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی تھی۔ یہ واقعہ اتنا اہم ہے کہ اسلامی تقویم (کیلنڈر) کا آغاز اسی واقعے سے کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل بھی اہل اسلام پہ یہ حالات گزرے ہیں جب فرعون نے بنی اسرائیل کے لاکھوں بچوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ٹھا ۔بنی اسرائیل پہ زندگی عذاب بن چکی تھی ایسے میں حضرت موسیٰؑ کی ولولہ انگیز قیادت میں بنی اسرائیل نے ہجرت کی اور فرعون کا لشکر تعاقب میں ہلاک ہوا یوں بنی اسرائیل کو غلامی سے نجات ملی۔ اس واقعے کو بنی اسرائیل نے اہم گردانا اور اس دن کو عید کے طور پر منانا شروع کیا۔ بنی اسرائیل دس محرم (یوم عاشورہ )کو روزہ رکھتے تھے ۔ یہ شکرانہ تھا جو وہ فرعون کی غلامی سے آزاد ہونے کے دن ادا کیا کرتے تھے ۔ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ پہنچ کر اسی مماثلت کی بنیاد پر کہ ہم سے پیشتر نبی کی امت کا یوم نجات منایا جائے ، یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کی ھدایت کی ۔ لیکن بعد میں یہود سے مشابہت ختم کرنے کے لئے اس نفلی عبادت میں ترمیم کی گئی کہ دسویں محرم کے روزے کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کے روزے کو ملا دیا جائے ۔ اللہ تعالی ٰ نے اس دن عید کے بدلے عید الفطر اور عید الاضحیٰ عنایت کیں۔ قیام پاکستان ، ہجرت مدینہ اور بنی اسرائیل کے خروج کا تقابلی جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان تینوں واقعات کے پیچھے ایک ہی مقصد تھا اور وہ یہ تھا کہ ایسا قطعہ ارض جہاں رب کی مرضی کے مطابق آزادی سے زندگی گزاری جا سکے اور مخلوق کی بندگیوں سے آزاد ہو کر مخلوق خدا کو صرف اللہ کی بندگی لئے خاص کیا جا سکے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کم و بیش ایک جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔
اب اگراس تناظر میں 14 اگست کو دیکھا جائے تو یہ یقینا ہمارے لیے یوم ِ نجات ہے۔اور اسے بھی ملی جوش اور ولولے کے ساتھ منایا جانا چاہیئے۔پاکستان کے قیام کا مقصد دینی تھا ۔اس لئے اس کے قیام کے دن کو بھی دینی شعور اور مذہبی انداز میں ہی مناناچاہیے۔اسلام میں کسی ایسی عبادت کی اجازت نہیں ہے جو نبیﷺ کے طریق کار سے ہٹ کر ہو اس لئے جشن آزادی کے ساتھ کسی عبادت کومختص کرنا توبدعت ہے لیکن اس دن کو کم از کم یوم تشکر کے طور پہ منانا چاہیے۔ایسی سرگرمیوں کا انعقاد کرنا چاہیے جو تہذیب اسلامی کی آئینہ دار بھی ہوں اور ان کی بدولت نئی نسل کو اپنی تاریخ سے آگاہی بھی ملے۔جس مقصد کے لئے ہمارے آباء نےقربانیاں دی تھیں ان کی یاد بھی تازہ ہواور نئی نسل ان مقاصد کے حصول کے لئے پہلے سے بھی زیادہ جذبے اور ہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم بھی کرے۔
قیام پاکستان سے لے کر اکسویں صدی کے آغاز تک جشن آزادی کو قومی اور ملی جذبات کے ساتھ ہی منایا جاتا رہا ہے۔سرکاریاور نجی سطح پہ ان سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا تھا جو وطن عزیز سے محبت میں اضافے کا باعث بنتی تھیں ۔ میڈیا اور اداروں کے پروگرامات میں ان شخصیات کے انٹرویو منعقد ہوتے تھے جنہوں نے قیام پاکستان کا عملی مشاہدہ کیا یا کسی سطح پہ اس تحریک کا حصہ رہے ۔ان کی گفتگو حب الوطنی کےجذبات کو ابھارتی تھی اور وطن کے لئے کچھ کر گزرنے کو جی چاہتا تھا۔قربانیوں کی داستانیں سن کر آزاد وطن کی قدر و منزلت واضح ہو جاتی تھی ۔وطن کے لئے لکھے اور گائے گئے ملی نغمے تو ایسا اثر کرتے تھے کہ کئی دن تک پاکستانیت کا خمار نہیں اترتا تھا۔غرض اس دن ہر کوئی پاکستان کے رنگ میں رنگا نظر آتا تھا۔البتہ مذہبی رنگ کا فقدان نظر آتا تھا لیکن گفتگو، تحریر اور تقریر میں وہ بھی دکھائی دیتا تھا۔
گزشتہ دو دہائیوں سے وطن عزیز کا یوم آزادی جس انداز میں منایا جانے لگا ہے وہ ہر گز اسکے قیام کے مقاصد کی عکاسی نہیں کرتا۔ 14 اگست ایک چھٹی کا دن رہ گیا ہے ۔ کام کرنے والوں نے اس دن چھٹی کرنا ہے اور من چلوں نے مادر پدر آزاد حرکتیں کرنا ہیں ۔ایک دوسرے پہ رنگ گرا کر ہولی جیسا ماحول بنانا ہے یا باجے بجا کر شور غوغا کرنا ہے ۔کسی نے موٹر سائکل کا سلنسر نکال کر فضائی آلودگی کا باعث بننا ہے تو کوئی ون وہیلنگ کرتے ہوئے قانون کا مذاق اڑا رہا ہوگا۔کچھ لوگ گاڑیوں پہ پاکتانی پرچم لہراتے ہیں لین ان میں لگے ڈیک سے پڑوسی ممالک کے فحش گانوں کی آوازیں فضا کو مکدر کرتی ہیں ۔پھر بات یہیں تک نہیں رہتی اخلاق باختگی کا بھرپور مظاہرہ ہوتا ہے زبان کی گراوٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ممنوعہ لباس ، اور ممنوعہ مشروبات کا استعمال ہوتا ہے اور شرافت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے ۔ میڈیا بھی ایسے پروگرامات پیش کرنے لگا ہے جو عوام کے اذہان میں قیام پاکستان کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں ۔اور سوشل میڈیا نے توحد ہی کر دی ہے نہ تو تحریک پاکستان کے کسی ہیرو کے کردار کو بخشا جاتا ہے نہ دو قومی نظریے کو نہ ہی نظریہ پاکستان کی اساس یعنی اسلامی نظام زندگی کو ۔ میڈیا پہ اب تقسیم ہند کو حادثہ یا سانحہ بنا کر بھی پیش کیا جاتا ہے ۔ سیکولر لابی یہ تک بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ تہذیب ہے مشترکہ ثقافت ہے ۔ یہاں تک کہ درسی کتب میں بھی نظریہ پاکستان کودھندلا کے رکھ دیا ہے ۔14 اگست کے دن حکومتی سطح پہ تقسیم انعامات و اعزازات بھی منعقد ہوتی ہے لیکن تمام تمغے یا تو سرکاری ملازمین، کھلاڑیوں ، ادیبوں ، فنکاروں اور گلوکاروں وغیرہ کو تودئیے جاتے ہیں لیکن کسی محدث، فقیہ ،مفسر یا علمی و دینی خدمات سر انجام دینے والوں کے لیے کوئی انعام نہیں ہوتا۔ریاست کے اداروں کے طرز عمل سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا دین سے کوئی سروکار ہی نہیں ۔ کچھ عاقبت نا اندیش سیاست دانوں نے اس دن کو اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لئے یوم ِ احتجاج ، یوم سیاہ کے طور پہ منانے کا ڈھنگ بھی اپنایا اور عوام کو توڑپھوڑ اور مار کٹائی کا راستہ بھی دکھایا۔
پاکستان اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا لیکن یہاں اسلامی نظام زندگی کا قیام ابھی تک خواب ہی ہے ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ پاکستان قائم کرنے واکی سیاسی قیادت ناتجربہ کار تھی اور انگریز کی تربیت یافتہ افسر شاہی تربیت یافتہ ۔ملک اپنے قیام کے کچھ عرصے بعد ہی استبداد کی تیار کردہ سیکولر قیادت کے ہتھے چڑھ گیا جو اس کے قیام کی شاید حامی بھی نہ تھی ۔
نیرنگی ٔ سیاستدوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
اقبال کے اس ادھورے خواب اور قائد اعظم کی تعبیر میں اسکا اصل رنگ بھرنا ہے ۔ہم ابھی راستے میں ہیں منزل تک نہیں پہنچے ۔مندرجہ بالا سطور میں اس طرف اشارہ کرچکا ہوں کہ یہ حالات اس سے پہلے بھی گزرے ہیں ۔ریاست مدینہ کے قیام کے بعد دنیا نے دیکھا کہ عرب کے وسط میں اٹھنے والی تحریک نے تمام دنیا کے اندھیروں کو مٹایا اور روشنی سے ہمکنار کرایا۔بدکے ہوئے گھوڑے کی مانند باغی انساں کو سیاست اسلام نے رب کا تابع بنایا ۔ ایسا نظام دیا جو عدل و انصاف اور اعلی انسانی اقدار کا استعارہ ہے ۔ دوسری جانب وہ بنی اسرائیل تھی جو نجات پانے کے بعد اپنے مقصد سے منحرف ہو گئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ موسیٰ ؑ کلیم اللہ کی موجودگی میں بھی وہ صحرا میں بھٹکتے رہے ۔ہم بھی اپنے مقصد کو کھو رہے ہیں ۔ ہم نےمدینے کی ریاست کو سامنے رکھ کر اس ملک کو حاصل کیا تھا لیکن ہم بنی اسرائیل کی نہج پہ چل کر اپنی منزل کھوٹی کر رہے ہیں۔
جب عوام سے لے کر سرکار تک غفلت میں غرقاب ہوں تو دین کے نام لیوا اہل شعورافراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بیداری ملت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبہائیں۔ہر سطح پہ پاکستان کو اپنی منزل سے دور کرنے والی سازش کو بے نقاب کریں اور اس کا علمی و عملی مقابلہ کریں ۔اساتذہ جو قوم کے اصل معمار ہیں ، کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں اسلامی نظریہ ٔ حیات کو راسخ کریں ۔اپنے طلبہ و طالبات کی راہنمائی اور تربیت کریں ۔ائمہ مساجد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نمازوں کی امامت سے بڑھ کر معاشرے کی امامت کی طرف توجہ دیں اور افراد معاشرہ کو اسلامی نظام کے قیام کے لئے تیار کریں ۔دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دائرہ ٔ کار کے اندر افراد کی تربیت کریں اور ایوانوں میں اور ایوانوں سے باہر غلبہ ٔ اسلام کے لئے اپنی توجہ مرکوز کریں ۔میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظریہ پاکستان کی اصل تصویر قوم کو دکھائے اور اسے اس کی منزل یاد دلائے ۔اس طرح اصل ذمہ داری حکمرانوں پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کی درست سمت میں رہنمائی کریں اور جس مقصد کے حصول کے لئے تحریک پاکستان کے رہنماوں اور کارکنان نے قربانیاں دیں تھیں ان کے حصول کو اپنا فرض اولین گردانتے ہوئے اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کے لئے اپنا تن من دھن لگا دیں ۔
وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا
اگر ہم اس سال جشن آزادی کے موقع پر یہ عہد کریں کہ پاکستان کو اساس کی منزل تک لے کرجائیں گے اور ہر ایک اپنے دائرہ کار میں اخلاص سے کام کرے تو ایک دن ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کا پرتو بنا دیں گے لیکن اگر یہی غفلت جاری رہی تو بنی اسرائیل کی صحرا نوردی سے زیادہ سخت سزا ہمارا مقدر ہو گی کیونکہ ہمارے پاس موسی ٰ کلیم اللہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Check Also

روک سکو تو روک لو

زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر پروفیسر شہزاد بسریٰ‌کی چشم کشائ تحریرفیصل   چار اگست کی رات ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: