Home / حالات حاضرہ / خبریں / پاکستانی نثراد نارویجن اورسابقہ اسمبلی ممبر افشاں رفیق کی نارویجن سیاست میں واپسی

پاکستانی نثراد نارویجن اورسابقہ اسمبلی ممبر افشاں رفیق کی نارویجن سیاست میں واپسی

ناروے میں بسنے والے پاکستانیوں اور تارکین وطن کے لیے افشاں رفیق کی تجاویز اور پلان۔۔

ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کی پہلی منتخب پارلیمنٹ ممبر محترمہ افشاں رفیق اس سال صوبائی انتخابات میں صوبہ اوسلو سے انتخابات میں حصہ لیں گی۔افشاں رفیق ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کی معروف اور متحرک خاتون سیاستدان ہیں۔انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ سیاست میں طویل غیر حاضری کی وجہ انکی گھریلو مصروفیات تھیں۔اب وہ دوبارہ سے نئے اغراض و مقاصد اور مسائل کے حل کے ساتھ دوبارہ ماہ ستمبر کے صوبائی انتخابات میں حصہ لیں گی۔انہوں نے بتایا کہ نارویجن انتخابات کا طریقہ کار اور سیاستدانوں کی الیکشن کمپین کا طریقہ پاکستانی طریقے سے مختلف ہے۔یہاں سیاستدان با ضابطہ طور پر الیکشن سے صرف ایک ماہ پہلے اپنی کمپین شروع کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ گرو رود آلنا بی دیل سے صوبائی الیکشن کے لیے کھڑی ہوں گی۔
افشاں رفیق جن مقاصد کے لیے کام کر رہی ہیں ان میں تارکین وطن کے روزگار کو یقینی بنانا،ناروے میں بزنس کمیونٹی کو سپورٹ دینا اور ملازمتیں مہیاء کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنااور اسکولوں میں تارکین وطن کے بچوں کو ضروری تعلیم فراہم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ناروے میں نارویجن زبان کو پچھلے چند برسوں سے لازمی قرار دیا گیا ہے۔لیکن تارکین وطن کو نارویجن زبان سیکھنے کے باوجود ملازمت نہیں ملتی۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اگر تارکین وطن نارویجن زبان سیکھتے ہیں تو انہیں روزگار بھی لازمی ملے۔
اس کے بعد محکمہء روزگار ملازمتیں مہیاء کرنے ولے اداروں اور تارکین وطن کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ اس طرح مل کر کام کرے کہ وہاں عارضی ملازمتیں حاصل کرنے والے افراد کو مستقل ملازمت مل سکے۔اس کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی سہولتوں میں بھی اضافہ کیا جا سکے۔
اس کے بعد ناروے میں اسکولوں میں برابری کے حقوق کی وجہ سے تمام طلباء کو ایک جیسی تعلیم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے کمزور طلباء تعلیم میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔اس وجہ سے وہ تارکین وطن کے بچے جو نارویجن زبان پر عبور نہیں رکھتے وہ اسکول میں پہلے دن سے ہی کلاس میں سبق نہ سمجھنے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔پھر یہ کمزوری تمام عمر ان کے ساتھ چلتی ہے۔ایسے بچوں کو نرسری اسکول سے ہی نارویجن زبان کی تعلیم ملنی چاہیے۔
اس کے علاوہ ہماری کوشش اور موقف یہ ہے کہ ناروے میں پرائیویٹ اور اوپن اسکولوں اور کالجوں یونیورسٹیوں کی تعلیم بھی مفت ہونی چاہیے۔

Check Also

ہمسائیوں کے حقوق

  ایک عورت نے ہمسائیوں کے دروازے پر دستک دی اور ان سے نمک مانگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: