Home / حالات حاضرہ / خبریں / فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو
میں اسے محسوس کرسکتا تھا چھو سکتا نہ تھا
رات بھر پچھلی سی آہٹ کان میں آتی رہی
جھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا
میں تیری صورت لئے سارے زمانے میں پھرا
ساری دنیا میں مگر کوئی تیرے جیسا نہ تھا
آج ملنے کی خوشی میں صرف میں جاگا نہیں
تیری آنکھوں سے بھی لگتا ہے کہ تو سویا نہ تھا
یہ سبھی ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھی
آنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہردھندلایا نہ تھا
سیکڑوں طوفان لفظوں میں دبے تھےزیرِلب
ایک پتھر تھا خموشی کا کہ جو ہٹتا نہ تھا
یاد کر کے اور بھی تکلیف ہوتی تھی عدیمؔ
بھول جانے کے سوا اب کوئی بھی چارا نہ تھا
مصلحت نے اجنبی ہم کو بنایا تھا عدیمؔ
ورنہ کب اک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا
(عدیمؔ ہاشمی)

Check Also

آدمی نے زندگی کا پہلا گھر خرید لیا، لیکن موقع پر پہنچا تو وہ صرف 30 سینٹی میٹر زمین کا ٹکڑا نکلا

امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک شخص نے زندگی کا پہلا گھر خریدا اور جب وہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: