Home / کالم / حکیم اجمل خان

حکیم اجمل خان

حکیم اجمل خان
انتخاب عابدہ رحمانی شکاگو
عظیم مجاہد آزادی جنھیں اپنوں نے بھی بھلادیا
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
حکیم اجمل خان کے تذکرہ کے بغیرآزادی ہند کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ وہ اس بات کے حقدار تھے کہ ملک بھر میں کئی شاہراہیں، ان کے نام منسوب کی جاتیں، ان کے نام پر سرکاری اسکیمیں چلتیں اور ان کے یوم پیدائش ووفات کو قومی تہوار کے طور پر مناےا جاتا مگر جس طرح بھارت نے اپنے دوسرے بہت سے محسنوں کو فراموش کیا،حکیم اجمل خان کو بھی بھول گےا اور اب تو دہلی میں ان کی قبر بھی گمنام ہوتی جارہی ہے۔ بھارت رتن جیسے ایوارڈ حکیم صاحب کی شخصیت کے آگے بہت چھوٹے ہیں مگر وہ بھی انہیں نہیں دیا گےا۔ جامعہ میں کئی بار حکیم اجمل خاں کی قربانیوں اورخدمات کے عتراف میں انہیں بھارت رتن دیئے جانے کا مطالبہ کیاگیا ہے مگر کبھی کسی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی۔حالانکہ اگر ایسا کیا جاتا تو ’بھارت رتن ‘ کی قدرقیمت بڑھ جاتی اور نئی نسل بھی حکیم صاحب کے نام اور کام سے واقف ہوجاتی۔
حکیم صاحب کی قبر کہاں ہے؟
جنگ آزادی کے عظیم رہنما حکیم اجمل خان کی قبر کہاں ہے؟ یہ سوال اگر پوچھا جائے تو شاید بہت سے لوگ جواب نہ دے سکیں کیونکہ حکومت ہی نہیں ہم خود بھی اپنے محسنوں کو زیادہ دن یاد نہیں رکھتے۔ بھارت میں مجاہدین آزادی کا احترام نہیں کیا جاتا ۔ یہ الزام لگتا رہا ہے مگر اس کی صداقت کی ایک بڑی دلیل ملک کے نامور مجاہد آزادی حکیم اجمل خان کی قبر ہے۔ ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ نچھاور کردینے والے حکیم صاحب کی قبرویران ہے اور دھیرے دھیرے نیست ونابود ہوتی جارہی ہے۔ کناٹ پلیس سے تھوڑے ہی فاصلے پر دہلی کے پنچ کوئیاں علاقے میں حکیم صاحب کو ان کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا تھا مگر اب یہاں ناجائزقبضہ ہوچکا ہے اور قبر کے آس پاس لوگوں نے رہائش اختیار کرلی ہے۔ اب اس قبر تک آنے والے بھی آسانی سے نہیں پہنچ سکتے کیونکہ یہاں تک آنے کا راستہ بھی گم سا ہوچکا ہے۔ دہلی میں جمنا کنارے جن فریڈم فائٹرس کی سمادھیاں ہیں، وہاں تک پہنچنا آسان ہے اور نیتاﺅں کا آنا جانا رہتا ہے مگر مسیح الملک حکیم اجمل خان کی قبر پرکوئی نیتا نہیں آتا اور ان کے یوم ولادت ویوم وفات پر بھی کسی کو ان کی یاد نہیں آتی ہے۔یہاں تک کانگریس بھی اپنے سابق صدر کو بھلادیا ہے اور ایک ہی خاندان تک محدودہوکر رہ گئی ہے۔ حکیم صاحب نے نہ صرف پرانی دلی کے بلی ماران میںشاندار ہندوستانی دواخانہ قائم کیا تھا بلکہ انھوں نے قرول باغ میں طبیہ کالج بھی قائم کیا تھا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تعمیر کے لئے خطیرہ چندہ بھی دیا تھا۔ ان کے یوم پیدائش پر جامعہ میں انھیں یادکیا جاتا ہے اور تقریب بھی منعقد ہوتی ہے مگران کی قبر کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا جو اپنی شناخت کھوتی جارہی ہے۔
فاتحہ پڑھنے کو آئے قبرآتش پر نہ یار
دوہی دن میںپاسِ الفت اس قدر جاتا رہا
ویران ہوتی قبر
نئی دہلی کے پنچکوئیاں روڈ پر حسن رسول جھگی کمپاو ¿نڈ کے اندر جہاںبہت سے گھر ہیں، وہیں حکیم اجمل خان کا مقبرہ بھی ہے۔بلی ماران میں اجمل خان کی حویلی میں رہنے والے ان کے پوتے مسرور احمد نے بتایا کہ ان کے خاندان کے بیشتر لوگ پاکستان چلے گئے تھے۔ کچھ لوگ بھارت میں رہ گئے تھے۔جب کہ ان کی قبر کے قریب رہ رہے محمد عمران نے کہا کہ پاکستان سے ان کے رشتہ داروں کا یہاں باقاعدگی سے آنا ہوتا ہے اور ان کی قبر پر حاضری دیتے ہیں۔ان کے مطابق حکیم صاحب کی قبر ایک الگ ہی سائز میں ہے اور اس میں ان کے نام والا پتھر بھی نہیں ہے۔ عمران نے کہا کہ ان کا ایک پاکستانی رشتہ داریہاں آیا تھا جس نے آئرن گریلس نصب کی تھیں کیونکہ یہاں ہر جگہ قبریں ہیں۔یہاں قبر کے قریب بھی لوگ رہتے ہیں۔مو ¿رخ رانا صفوی نے قبر کی بری حالت کے لئے اہل خاندان کوبھی ذمہ دار ٹھہرایا جو یہاں ہمیشہ آنا جانا نہیں کرتے۔ رعنا صفوی کے مطابق انہیں یہاں باقاعدگی سے آناجانا چاہئے اور دعائیہ محفلیں کرنا چاہئے۔ دریں اثنا، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی 150 ویں سالگرہ پر ان کے نام پر پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ یونیورسٹی کے پریم چند آرکائیو میں ایک نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے وائس چانسلر طلعت احمد نے سال گزشتہ کہا تھا کہ یونیورسٹی نے اب یونانی طب پر پی ایچ ڈی اور ڈپلوما کورس شروع کیا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ بھی حکیم صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک طریقہ تھا مگر اب خبر آرہی ہے کہ جامعہ، یونانی طب پر پی ایچ ڈی کے پروگرام کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ادھر دہلی اقلیتی کمیشن نے رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ اور سکریٹری دہلی وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ حکیم اجمل خان کی قبر کی حفاظت اور مرمت کی ذمہ داری کس کی ہے اور اس سلسلے میں کیا کیا جارہاہے؟
کون تھے حکیم اجمل خاں؟
حکیم اجمل خان کی پیدائش 11 فروری 1868،کو دہلی میں ہوئی تھی اورموت بھی اسی شہر میں دسمبرکی 29 تاریخ کو 1927میں ہوئی تھی۔ حکیم صاحب کی خاص بات یہ تھی کہ وہ غریب مریضوں سے پیسے نہیں لیتے تھے،ان کا مفت میں علاج کرتے تھے اور امیر مریضوں سے علاج کے لئے بڑی رقمیں لیتے تھے۔ وہ امیروں سے لی ہوئی رقم کو عوامی اور فلاحی کاموں پر خرچ کیا کرتے تھے۔ انھوں نے طب یونانی کے فروغ کے لئے قرول باغ میں طبیہ کالج قائم کیا تھا جو آج بھی موجود ہے اور ہر سال بہت سے طلبہ یہاں سے فراغت حاصل کرکے معالج بنتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں بھی کام کیا تھا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔وہ 1920 سے اپنی موت تک جامعہ کے چانسلر بھی تھے۔ حکیم اجمل خان ایک اچھے معالج کے ساتھ ساتھ ایک سچے قوم پرست سیاستدان اور آزادی ہند کے مجاہد تھے۔ وہ مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھی تھے اور آزادی کی لڑائی کے دوران انھوں نے کئی اہم تحریکوں میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے ملک کی سب سے بڑی ”تحریک عدم تعاون “ میں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیا تھا اور خلافت تحریک کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور 1921 میں احمدآباد میں کانگریس کا اجلاس بھی کرایا۔ اسی کے ساتھ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر بھی بنے تھے۔ وہ واحد شخص تھے جو کانگریس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے صدر رہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی موجودہ چانسلر اور سابق مرکزی وزیرنجمہ ہیپت اللہ کا کہنا ہے کہ ” مجاہد آزادی حکیم اجمل خان کی شخصیت کثیرالجہات تھی۔ حکیم صاحب نہ صرف ایک طبقہ میں مقبول تھے بلکہ ہندومہاسبھا کے پروگراموں کی صدارت بھی کرتے تھے۔اجمل خان قومی یکجہتی اور بھائی چارہ کی ایک اعلی مثال تھے۔“
جامعہ کے بانی اورچانسلر
جامعہ ملیہ اسلامیہ، ہمیشہ ایک قوم پرست ادارہ رہا ہے، جسے انگریزوں کی شدت سے مخالفت کرنے والے مسلم رہنماو ¿ں نے مسلمانوں کی تعلیم کی غرض سے قائم کیا تھا اور ان میں سب سے نمایاں نام حکیم اجمل خان کا تھا۔ جامعہ ہمیشہ حب الوطنی، رواداری اور قومی یکجہتی کا مرکز رہا ہے کیونکہ اس کی رگوں میں حکیم اجمل خان جیسے محب وطن کا خون شامل ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہ ادارہ ان نقلی دیش بھکتوں کی نظر میں کھٹکتا رہا ہے جوبھارت کی تہذیبی تکثیریت میں یقین نہیں رکھتے۔ حالانکہ اس کے بانیوں میں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین، سابق کانگریس صدر ڈاکٹر مختار انصاری اور معروف عالم دین مولانا محمودالحسن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ، انگریزوں کے شدید مخالف تھے لہٰذا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے الگ ہوکر جامعہ کے قیام کے لئے کوششیں شروع کی تھیں۔ان مسلم قائدین کو مہاتما گاندھی کی سرپرستی حاصل تھی۔ گاندھی جی ،جامعہ تشریف لاتے رہتے تھے اور پروفیسر محمد مجیب کے ایک مضمون کے مطابق وہ کہا کرتے تھے کہ ”جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک مسلم اور قومی درس گاہ ہے، اسے سیاسی اختلافات کی فضا میں اپنے تہذیبی کردار کو باقی رکھتے ہوئے اپنی راہ چلنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ ایک موقع پر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے کسی قریبی ساتھی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے” اسلامیہ“ نکالنے کی تجویز رکھی ہے تو انھوں نے کہاکہ اگر ”اسلامیہ“ کا لفظ نکال دیا گیا تو انہیں اس ادارے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔“بہرحال جامعہ کی موجودہ شکل وصورت جن لوگوں کے سبب ہے،ان میں سب سے نمایاں نام حکیم اجمل خان کا ہے اور ملک کی آزادی میں ان کا لہو بھی شامل ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اپنے اس عظیم محسن کو بھولتے جارہے ہیں۔
ہمارا خوں بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں
ہمیں بھی ےادکرلینا چمن میں جب بہار آئے

Check Also

سہل پسندی ترک کرنی پڑے گی!

(شیخ خالد زاہد) آج جدید یت کے اس دور میں بھی دنیا محنت کشوں کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: