Home / کالم / علامہ طاہر القادری اور سعودی عرب

علامہ طاہر القادری اور سعودی عرب

باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
یہ حج کا زمانہ تھا پاکستان سے علامہ طاہر القادری سعودی عرب میں حج کے لئے آئے ہوئے تھے۔غالبا موے کی دہائی کے آ خری سال یا سن دو ہزار ک کا سال تھا۔حلقہ ء یاران وطن سعودی عرب جو ہماری تنظیم تھی جس میں مختلف الخیال پاکستانی شامل تھے جن کا ایجینڈہ صرف پاکستان اور لسانیت پرست تنظیم کی چیرہ دستیون کا سد باب تھا۔نوے کی دہائی میں الطاف کی دہشت صرف کراچی میں ہی نہیں جدہ الریاض اور باہر کے ملکوں میں بھی یہ ماجھو بد معاش سے کم نہ تھا۔الطاف حسین کچھ عرصہ جدہ میں بھی رہا اس وقت تو لوگ کراچی واردات کرتے جدہ آتے اور یہاں سے انہیں قونصلیٹ میں بیٹھے لسانیت پرست دوسرے ملکوں میں بھجوانے کا گھنائنا کام کرتے تھے۔اس قونصیلٹ سے افغانیوں کو پاسپورٹ بھی خطیر رقوم کے عوض ملتے تھے۔کیا بتاؤں چند برس ایک ہزارے وال کے کام سے قونصلیٹ گیا تو صاحب کو بہت برا لگا کہ میں سفارش بن کر کیوں گیا ہوں مجھے انکار کر دیا تیستے دن اس بندے نے کہا جناب تین ہزار ریال دئے ہیں کام ہو گیا ہے۔اچھے لوگوں کی کمی نہیں تھی لیکن جس طرح پاکستان میں نظام بگڑا ہوا تھا اسی طرح وہاں بھی ۔کوئی شک نہیں اچھے افسران بھی تھے جن میں بڑا نام تحسیم الحق حقی کا ہے ان لوگوں نے پاکستانیوں کی دل و جاں سے خدمت کی۔شوکت عباسی کی خدمات کو سلام۔ خوف اور دہشت کی اس فضاء میں نے اپنے عظیم دوستوں کے ساتھ مل کر یہ مشکل پتھر اٹھایا اور اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر یہ تنظیم بنائی جس نے پاکستانیت کی خوشبو پھیلائی۔علامہ طاہر القادری ان دنوں عوامی تحریک کے سر براہ تھے پیپلز پارٹی سے ان کا اتحاد ہو چکا تھا شیر بہادر جو سابق ضلع ناظم ایبٹ آباد بھی رہ چکے ہیں یہ بھی حلقہ ء یاران وطن کے سر گرم رکن تھے اور ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر بھی تھے سعودی عرب پیپلز پارٹی کے صدر ہونے کے ناطے ان کے رابطے بے نظیر سے مستحکم تھے بی بی کی یہ عادت تھی کہ وہ جہاں بھی جاتیں اپنے لوگوں کو ساتھ رکھتیں جس سے کارکنوں کا حوصلہ بلند رہتا۔پروفیسر طاہر القادری کے استقبال کے لئے ہم بھی ایئر پورٹ پہنچے منہاج القران کی تنظیم کے لوگ بھی تھے ہمارا مقصد یہ تھا کہ شیر بہادر کی عزت افزائی ہو اور ہم ڈاکٹر قادری صاحب کو حلقہ ء یاران وطن کے پلیٹ فارم سے عزت دیں۔جدہ کے ایئر پورٹ پر منہاج کے ساتھیوں کے علاوہ ہم بھی موجود تھے ہم دونوں نے انہیں دعوت دی کہ وہ ہماری تقریب میں آئیں دعوت ہی کچھ اس انداز سے دی تھی کہ وہ منہاج القران والوں کو کہنے پر مجبور ہوئے انجینئر افتخار اور شیر بہادر سے رابطے میں رہیں۔سعودی جرمن ہسپتال ہماری تقریبات کا گڑھ ہوا کرتا تھا اس ہسپتال کو مفت میں لوگ مل جاتے تھے فنکشن کے دوران ان کے ڈاکٹر اپنے ہسپتال کی مشہوری کرتے جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہ تھا ہم نے احمد فراز جیسی شخصیات کی تقریبات بھی وہیں کیں اردو میگزین کے دوستوں کی پزیرائی بھی وہیں ہوئی۔یہ یادگار تقریبات سعودی عرب کمیونٹی کی یادگار تقریبات تھیں۔سب کچھ بندوبست میرا تھا پیارے بھائیوں رو ء ف طاہر خالد منہاس حامد ولید کے لئے وہ محفل سجی جس میں پاکستان سے آئے کشمیری رہنما لطیف اکبر بھی شریک ہوئے۔مہمان خصوصی مختار الفال تھے۔اس خوبصورت تقریب کی صدارت چودھری شہباز حسین نے کی ملک محی الدین ملک سرفراز بھی میزبان خاص تھے۔اور بہت سے جلسے کئے۔غرض شاندار تقریبات کا انعقاد کیا شہر میں فردوس ہوٹل کے بعد سعودی جرمن ہسپتال ہمارا گڑھ بن گیا۔مشہور گلو کار فدا حسین کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد ہوا۔نور جرال نے ڈھولکی کی عظمت پر سیر حاصل گفتگو کی اور اسے حضرت امیر خسرو کا تحفہ قرار دیا۔کیا دن تھے ہم چونکہ اسلام دو قومی نظرئے کی بات کرتے تھے میں نے نور سے کہا یار شہر میں بے عزتی ہو جائے گی کہنے لگے چھاپ تلک چھین لی موہرے نینا ملائی کے۔یہ حضرت امیر خسرو کا کلام ہے اسی سے شروع کریں گے اور خاتمہ ترانے سے ہو گا۔تمہارا مسئلہ بھی حل ہو گا۔ہم اس دوران چنی دا اوپالا سوہنا بلیاں اچ لئے کے سنتے رہے۔اللہ جی معاف کریو
ہم نے امت مسلمہ اور ان کے مسائل کے حل کے نام سے تقریب کا اعلان کیا اس زمانے کا نامور اخبار اردو نیوز جو جدہ سے نکلتا تھا اس میں ایک چھوٹی سی خبر دے دی کہ کل علامہ طاہر القادری متذکرہ موضوع پر اظہار خیال کریں گے۔نور جرال کو اللہ خوش رکھے اس نے ایک بینر بنایا اور ہم وقت مقررہ سے ایک گھنٹہ پہلے پہنچے اور بینر لگا دیا ہال میں ٹانویں ٹاویں لوگ بیٹھے تھے جن میں کواتین کی تعداد زیادہ تھی۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا بسیں آنا شروع ہو گئیں ناروے اور دیگر ممالک سے آئے ہوئے حجاج جوق در جوق آنا شروع ہوئے۔ہمیں یہ ڈر تھا کہ علامہ صاحب سعودی عرب کی نا پسندیدہ شخصیات میں شامل ہیں کچھ ہو جائے گا۔تھوڑی دیر میں ایک ٹیم علامہ صاحب کی جانب سے آئی انہوں نے صوفے الٹ پلٹ کئے ہمیں بتایا گیا کہ یہ علامہ صاحب کی سیکورٹی کا عملہ ہے اس سے بھرپور تعاون کیا جائے۔ہم تو گئے ہی تعوان کرنے تھے۔نور جرال جہاں شاعر اچھے تھے وہاں وہ علامہ کے معتمد خاص بھی تھے نعت خوانی میں کمال کا مقام پایا ہے اب بی سیرت کی محفل میں نعت پڑھنے امریکہ سے آتے ہیں۔ہم مہمانوں کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ یہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں کہاں سے آ گئے ہیں۔ابھی تقریب شروع نہیں ہوئی تھی کہ ہسپتال کے عملے کے ایک صاحب جن کے ساتھ دو چار لوگ بھی تھے انہوں نے آ کر کہا ہال کو دس منٹ کے اندر خلای کر دیا جائے ورنہ نتائیج کی ذمہ داری آپ پر ہو گی۔ہماری مجال ہی کیا تھی کہ ہم چسکتے
میں نے وہ مائیک سنبھالا جس پر مجھے کوئی دو گھنٹے کمپیرنگ کرنا تھی۔میں نے اعلان کیا خواتین و حضرات انتہائی اہم اعلان یہ ہے کہ آپ فوری طور پر ہال خالی کر دیں۔معزز خواتین و ھضرات ہم یہاں کے قوانین پر دل و جان سے عمل کرنے والے لوگ ہیں از راہ کرم ہال خالی کر دیں خواتین و حضرات ہال بڑے ادب اور بڑے ہی احترام سے خالی کر دیں ۔ہم نے گگھیا کر اعلان کیا۔ہمیں یہ علم تھا کہ اب ہماری شامت آنے والی ہے ہماری خیر نہیں اس لئے کہ ہم نے علماء کے اس طبقے کو چھیڑ دیا ہے جو علامہ طاہر القادری علامہ شاہ احمد نورانی کی شکل دیکھنا نہیں گوارا کرتا۔
ہم نعت کی محفیلیں بھی چھپ چھپ کر کیا کرتے تھے۔کسی بھی نعتیہ مشاعرے کو حمدیہ مشاعرے کا نام دیا کرتے تھے بعض فلیٹوں میں کہا جاتا کہ جوتیاں بغل میں رکھ کر بیٹھیں تا کہ باہر متووں کا چھاپہ نہ پڑ جائے۔مدینہ منورہ میں تو نعتیہ مشاعرے یا عید میلاد النبی کی تقریبات جو سعودی کراتے ان کے شرکاء کو گرفتار بھی کر لیا جاتا مگر لوگ تھے جو یہ کام کر گزرتے تھے۔نور جرال نے کہا چودھری صاحب بینر اتار کر لپیٹ لو۔میں نے ٹیپوں سے جڑے بینر کو اکھاڑا لپیٹا اور سینے کے اندر چھپا کر گاڑی میں آن بیٹھا۔پارکنگ میں کھڑی میری شیورلیٹ کاپریس کو تیزی سے نکالا اور جانب منزل ہو گیا شیر بہادر نے ہال بک کرایا تھا اگلے روز ہم سے پوچھا گیا ہم نے کہا جناب ہم نے ایک سیاسی اتحاد کے سربراہ کو بلایا تھا۔کسی کو کیا معلوم دیوانوں پر کیا گزری بعد میں دمام میں ایک بڑی محفل نعت ہوئی جس کے جرمانے میں چودھری ظفر آف چونترہ جس کا لاکھوں کا کاروبار تھا اسے رگڑے میں لے لیا گیا۔یہ فرد جرم ہماری فائل کا منہ بھرتی رہی اور ہم ایک دن ظفر چونترہ کی طرح جہاز میں بٹھا دئے گئے۔آج خبر پڑھی کہ علامہ طاہر القادری سے سعودی حکومت کے تعلقات بہتر ہو گئے ہیں۔امام حرم پروفیسر ساجد میر سے بڑی سفارشوں منتوں سماجتوں سے ملے ہیں یہ وہ لوگ تھے جو دعوت الارشاد نے نام پر کروڑوں وصول کرتے رہے ایک مکتبہ ہے جو دنیا بھر میں قران حدیث اور دیگر اسلامی کتب کا کام کرتا ہے اس کے روح رواں نے مساجد میں لکڑی کی رحلیں سپلائی کرنے کا کروڑوں کا ٹھیکہ لیا اور خرد برد کر لی اور جیل چلے گئے کہتے ہیں ایک پروفیسر نے نواز شریف کی سفارش کرائی اور اس کے بدلے لاہور کے مال روڈ پر کوٹھی لے لی۔
حضور چھوڑئے مردہ دفنانے والے اس کے دفن میں ہیر پھیر کرتا ہے کسی کے مردے کو نکال کر پیسے لے کر کسی اور کے مردے کو دفن کر دیتا ہے اسلام کے نام پر جو کچھ دنیا میں کیا گیا اس کی اپنی کہانیاں ہیں۔
سعودی عرب تو اس وقت ہی بدلتا نظر آ گیا تھا جب پچھلی بار میلاد پر درود و صلوۃ پڑھا گیا۔
علامہ طاہر القادری او آئی سی کی میٹینگ میں جاتے ہیں وہاں خطاب کرتے ہیں ۔علامہ کو میرے والا واقعہ اچھی طرح یاد ہے ۔جناب ضیاء شاہد کی والدہ کا جنازہ تھا مجھے کسی نے ان کی صف سے دھکا دے کر سیکورٹی کے نام پر پیچھے کر دیا میں نے اونچی آواز میں کہا سعودیہ میں بھی قادری صاحب نے دھکے دلوائے اور یہاں جناب ضیاء شاہد
کی والدہ کے جنازے میں بھی ۔انہوں نے بڑھ کر سینے سے لگایا اور
اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا۔
میں اس ملک خداداد سعودی عرب کو بڑے مثبت انداز میں بدلتا دیکھ رہا ہوں ایک وقت تھا یہ ۱۹۷۷ کی بات ہے نماز کے وقفے کے دوران دو سکھوں کو مسجد میں دیکھا میں نے کہا سردار جی تسی کتھے جواب دیا آپاں نوں مولوی سمجھ کے مسیتے دھک دتا گیا اے۔
مجھے ایک بار دفتر سے لے گئے میں ورکشاپ میں نماز پڑھا رہا تھا حلف لیا گیا کہ مسجد میں نماز پڑھوں گا۔اسی طرح سید سلیم معینی جو پینسٹھ سال کے تھے انہیں بھی دھر لیا۔اللہ کے کرم سے میں تو اس بات کے حق میں ہوں کے بے نمازی کو سخت سے سخت سزا دی جائے مگر ایک خاص مکتب فکر کا اسلام یہ پسندیدہ نہیں۔
میں کسی فقہی بحث میں نہیں جانا چاہتا لیکن مجھے علامہ طاہر القادری کے بارے میں بدلتے روئے نے متآثر کیا تو لکھ ڈالا۔ویسے ملک
عبدالعزیز کے خاندان نے جو خدمت حرمین کی ہے اس کا جواب نہیں میں نے اپنی آنکھوں کو خادم حرمین فہد بن عبدالعزیز کو توسیع مسجد نبوی کی بنیاد رکھتے دیکھا اور پھر جو دلچسپی دیکھی وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔آج اللہ کے فضل و کرم سے یہ دنیا کے عجوبوں میں شمار ہوتی ہے۔اس کی پہلی چھتری جو مسجد کے اندر ہے ایک جرمن انجینئر نے لگائی تھی اس میں برادر سجاد سواتی نے کام کیا وہ مجھے اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا کرتے تھے۔اس مسجد کی توسیع میں کس کس پاکستانی نے کام کیا اور کیا کیا واقعات پیش آئے کبھی لکھوں گا ابھی اس تبدیلی پر چند لفظ لکھے ہیں

Check Also

جشن نزول قرآن۔

  عارف محمود کسانہ تصور کریں کہ آپ کسی سنسان علاقہ میں اندھیری رات میں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: