Breaking News
Home / کالم / ’ٹی وی دیکھنا بند کردیں یہ آپ کے ذہنوں کو پراگندہ کررہا ہے ‘

’ٹی وی دیکھنا بند کردیں یہ آپ کے ذہنوں کو پراگندہ کررہا ہے ‘

 

Nehal Sagheer


اپنی ذات میں تبدیلی لائے بغیر حالات نہیں بدل سکتے ،کمیونٹی ٹاکنگ پلیٹ فارم کے تحت ’پارلیمانی الیکشن اور اس کے بعد ‘ میں معروف صحافیوں کا مشورہ

ممبئی : الیکشن ۲۰۱۹ پر مسلمانوں میں خدشات کا ایک دائرہ بن گیا ہے جس میں مسلمان گھِر کر رہ گئے ہیں اس سے نکلنے کیلئے دانشور طبقہ کوشش کررہا ہے ۔اسی کوشش کا ایک حصہ ہے کمیونٹی ٹاکنگ پلیٹ فارم کے تحت ’الیکشن اور اس کے بعد ‘ پروگرام کا انعقاد ۔ غلام عارف خان اس سے قبل بھی مسلم اور ملک کے مسائل پر اسی پلیٹ فارم کے تحت کئی دانشورانہ پروگرام کا انعقاد کرچکے ہیں ۔ مذکورہ پلیٹ فارم مسلمانوں کے تھنک ٹینک کی شروعات ثابت ہوسکتا ہے ۔ پروگرام میں شامل دو سینئر اور سنجیدہ صحافیوں سدھارت بھاٹیہ اور شاہد لطیف نے آئندہ پارلیمانی انتخاب اور اس کے بعد کے حالات پر سنجیدگی سے گفتگو کی ۔ سدھارت بھاٹیہ نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ سب سے پہلا کام تو یہ کریں کہ ٹی وی دیکھنا بند کردیں یہ آپ کے ذہنوں کو غلط سمت دینے میں مصروف ہے ۔سدھارت بھاٹیہ نے حاضرین کو مشورہ دیا کہ اگر ٹی وی دیکھیں بھی تو ذرا باہر کی دنیا کو دیکھیں اپنے دوست احباب سے ان تجزیہ پر گفتگو کریں جو ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے ۔اس سے ٹی وی یا اخبارات میں پیش کی گئی خبروں اور تجزیوں کی تہہ تک پہنچنے کا موقعہ ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پانچ سالہ دور اقتدار میں جو باتیں صاف طور پر دکھائی دے رہی ہیں ان میں جمہوری اداروں کی تباہی ،آپسی بھائی چارگی کے ماحول میں بے اطمینانی ،چھوٹے اور گھریلو صنعت کی تباہی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص نے کئی ایسے فیصلے لئے جس کے اثرات پر غور نہیں کیا گیا ۔ ان میں سے ہی ایک نوٹ بندی کا بدترین فیصلہ ہے ۔سدھارت بھاٹیہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات ایمرجنسی کے دور سے بھی بدتر ہیں ۔
شاہد لطیف نے کہا کہ حقیقی مسائل پر الیکشن ہونے کی بجائے جذباتی ایشو پر الیکشن ہمارے ستر سالہ جمہوری تاریخ کا حصہ ہے ۔۲۰۱۴ کے الیکشنی نتائج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ دانشوروں کی ناکامی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ستر برسوں سے مسلمانوں نے سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دے کر فاتح بنایا اور یہ سیکولر ماحول بنائے رکھا ۔میرا مشورہ ہے کہ مسلمان آزادانہ طور پر غور کریں اور فیصلہ کریں ۔انہوں نے جیسنڈا آرڈرن کی مثال دے کر مسلمانوں سے کہا کہ ابتک دوسروں کو ووٹ دیا حالات نہیں بدلے اب آپ خود کو ووٹ دے کر تبدیلی لائیں ۔شاہد لطیف یہ دور یکا یک نہیں آگیا ہے ۔ جس تنظیم کے زیر سایہ موجودہ حکومت آئی ہے اور جس سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے اس نے اپنے کام کی شروعات ۱۹۲۵ سے کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوششیں کتنی بار آور ثابت ہوں گی یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اپنی ذات میں تبدیلی لائیں اور ہر شخص خود میں تبدیلی لائے تو وہ معاشرہ وجود میں آئے گا جس کا نظارہ نیوزی لینڈ میں دیکھنے کو ملا اور جہاں وزیر اعظم نے مثالی قدم اٹھاکر پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ۔ شاہد لطیف نے کہا کہ اگر جیسنڈا کی جگہ کوئی اور ہوتی تو اس کا بھی طرز عمل وہی ہوتا جو جیسنڈا آرڈرن کا تھا ۔کیوں کہ وہ معاشرہ دنیا کے شفاف ترین معاشرہ میں سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بہت سے مثبت پہلو سامنے آئے ہیں ہمیں اس پر بھی غورکرنا ہوگا ۔ جیسے ان حالات میں کئی نوجوان لیڈر منظر عام پر آئے جو عام حالات میں نہیں ہوتا جیسے کنہیا کمار ۔ انہوں نے کہا جن باتوں کو ہم سوچتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں اسے یہ لوگ کہہ ڈالتے ہیں ۔ یہ اس خراب ماحول کا مثبت پہلو ہے ۔ اس لئے حالات بدلیں گے اس تعلق سے لوگوں نے سوچنا شروع کردیا ہے ۔پہلے اس پر غور ہی نہیں کیا جاتا تھا ۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ موجودہ الیکشن سے کوئی ضروری نہیں کہ حالات تبدیل ہوں لیکن اس کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ موجودہ حالت میں اگر میڈیا کا رول خراب ہوا ہے تو ان حالات میں دی وائر جیسا متبادل میڈیا کھڑا ہوا اور وہ مین اسٹریم میڈیا کیلئے چیلنج بن کر کھڑا ہوا ہے یہ اچھی علامت ہے۔
پروگرام میں سوال و جواب کا بھی ایک طویل سلسلہ رہا جس میں شرکاء کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے موجودہ حالات اور آئندہ پارلیمانی الیکشن میں شعوری طور سے ووٹنگ کرنے کی اپیل کی گئی ۔ شاہد لطیف نے بھی سدھارت بھاٹیہ کی اس اپیل سے اتفاق کیا کہ ٹی وی دیکھنا بند کردیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ ایسے بے کار پروگرام کیوں دیکھتے ہیں جو خواہ مخواہ آپ کا بلڈ پریشر بڑھاتے ہیں اور پھر وقت کی بربادی بھی ۔پروگرام کے ابتداء میں سدھارت بھاٹیہ نے خلافت ہاؤس کے تعلق سے کہا کہ یہ جگہ صرف مسلمانوں کیلئے ہی تاریخی نہیں بلکہ یہ ممبئی مہاراشٹر اور پورے ملک کے لئے ایک تاریخی جگہ ہے ۔پروگرام کے تعلق سے شاہد لطیف کی رائے تھی کہ کسی پروگرام کی کامیابی یا ناکامی قلت تعداد کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں شرکاء کی شخصیت پر مبنی ہے ۔ بلا شبہ مذکورہ پروگرام اس لئے کامیاب ہے کہ یہاں ہر شخص سوچنے اور غور کرنے والا ہے ۔ سدھارت بھاٹیہ اور شاہد لطیف نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس طرح کے پروگرام جلد جلد ہونی چاہئے تاکہ ہم جو گفتگو کریں یا سنیں اس پر یہاں سے جانے کے بعد بھی اس کا سلسلہ

Check Also

روک سکو تو روک لو

زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر پروفیسر شہزاد بسریٰ‌کی چشم کشائ تحریرفیصل   چار اگست کی رات ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: