Home / کالم / گود والدین کی بچہ حکومت کا

گود والدین کی بچہ حکومت کا

بارنے ورن کا شکریہ
شازیہ عندلیب
ناروے میں بچوں کی نگہداشت کا ادارہ ایک اپنی سخت پالیسیوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں بے جا مداخلت کی وجہ سے بالکل پسند نہیں کیا جاتا۔کیونکہ بارنے ورن کا اسرار ہوتا ہے کہ ناروے میں پیدا ہونے والے بچوں کو نارویجن طریقے اور ماحول کے مطابق پروان چڑھایا جائے،ان کی تربیت میں کوئی سختی نہ کی جائے اور ان کو مار پیٹ تو دور کی بات اگر کسی قسم کی مار پیٹ کا اشارہ بھی دیا جائے تو پھر بارنے ورن والے والدین کے ساتھ دنیا کی کسی بھی ظالم ساس جیسا سلوک کر سکتے ہیں۔ وہ والدین سے انکا بچہ چھین سکتے ہیں،وہ اس بچے کو ان سے دور لے جا سکتے ہیں وہ اسکی تربیت نارویجن انداز سے کرنے کے لیے کسی نارویجن جوڑے کو لے پالک بنا کر دے سکتے ہیں۔اور وہ نہ صرف ایسا کرتے ہیں بلکہ کر رہے ہیں۔اس لیے ناروے میں بسنے والے ایسے تارکین وطن افراد کے لیے بارنے ورن کسی بھوت سے کم نہیں جو اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین ہیں۔یہ وہ عمومی تاثرات ہیں جو کہ ناروے میں بسنے والے تارکین وطن والدین کے بارنے ورن کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔
اب حقیقت کیا ہے دراصل ناروے میں پیدا ہونے والا ہر بچہ حکومت کی ملکیت ہوتا ہے۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔۔۔جی ہاں بچہ آپکاملکیت حکومت کی۔ گود آپ کی لاڈ حکومت کے،تربیت آپ کی فکر حکومت کو۔۔۔آپ دیکھیں ناروے میں مساوات کا عالم۔بچہ کسی بھی رنگ و نسل کا ہو۔نارویجن نیشنلٹی کے بعد اسے تمام بنیادی سہولتیں حاصل ہو جاتی ہیں جو کہ ایک نارویجن شہری کا حق ہے۔ آپ کے بچے کو دنیا میں لانے کے اخراجات سے لے کر اسکی پڑھائی لکھائی،اسکے اسکول نرسری کے اخراجات،اس کی دوا کا خرچہ اس کے رہنے سہنے کا انتظام اسکی کتابوں کپڑوں سیر و تفریح کے تمام اخراجات نارویجن حکومت کی ذمہ داری ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ نارویجن حکومت ایک ماں کو بچہ پیدا کرنے کی خوشی میں چالیس ہزار کراؤن سکہ رائج الوقت بمعہ یک سال کی چھٹی کے دیتی ہے۔اگر خدا نخواستہ بچہ کسی قسم کی جسمانی کمی کا شکار پیدا ہوا ہے تو پھر دیکھ بھال کے لیے علیحدہ انتظام ہے اس میں امدادی اشیاء کے ساتھ ساتھ ایک دیکھ بھال کے لیے آیا بھی مہیاء کی جاتی ہے۔اگر اس قدر ناز نخرے اٹھانے کے بعد بھی کوئی حکومت کو ظالم کہے سرکاری ادارے بارنے ورن پہ الزام دھرے اس کے قوانین کو نہ سمجھے تو پھر تو یہ کفران نعمت نہیں تو اور کیا ہے۔کیا کوئی اسلامی ملک اپنے شہریوں کو یہ سہولت دیتا ہے؟
بارنے ورن ایک ایسا نارویجن سرکاری ادارہ ہے جو کہ ان بچوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال کے لیے تشکیل دیا گیا ہے جن کے والدین کسی بھی وجہ سے انکی تربیت مناسب انداز اور درست طریقے سے کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔اگر اس بچے کی جان یا جسمانی و نفسیاتی صحت کو کوئی خطرہ لاحق ہے والدین اسکے کھانے پینے اور لباس کا خیال نہیں رکھ رہے اس کی کتا بوں اور لباس کھانے پینے کا خیال نہیں رکھ رہے تو پھر بارنے ورن کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس بچے کا والدین کی طرح خیال رکھے۔وہ اسکی تربیت کرے وہ اسے محفوظ ہاتھوں میں دے۔چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔ناروے میں پیدا ہونے والے بچوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ان کے لیے ایک علیحدہ وزارت ہ ہے جس کے تحت بارنے ورن اور دوسرے کئی فلاحی منصوبے کام کرتے ہیں۔عمران خان ایسے ہی تو ناروے سے متاثر نہیں ہیں۔۔
جب کوئی تارکین وطن کو بچہ پیدا ہوتا ہے ادھر حکومت انکو بچہ پیدا کرنے کی رقم اور سہولتیں دیتی ہے ادھر بارنے وارن والے ان کے بچے پہ نظر رکھ لیتے ہیں۔جہاں بچے سے ناروا سلوک کا شک پڑا،ڈاکٹر،ٹیچر یا کسی پڑوس نے والدین کی بد سلوکی یا مارپیٹ کی شکائیت لگائی ادھر بچہ اٹھا لیا۔بارنے ورن والے بچے کی جان و صحت کو خطرے کی صورت میں اسے گھر سے یا اسکول سے اپنے عملے اور پولیس کے ساتھ اٹھا کے لے جا سکتے ہیں۔
جن والدین کا بچہ لیا جاتا ہے پھر وہ عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں میٹنگز کرتے ہیں۔بچہ واپس لینے کی کوشش کرتے ہیں۔بہت کم کیسز میں بچہ واپس ملتا ہے۔ورنہ اٹھارہ سال کی عمر کے بعد اس وقت ملتا ہے جب وہ ایک مکمل نارویجن بچہ بن چکا ہوتا ہے کیونکہ بارنے ورن والے بچے کو صرف ایک اچھا نارویجن شہری بناتے ہیں ایک مسلمان پاکستانی سومالین یا انڈین بنانا انکی ذمہ داری نہیں ہے۔عام طور سے یہ ادارہ ان بچوں کو لیتا ہے جن کے والدین یا تو حیات نہیں ہوتے یا پھر نشہ یا کسی بھی بیماری یا آپس کی ناچاقی کی وجہ سے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔اگر کوئی بچہ اسکول یا نرسری میں بہت ذیادہ لڑائی جھگڑا کرے یا بہت اداس ہو یا پھر نا مناسب لباس یا کم خوراکی کا شکار ہو پھر اس بچے کو بارنے ورن سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ادارہ ایک بچے کی نگہداشت اور دیکھ بھال پر سالانہ ایک اعشاریہ دو ملین کراؤن کے لگ بھگ خرچ کرتا ہے۔اسکی تفصیلات پھر کبھی بیان ہوں گی۔
اس نا پسندیدہ ادارے کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں پچھلے دنوں ایک دس سالہ صومالین بچہ موٹر وے پر کار چلا رہا تھا۔اسکی کار ایک ٹرک سے ٹکراتے ہوئے بال بال بچی۔ وہ بچہ پوری سڑک پہ وہ گاڑی لہراتا خوف و ہراس پھیلاتا جا رہا تھا۔پولیس نے موقع پر جا کر کار کو تحویل میں لے لیا اور بچے کو بارنے ورن کی تحویل میں دے دیا۔اس بچے کے والدین کا کیا حال ہوا ہو گا یہ تو پتہ نہیں مگر آپ ہی بتائیں کہ کیا ایسے بچے کے والدین اسکی تربیت کے مستحق ہیں جو کہ پوری ٹریفک کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا تھا۔اور کیا لوگ اب بھی بارنے ورن کے ادارے کو ظالم کہیں گے کیا خیال ہے آپکا؟

Check Also

جرم اور مجرم، حیثیت سے بنتے ہیں!

(شیخ خالد زاہد) حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ کفر کا نظام توقائم رہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: