Breaking News
Home / کالم / لؤ کر لو عید

لؤ کر لو عید

باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
صرف پشاور میں ہی نہیں فاٹا کے سات اضلاع میں چاند نظر آ گیا ہے اور یار لوگ آج عید منا رہے ہیں۔مجھے ابھی تک تو علم نہیں لیکن مجھے یہ ضرور علم ہے کہ ہزارہ کبھی پوپلزئی زدہ عید نہیں منائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے ڈیرہ اسمعیل اور دیگر علاقے کہاں ہندکو یا سرائیکی بولی جاتی ہے وہاں بھی عید نہیں ہو گی۔پی ٹی آئی کے دور میں اگر عید ایک نہیں ہو سکی تو پھر کب ہو گی۔اگر معاملات کو دو مفتیوں کے درمیان چھوڑ دیا جاتا تو ٹھیک تھا لیکن اس میں ہمارے دوست شوکت علی یوسف زئی اور فواد چودھری نے چھلانگ لگا کر اچھا نہیں کیا۔ہمیں پولزئی صاحب سے کوئی چڑ نہیں ہے لیکن کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مفتی منیب الرحمن سے مل کر کوئی ایک لائحہ عمل تیار کرتے اور رمضان کا پہلا روضہ ایک ہی دن رکھتے اور عید بھی اکٹھے مناتے لیکن مسئلہ فقہی اختلاف ہے پوپلزئی صاحب غالبا مکتب دیوبند سے جڑے ہوئے ہیں اور مفتی منیب مکتب بریلوی سے۔تو جوڑ کیسے ہو سکتا ہے۔
ہم عجیب لوگ ہیں جن دنوں اپالو چاند پر جا رہا تھا ہمارے لوگ ان کا مذاق اڑا رہے تھے
پنجابی شعر یاد آیا جو ان دنوں ہم پنجابی مباحثوں میں استعمال کر تے تھے
لوکی چن تے پہنچ گے لا پہوڑی توں وخھرے خواب وکھائی جانا ایں
لوکی ایٹم بمب بنائی جاندے توں ٹانگیاں دے بمب بنائی جانا ایں
یہ اللہ کا فضل ہوا کہ نوے کی دہائی میں ایٹم بم بن گیا
دو مولویوں کی لڑائی میں سب سے زیادہ مولوی دشمن فواد چودھری کو ہوا ہے قوم جب ان پر غصے کا اظہار کر رہی ہے تو ایسے میں لبرل فواد حسین نے اپنی کسر یوں نکالی کہ پشاور والوں پر مقدمہ قائم کرو۔خدا را ایسا نہ کرنا وہ لوگ پہلے ہی تپے بیٹھے ہیں پی ٹی ایم کو ایک اور موقع نہ دیں کہ ہمارا پشتون مولوی کیوں پیچھے کر دیا ہے۔
معاملہ صرف چاند کا نہیں ہے اس سے دل بھی ٹوٹتے ہیں۔ایوب خان کے زمانے میں ایسے واقعات کی بھرمار ہوا کرتی تھی لیکن اب اس کا دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا۔فوادی سوچ کو جلاء ملے گی
انور مسعود نے کیا خوب کہا تھا
باندھی ہوئی ہے کس کے ٹانگے پے چارپائی
اور ساتھ میں ہے اپنے ایک مضمحل رضائی
اکیسویں صدی میں ہم جا رہے ہیں بھائی
ہم اکیسوی صدی میں کوئی انیس سال پہلے داخل ہو چکے ہیں مگر اپنے ساتھ پرانی سوچ لئے چلتے ہیں۔
آپ اسے دو عیدیں سمجھ کر نہ ٹال دیں قوم میں اب پہلے کی اتفاق اور اتحاد نہیں ہے اب قوم اس نہج پے پہنچ چکی ہے کہ اس عید کو پشتون عید اور پنجابی عید کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ملک دشمن چاہتے کیا تھے؟میں کسی کو کسی کا آلہ ء کار نہیں کہوں گا لیکن میں شوکت یوسفزئی کی اس بات کا قائل ہوں کہ مفتی پوپلزئی کو ہی رویت ہلال کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا جائے تو کیا حرج ہے۔ہمیں کیا عید ایک دن پہلے کر لیں گے ویسے بھی اچھا ہوتا کہ ہم عید سعودی عرب کے ساتھ کر لیتے۔
فواد چودھری جس قمری کیلنڈر کی بات کرتے ہیں اسے ہم اپنی زندگی میں پرکھ چکے ہیں شاہ خالد کے زمانے میں قمری کیلنڈر دھوکہ دے گیا تھا اور ایک روزہ ہضم ہو گیا تھا جس پر مملکت نے معافی مانگی اور عید کے بعد ایک روضہ رکھا گیا۔لہذہ بہتر حل یہ ہے کہ دو مکاتیب فکر اکٹھے ہو جائیں ورنہ فواد چودھری آ جائے گا۔
وہ ویسے ہی نعیم الحق کی خاموش سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔کہتے ہیں ایویں پھنڈہ نئی پائی دا۔الیکٹڈ اور نان الیکٹڈ کی لڑائی میں صف بندیاں ہو چکی ہیں۔زلفی بخاری انتہائی سلجھا ہوا نوجوان ہے اس نے بھی ایک ایسی پھبتی کسی کے جب فیصلے ہوتے ہیں فواد لیبارٹری میں ہوتے ہیں۔یقین کیجئے چاند دیکھنا اور نہ دیکھنے کی لڑائی لدھڑی چودھری کو زیب نہیں دیتی۔
جہاں تک میرا خیال ہے فواد چودھری گھر سے بھاگنے والے ہیں۔بلکل میراثی کی اس لڑکی کی طرح جو ماں سے کہتی رہی کہ کل اس ایک بندہ اس گھر میں نہیں ہو گا اور وہ آشناء کے ساتھ گٹھڑی سمیت بھاگ گئی میراثن نے بین کرتے ہوئے کہا میری بچی کتنی اللہ والی تھی کل ہی کہہ رہی تھی کہ کوئی کل نہیں ہو گا۔ہم آپ کو کہے دیتے ہیں کہ موصوف پر تول رہے ہیں۔ان کے فکری دوست تو مصطفی کھوکھر ہیں جو ان پارٹیوں میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں جن کے بارے میں موصوف کہہ رہے تھے کہ قائد اعظم،علامہ اقبال تو پارٹیاں کیا کرتے تھے۔رات گئے جاگنے والے لوگ پارٹیاں کرنے والے لوگ کیا جانیں کہ اقبال کیا تھے میرے خیال میں اگر اقبال زندہ ہوتے تو ہتک عزت کا دعوی کر دیتے۔جھلے لدھڑی کو نہیں پتہ کہ پاکستان بنانے میں علماء اور مشائیخ کا کیا ہاتھ تھا۔اس بے پیرے کو کوئی یہ کہے کہ والی ء قلات نے کہا تھا مجھے اللہ کے رسولﷺ خواب میں آئے تھے اور انہوں نے پاکستان میں شمولیت کا عندیہ دیا تھا
دو قومی نظریہ کیا ہے کاش اسے علم ہوتا کہ عمران خان نے ایک لبرل آصف خان کو بھی پارٹی سے نکال دیا تھا جس نے صرف اتنا کہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا والا نعرہ غلط تھا اور وہ نہیں لگایا گیا تھا۔
مجھے اللہ کی قسم کسی بات کا خوف نہیں۔جس دن سے پارٹی جائن کی ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فرامین کی روشنی میں پارٹی کے آزاد خیال لبرلز کو منہ پر روکا ہے۔شیریں مزاری اگر مدارس کے خلاف بولی تو انہیں ٹوکا اور روکا عمران خان اگر نبی پاک ﷺ کے خاکوں پر خاموش اٹھے تو دوبارہ بٹھا کر پریس کانفرنس کی ٹکا ثانی ایب خان گجر شیریں مزاری گواہ ہیں۔بھاڑ میں جائیں ٹکٹ عہدے پارٹی جائن کی تھی عمران خان کی سوچ اور فکر سے متآثر ہو کر۔اس قسم کے آزاد خیال لبرلز کو کبھی راستہ نہیں دیں گے
بات چاند سے چلی اور گرہن لگانے والوں تک پہنچی۔شہباز حسین ایک عظیم دوست اور بھائی ہے اس سے پوچھ لیں جس دن منسٹر بنے کہا تھا سب کچھ ٹھیک ہے لیکن اسلام دو قومی نظرئے کے حوالے سے فواد کی سوچ پارٹی میں چل نہ پائے گی
آپ نعیم الحق کو جو بھی کہیں جامعہ حقانیہ کو جب پرویز خٹک نے فنڈ دئے تو ایک پارٹی والا لیڈر میرے سامنے نعیم الحق سے کہنے لگا سفیران اسلام آباد ناراض ہیں نعیم بھائی کا جواب تھا آپ اپنے کام سے کام رکھیں عمران خان جانتا ہے کہ کیا غلط اور کیا درست ہے۔اسی روز عمران خان نے مدارس کے بائیس لاکھ بچوں کی بات کی
نئے پاکستان کے وزیر سائینس اور ٹیکنالوجی کیا سمجھتے ہیں کہ نان الیکٹڈ بندے شودر ہیں۔آپ جیسے اور عمار کیا نی جیسے الیکٹڈ نے جو کام دکھائے ہیں سب کو علم ہے۔آپ کو یوس بیگ مرزا ندیم افضل چن نعیم الحق زلفی بخاری اچھے نہیں لگتے کوئی بات نہیں لیکن جس کے نام پر ووٹ ملے اگر وہ انہیں پسند کرتا ہے تو آپ کو کیا؟
اسد عمر نے کیا نقصان کرنا تھا آپ نے صحافیوں کے گھروں کے چولہے بجھا دئے۔مانا کہ فردوس عاشق اعوان کی اردو ٹھیک نہیں لیکن اس نے کون سا میرتقی میر کا کلام ازبر کرنا تھا سادہ سی عورت نے اپنے اقدامات سے صحافیوں کے دل جیت لئے۔
عید آج بھی ہے اور کل بھی گلے آج بھی ملیں گے اور کل بھی دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان میں پھیلے پختون بھی پوپلزئی عید کرتے ہیں یا پھر سواد اعظم کی منیبی عید۔
دکھ اس بات کا ہے اس میٹھی عید کو نفرتوں نے کڑوا کر دیا ہے
سنکی آدمی ہوں ہم تعلقات میں حساس ہو چکے ہیں ایک معمولی سا وٹہ اگر ادھر سے گیا تو توپ کا گولہ لگے گا۔
کاش! کاش ہم ایک قوم بنے ہوتے۔کیا حرج تھا کہ ہم روزہ پشاوری چاند پر رکھ لیتے یوں عید تو ہو جاتی۔پردیسیوں کو عید مبارک سعودی عرب میں عید ہے فون کیا تو پتہ چلا شکیل درزی کے پاس بیٹھا ہے اس کا سوٹ نہیں سلا۔ہم پاکستانی اگر چاند پے بھی چلے گئے تو وعدے پورے نہیں کرتے جدہ کا درزی بھی پاکستانی ہی ہو گا جو میرے بیٹے کا سوٹ نہیں سی رہا
اوور سیز پاکستانیو اللہ کرے وہ وقت آئے کہ آپ اپنوں میں آ کر عید کرو میں کیسے ہزاروں عیدوں کی مبارک باد دے سکتا ہوں۔ہم جدہ میں تھے تو گلے ملنے کے لئے اپنے بندے گاڑی میں لے جاتے تھے وہاں کوئی ایک دوسرے کے گلے نہیں لگتا۔اللہ پاک سب کو خوش رکھے۔
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے میں دو مفتیوں کو گلے ملتا دیکھنا چاہتا ہوں۔جب سنا پشاوری عید اور ہے اور ہماری عید اور تو دل سے بے ساختہ نکلا لؤ کر لو عید

Check Also

روک سکو تو روک لو

زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر پروفیسر شہزاد بسریٰ‌کی چشم کشائ تحریرفیصل   چار اگست کی رات ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: