Home / کالم / سبق آموز کہانیاں 2 پرملک شفقت اللہ شفی کا تبصرہ

سبق آموز کہانیاں 2 پرملک شفقت اللہ شفی کا تبصرہ

انسانی دماغ ترقی کر رہا ہے، انسان آگے بڑھ رہا ہے اور روح تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ ہنوز کے سارے فلسفے اور کتابچے مل کر بھی روح کی ٖغذا نہیں بن پا رہے۔علم کے حصول کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی، معاشرتی توازن برقرار رکھنے کیلئے فطری تقاضوں کو اہمیت اور فوقیت دینی چاہئے۔ وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے جو فطرت سے دور ہونے کی کوشش کرے یا فطرت کے مقابل سوچے۔جیسے اللہ کی قدرت لا محدود ہے ویسے ہی انسان کی کمزوری اور بے بسی بھی لا محدود ہے۔ انسان اللہ کا نائب ہے، لیکن اس کے ہاتھ خالی ہیں۔ انسان کو اپنی سوچوں پر نظر رکھنی چاہئے، کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی سوچیں درست ہوں۔ کوشش ایک کھلونا ہے، انسان کو بہلانے کا، اس کو اعتماد عطا کرنے اور اس پر ایک بڑا بھید کھولنے کا۔ یہ بھید انسانیت سے آدمیت کا سفر طے کرنے کے بعد کہیں جا کر کھلتا ہے، جہاں گماں اور شکووں کے اندھیرے تجسس اور علم کی روشنی سے مٹ جاتے ہیں۔ بے شک آدمیت کی منزل پر پہنچنے کے بعد ہی اسرار کائنات و آگہی کسی پر کھل سکتے ہیں۔ ایسے لو گ اللہ کے بہت پیارے ہوتے ہیں۔ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں جو قدرت کی طرف سے چنے جاتے ہیں۔ جنہیں پہلے ایک صلاحیت دی جاتی ہے، پھر جب اس کا دل نرم اور محبت سے لبریز ہو جائے تو اس صلاحیت سے اسے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ اسے نکھارا جاتا ہے۔اور پھر ایک انجانے سفر پر چلانے کے بعد قدرت خود ہاتھ تھام لیتی ہے۔ میرے ہاتھ میں ”سبق آموز کہانیاں 2“کے عنوان سے کتاب ہے جو میرے زیر مطالعہ ہے۔ اسکے مصنف عارف محمود کسانہ ہیں۔ عارف محمود کسانہ کی ذات، ان کے دل میں شفاف محبت، ان کا ملی جذبہ مجھ پر کبھی عیاں نہ ہوتا اگر یہ کتاب مجھ تک نہ پہنچی ہوتی۔عارف محمود کسانہ بیک وقت صحافی، کالم نگار، سویڈش صحافتی تنظیم کے سر گرم کارکن، سویڈن کی مشہور یونیورسٹی کا رولنسکا انسٹیٹیوٹ میں طبی تحقیق کے شعبہ سے بطور محقق منسلک، ادیب و مصنف، حکومت پاکستان کی وزارت برائے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے سویڈن سے مشیر اور اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ تعلقات عامہ اور خیر سگالی کے سپہ سالار بھی ہیں۔سبق آموز کہانیاں کی کتاب پہلے بھی شائع ہو چکی ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پذیرائی ملی یہاں تک کہ متعدد زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جا چکا ہے، جبکہ سبق آموز کہانیاں 2 کے تراجم بھی ہو رہے ہیں اور کئی زبانوں میں مکمل بھی ہو چکے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت میں نگرانی بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیبوں، دانشوروں اور مصنفوں نے کی ہے جو اس کتاب کے حوالوں اور نثر کے صحیح ہونے کی سند ہے۔ دو ر جدید سائنسی، مادی، فرقہ بندی و مسلکی، تہذیبی و ثقافتی، لبر ل ازم کے الحاد، سیکو لر ازم کی جنگ اور کمیونز م جیسی لعنت کے مسائل سے دو چار ہے۔ دینی ثقافتی اور قومی تشخص کے سوالات اٹھتے ہیں! ان سب سے بڑا اور پریشان کن مسئلہ بچوں کی اس وقت اسلامی طرز پر تربیت کا ہے۔عارف کسانہ بچوں کیلئے نبی مکرم ﷺ کی سنت پر محبت سے سرشار ہیں۔مصنف فرقہ بندی، رنگ و نسل اور ذات برادری سے ہٹ کر قصص الانبیا کے حوالوں سے انتہائی سلیس زبان میں بچوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔قرآن پاک انتہائی ممتاز، نا قابل تردید اور آخری ذریعہ ہے جو تمام زندگی پر محیط ہے اور انفرادی اجتماعی مسائل کیلئے بھرپور ہدایت فرماتا ہے۔مشاہدات اور تجربات سے اخذ کیا گیا ہے کہ ابتدائی سال بچوں کی ذہنی، جذباتی، نفسیاتی اور جسمانی نشو نما کیلئے انتہائی اہم ہیں۔ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اور اس گلوبلائزیشن میں عالم فانی کے مسلمان اپنی تہذیب و تمدن کے ٖغماز ہیں۔ دین کے اصل مفہوم اور حسن و کشش کو فرقہ وارانہ اختلافات، تنگ نظری اور اسلام دشمن ماحول نے بری طرح مسخ کیا ہے۔ مصنف انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے، انگریزی اداروں کے ساتھ منسلک ہونے اور گوروں کے درمیان رہنے کے باوجود باکمال اردو دان ہیں۔ کتاب کی نثر با معنی، سلیس اور ہر خاص و عام کو سمجھ آنے والی ہے۔انشا ئیہ کا انداز ایسا ہے کہ قاری سمجھتا ہے جیسے مصنف خود اس کے ساتھ متکلم ہے۔یہ انداز تحریر مصنف کے معلم ہونے اور بہترین مبلغ ہونے کا عکاس ہے۔قاری اپنے کان، زبان اور آنکھوں سے لفظوں کو اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس کرتا ہے۔کوئی بھی نقطہ ایسا نہیں رکھا گیا جو کسی بحث میں الجھاتا ہو یا بحث طلب بن جائے، جو ان کی عقل و فہم کی ایک عمدہ مثال ہے۔ان کی دانش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر کہانی کے آخر میں انتہائی نرمی اور محبت سے منصفانہ پیغام سبق کے انداز میں دیا گیا ہے۔ اس تبلیغ و ترغیب کے عمل میں جہاد باالقلم کرنے پر میں مصنف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ان کیلئے اللہ سے دعا گو بھی ہوں کہ اس عمل میں انہیں استقامت عطا فرمائیں اور قبولیت کا شرف بھی بخشے۔اس سائنسی و ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں بچے کتابوں سے دور بھاگتے ہیں وہیں مصنف نے بچوں کو کتابوں سے جوڑنے کیلئے انشائیہ کو کہانیوں کی صورت میں اختصار سے رقم کیا ہے، ان کہانیوں کی تعداد بیس ہے لیکن یہ کہانیاں سماجت، دین، معاشرت نیز زندگی کے کئی بیشتر پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔مکالماتی انداز نے تحریروں میں متاثر کن صفت رکھی ہے۔جہاں ہماری نوجواں اور نوزائیدہ نسل لبرل معاشرے اور مغربی تہذیب و ثقافت کی طرف راغب ہورہے ہیں اور اسے اپنے وجود میں ڈھال کر اسلام کے فرائض پر بے ہودہ اور لا یعنی سوالات اٹھاتے ہیں وہیں مغرب میں رہتے ہوئے،پنپتے ہوئے ان سوالوں کا جواب مصنف نے انتہائی شائستگی سے لکھے ہیں جو ان کی قلبی وسعت اور مثبت سوچ و فکر کے غماز ہیں۔ان کی یہ سوچ ہر کہانی میں صاف جھلکتی ہے۔ مصنف اپنی کہانیوں کی اس کتاب میں موجودہ دور کا سب سے اہم مسئلہ زیر بحث لائے ہیں اور اس بارے میں نو مولود ذہنوں میں اٹھتے ہوئے سوالات کا مدلل جواب دیا ہے۔ انہوں نے لفظ جہاد اور دہشتگردی میں تمیز کر کے دکھائی ہے۔ کس طرح دہشتگردی انتہائی ابتر اور جہاد اللہ کے نزدیک بالا تر حیثیت کا حامل ہے۔ جہاد کا مطلب انتہائی احسن طریقے سے سمجھایا ہے اور ساتھ اس دنیا کو پیغام بھی پہنچایا ہے جو جہاد کی وجہ سے اسلام کے ساتھ دہشتگردی کا لفظ نتھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع تھا جسے زیر بحث لا کر اس خوبصورت انداز میں وضاحت کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ کتاب میں موجود جہاد کے متعلق کہانی کے پڑھنے کے بعد ہر وہ بچہ اور بڑا جو لبرل اور الحادی معاشر ے میں پروان چڑھ رہا ہے اسلام کے معنی کو مسخ کرنے والوں کے ہر سوال کا جواب دے سکتا ہے اور ساتھ ہی اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان بھی کامل کرتا ہے۔ اس دیدہ دلیری پر میں عارف محمود کسانہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کروں گا۔یہ میڈیا کا دور ہے، الحادی طاقتیں اس میڈیا پر حاوی ہو چکی ہیں اسی لئے وہ بچوں کے دماغوں سے کھیلتی ہیں۔ ابتدائی عمر کے ذہن جو دیکھتے اور سنتے ہیں اس پر سوال اٹھاتے ہیں جن کے جواب میں جہاں والدین کو مشکل ہوتی تھی وہیں سبق آموز کہانیاں اپنے دامن میں جوابات کا سمندر رکھتی ہے اور ہر سوال کے جواب کیلئے معان و ممدو ثابت ہو گی۔اس کہانیوں کے مجموعے میں ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جہاں مصنف نے اسلاف کی شان اور ان کی ترقی و کامرانیوں کے بارے میں انتہائی جامع بحث کی ہے وہیں دور حاضر میں مسلمانوں کی تنزلی اور ذلت و رسوائی کی وجوہات کیا ہیں کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔ظالم و جابر مسلمان حکمرانوں اور دین میں بدعتیں شامل کروانے والے حکمرانوں کے بارے میں وہ باتیں بتائیں ہیں پڑھنے کے بعد بچے تاریخ کرنے والے لوگوں اور جابر و ظالم حکمرانوں کو جو مسلمانوں کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے کا مدلل جواب دے سکتے ہیں۔اور کسی بھی ایسی فرقہ وارانہ مذہبی تعصب کے جال میں پھنسنے سے بچ سکتے ہیں، عصر حاضر میں دین کی ایسی خدمت بے حد ضروری تھی۔سبق آموز کہانیاں 2 کتاب کو نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے اور ان کے تمام ڈیلرز کے پاس یہ کتاب جو 170 صفحوں پر مشتمل ہے صرف 150 روپے کی تعارفی قیمت میں دستیاب ہے۔ یہ قیمت ہر طبقے کی رسائی میں ہے اور میں تمام والدین سے کہوں گا کہ وہ اس کتاب کو ضرور اپنے گھر میں رکھیں، ہے تو بچوں کیلئے لیکن ہر عمر کے افراد اس سے بھرپور مستفید ہو سکتے ہیں۔ آخر میں مصنف عارف محمود کسانہ کیلئے ڈھیروں خیرو برکت کی دعائیں۔

Check Also

چاچا چور بھتیجی قاضی

باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری اور کیا کہا جا سکتا ہے میرا خیال ہے یہی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: