Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں

ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو
بہت عجیب ہیں یہ بندشیں محبت کی
نہ اس نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوئے
ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں
وہ سب دوست اب تھکنے لگے ہیں

کسی کا پیٹ نکل آیا ہے
کسی کے بال پکنے لگے ہیں
سب پر بھاری ذمہ داری ہے
سب کوچھوٹی موٹی کوئی بیماری ہے
دن بھر جو بھاگتے دوڑتے تھے
وہ اب چلتے چلتے بھی رکنے لگے ہیں
اف کیا قیامت ہے
سب دوست تھکنے لگے ہیں

کسی کو لون کی فکر ہے
کہیں ھیلتھ ٹیسٹ کا ذکر ہے
فرصت کی سب کو کمی ہے
آنکھوں میں عجیب سی نمی ہے
کل جو پیار کے خط لکھتے تھے
آج بیمے کے فارم بھرنے میں لگے ہیں
اف کیا قیامت ہے
سب دوست تھکنے لگے ہیں

دیکھ کر پرانی تصویریں
آج جی بھر آتا ہے
کیا عجیب شے ہے یہ وقت بھی
کس طرح سے یہ گزر جاتا ہے
کل کا جوان دوست میرا
آج ادھیڑ نظرآتا ہے
کل کے خواب سجاتے تھے جو کبھی
آج گزرے دنوں میں کھونے لگے ہیں
اف کیا قیامت ہے
سب دوست تھکنے لگے ہیں
یہ لوگ اجنبی ہیں تو پتھر کہاں سے آئے
اس بھیڑ میں بھی کوئی ہمارا ضرور ہے

Check Also

کارٹون بھی بڑھتی عمر کے اثرات سے متاثر

پبلک حیران۔۔۔۔۔۔کارٹون پریشان مرتبہ فوزیہ وحید اوسلو   Related

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: