Home / کالم / دکھی تو ہم بھی ہیں

دکھی تو ہم بھی ہیں

دکھی تو ہم بھی ہیں
باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
کمرے میں مٹھائیوں کے ڈبے ،تازہ پھولوں کے ہار جو مرجھانے کی جانب تیزی سے بڑھ رہے تھے۔جہیز میں آئے ہوئے خوبصورت سے پیکٹ جو دلدار کے سسرال سے تحفے میں آئے تھے پندرہ بیس بچے ہوئے مہمانوں کا شور اور بے ترتیبیوں سے مرصع میرا گھر میرے سامنے تھا بہو چیختی چلاتی کمرے میں وارد ہوئی کہا ماموں جان بڑے ابو اس دنیا میں نہیں رہے۔وہ بچوں کے بڑے ابو تھے۔میرے بھائی چودھری امتیاز کی موت کی خبر میرے کانوں کو چیر گئی ہم سب ہی اس منحوس خبر کے منتظر تھے بھائی ہیپاٹائٹس سی کی آخری سٹیج پر تھے۔وہ اس علاج سے پہلے کچھ بہتر تھے ایک ڈاکٹر سے علاج کروا رہے تھے اس نے انہیں مشورہ دیا کہ کہ وہ ٹھیک ہو سکتے ہیں مگر اس کا خرہچہ زیادہ ہے ۔بچوں نے کہا ڈاکٹر صاحب اس کی پروا نہ کریں ۔بتائیں کتنا خرچہ ہے۔کوئی اڑھائی لاکھ بتایا گیا۔اس موت کے ٹیکے کی یہ قیمت کچھ زیادہ نہ تھی واجد نے بندوبست کر کے کیش اس قصاب کے حوالے کیا ۔ڈاکٹر نے جلدی کرنے کو کہا تھا جلدی یہ رقم اسے دے دی گئی۔بعد میں پتہ چلا ایک دو اور مریضوں کو یہ ٹیکے لگائے گئے اسی رات وہ ظالم گجرانوالہ سے براستہ لاہور دبئی چلا گیا اس کے ساتھ اس کی فیملی تھی ۔اس رقم سے اس نے دبئی کے شاپنگ سینٹروں سے شاپنگ کی ہو گی۔تین لاشوں کا بندوبست کرنے پر ہی انہیں فلائیٹ ملی۔ہمارے ہاں رضائے ربی نے قاتلوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔میرے والد صاحب کٹر مسلم لیگی تھے دستگیر خان کے ساتھیوں میں سے تھے وہ بیمار ہوئے تو کہا علاج اتفاق ہسپتال سے کراؤں گا ۹۰ کی دہائی میں ہنستے کھیلتے گاؤں سے سب کو مل کر لاہور اتفاق ہسپتال میں آپریشن کرانے پہنچ گئے میں بھی اکتوبر ۴،۱۹۹۰ کی ایک صبح کو اپنے والد کے پاس پہنچ گیا جدہ میٹسوبیشی العیسائی کمپنی جو مجھے جرمنی بھیج رہی تھی اسی ایگزٹ ری اینٹری ویزے پر پاکستان آ گیا۔والد صاحب کو تھائیراڈز ایشو تھا سب نے آپریشن سے منع کیا لیکن اتفاق ہسپتال جو نواز شریف لوگوں کا ہے ابا جی کو مشورہ دیا گیا کہ آپریشن کرا لیں۔ستم ظریفی دیکھئے جس دن آپریشن تھا کنسلٹنٹ سرجن نہیں آیا اس کے اسسٹنٹس نے گلہ کاٹ دیا خون نہ رکا اور ابا جان اس دنیا سے چلے گئے۔کل ایک ٹاک شو میں تھا نواز شریف کی بیماری پر بھائی لوگ بڑی بڑی ہانک رہے تھے۔میں تپ گیا اور کہا میرا باپ اتفاق ہسپتال یں مرا ہے نواز شریف کو کیا خوف ہے وہ بھی اسی ہسپتال میں جائے جہاں انجینئر افتخار چودھری کا ابا علاج کرانے گیا اور اپنی باڈی ایمبولینس پر رکھ دی جو اسے عازم بڑا قبرستان کی گئی،
میرے والد کی طرح ایک لالچی ڈاکٹر نے ایک انجکشن کیا لگایا ان کی حالت روز بروز بگڑ گئی۔ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے۔میرا بھائی امتیاز گجر اپنی فیملی کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھا وہ کوئلے کی طرح جل کے رہ گیا۔موت تو سب کو آنی ہے مگر جس طرح ایک دودھیا رنگت والا کالے کوئلے کی شکل میں بدلا اور جس ترتیب سے کھر کھر کے مرا اس کا دکھ رہے گا۔
سندھ زمینوں میں ہمیں سخت ناکامی ہوئی ایک رات میں نے انہیں گنگناتے سنا
میں نے چاند اور ستاروں کی تمان کی تھی مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا
سخت جدو جہد کی ایف ایس سی کی فوج میں کمیشن لینے گئے نہ ملا تو سگنلز میں بھرتی ہو گئے کسی نے کہا محنت کرو گے تو سپاہی سے لیفٹین بھرتی ہو جاؤ گے۔وہ بھی نصیب میں نہیں تھا۔ناز و نعم میں پلے بھائی کو سندھ میر پور متھیلو فکراٹھو میں ازیت ناک دن گزارنے پڑے جیاں پنکھا تک نہ تھا ہوا جب بند ہوتی تو گھت پٹ کے کھا جاتی ہوا چلتی تو ڈر یہ ہوتا کہ کوئی مال ڈنگر نہ کھول لے جائے۔میں نے یہ دن دیکھے تھے لیکن گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران اور وہ بھی چند دن۔
میرے اللہ نے بڑے سختیاں دکھائیں بھائی جان چونکہ فرنٹ پر تھے انہوں نے زیادہ جھیلیں۔فوج کی نوکری حاصل کرنا مشکل ہے اسے چھوڑنا اور مشکل بڑی مشکل سے بریگیڈئر صاحبداد کی سفارش سے جان چھٹی جو پی ٹی آئی کے موجودہ سیکرٹری جنرل ارشد داد کے والد تھے۔
امتیاز صاحب مجھ سے اڑھائی سال بڑے تھے شریف النفس لڑائی جھگڑے سے دور۔اوپر تلے کا ہونے کی وجہ سے ان بن رہتی۔جب کبھی نئی کاپی یا پتلون شرٹ کی ضرورت ہوتی اپنی پرانی لئے والد صاحب کے پاس آ جاتے اور تجویز دیتے کہ میری پتلون ہے ناں یہ کاپی موجود ہے نئی لینے کی کیا ضرورت ہے۔جب تک شادی نہیں ہوئی یا کالج تک نہ پہنچے میں نے درزی کو کبھی ماپ نہیں دیا اس لئے کہ میرے لئے ان کی اترن موجود ہوتی تھی۔
ہم لوگ نلہ ہری پور سے بچپن میں ہی باغبانپورہ گجرانوالہ آ گئے تھے۔پرائمری میں یہیں داخل ہوا۔ہمارے اسکول کا نام ایم سی پرائمری اسکول نمبر ۵ تھا۔والد صاحب یہیں بی ڈی ممبر بنے اور اسی محلے میں چودھراہٹ کی۔شہر کے نامی گرامی لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔دلیر اتنے کہ بڑے سے بڑے سے ٹکرانا معمولی بات تھی لیکن بڑے باوقار انداز سے زندگی گزاری۔ابا جی جنہیں ہم چا چا جی کہتے ان کا اس بات پرزور تھا کہ میرے بچے پڑھیں اور پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنیں ۔میں بڑا آدمی تو نہ بن سکا لیکن بوڑھا آدمی بن گیا ہوں۔بھائی جان فوج سے نکلے ٹھیکے داری کی اور چند سالوں میں مرسیڈیز بنز کے سوار ہو گئے۔۱۹۷۷ میں سعودی عرب گیا تو پہلا کام یہ کیا کہ بھائی جان کو شادی کے بعد سعودی عرب بلوا لیا۔انہوں نے بڑے مدبرانہ انداز سے وقت گزارا یوسف الخریجی کمپنی کے پراجیکٹس میں سپوائزر بھرتی ہوئے۔حفر الکشب نامی جگہ جو طائف سے ریاض جاتے ہوئے رضوان کے پاس ہے وہاں کیمپ انچارج رہے۔دو ایک بار میں بھی گیا۔حفر الکشب ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں ایک بہت ہی بڑا گھڑا تھا جس کے بارے میں مقامی لوگ کہتے تھے کہ یہاں سے ملکہ پہاڑ اپنے عاشق کی تلاش میں روٹھ کر چلی گئی ہے جس کی وجہ سے بہت بڑا خلاء یا کھڈا بن گیا ہے۔اس بات میں کوئی حقیقیت نہ تھی البتی اس بہت بڑے تالاب جیسے کھڈے کے کھجوروں کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر احساس ہوا کہ عرب کے صحراء کی جھلستی دھوپ میں اس گڑھے کی کھجوریں یقیناًکسی خاتون کی طرح ہی مہربان تھیں۔
بھائی بڑے سلیقے سے رہنے والے بھائی تھے خوبصورت لباس پہننا ان پر ختم تھا۔یقیناًپہاڑ کی محبوبائیں جب یہ ماہیا گاتیں میرے ماہئے دا کالا کوٹ گلی وچوں لنھ ویندا ایں سڑ ویندا اے سارا لوگ حسین بخش نے بھی یہی گایا۔کہتے تھے ایک بار فوج میں ماہئے گانے کا مقابلہ ہو گیا تو میں نے جب اپنی آواز میں گایا کوئیو پانی کھارے دا ضلعے وچوں ضلع سوہنا پہلا نمبر ہزارے دا
ہزارے سے بڑا پیار تھا کالج کے زمانے میں کسی نہ کسی کو گھر لے آتے ایک بار کسی کا ٹرک خراب ہو گیا ڈرائیور اور کلینر کو لے آئے کہ یہ ہزارے کے ہیں۔اس وقت لوگوں میں میل جول بہت کم تھا
ذوالفقار علی بھٹو دور میں بلوچستان میں پاکستان مخالف تحریک چلی تو اس آپریشن میں کوہلو،بار خان کے علاقے میں رہے کہتے ہیں ایک بار نوجوان سے پوچھا کہ ہر کوئی بتائے کہ کہاں کے رہنے والے ہو۔میں نے باری پر کہا پیدا صقبہ سرحد میں ہوا ہوں ،پلا بڑھا پنجاب میں ہوں اور سندھ میں زمین ہے البتہ نوکری بلوچستان میں ہے یعنی میں متحدہ پاکستان کی علامت ہوں۔
سال کے ۳۶۵ دن گزر ہی گئے ہیں زندہ رہے تو اور بھی زر جائیں گے لیکن پیار محبت کی علامت اب ہم میں نہیں ہے۔پھوپھی زاد بھائی ریاض سے بچپن سے دوستی تھی مرتے دم تک دوست رہے۔بحریہ ٹاؤن والے گھر میں بھائی آ کر ٹھہرتے انہوں نے اس سویٹ کا نام ہی پنجاب ہاؤس کھ دیا تھا۔بچپن میں باوے غلام محمد کی کھوتی لے کر بن سنور کر جبری با زار کے اس واقعے کو ذکر کرتے جب کھوتی نے بیس کلو آٹے کو الٹ دیا ریاض بھائی آ گئے اور وہ اپنے کندھے پر دو میل کا فاصلہ طے کر کے گاؤں نلہ پنچے۔
آواز کمال کی تھی سر لگاتے تو سماں باندھ دیتے ۔میں اپنے گھر بچوں کی خوشیوں کے موقع پر شام ہزارہ کا اہتمام کرتا ہوں طوطی ہزارہ شکیل اعوان رونق بنتے ہیں ان سے مائیک لے کر مکیش کے گیت سنا کر سماں باندھ دیتے۔
آخری دنوں میں فرمائیش کی کہ مجھے جناح کیپ لا دو نوید نے وہ لا کر دی۔گجرانوالہ میں بڑی سر گرم زندگی گزاری والد صاحب بی ڈی ممبر منتحب ہوئے تھے ان کی جگہ سنبھالی محلے کے لوگوں کے ساتھ ساتھ گجر برادری کی فلاح و بہبود میں مگن ہو گئیمیں محمد ڈسپنسری کا اجراء کیا برطانیہ گئے تو چودھری رحمت علی کی قبر پر حاضری دی۔گجروں کے بارے میں بڑی معلومات رکھتے تھے ایک بار جدہ کے قیام کے دوران ان سے مدینہ نورہ سے ملنے آیا میں ان دنوں الحسینی موٹرز میں کام کرتا تھا جن کا ملاکن میں شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی شامل تھے۔ایک روز شام کو ان کے ہاں پہنچا کہنے لگے تمہیں معلوم ہے پریم چوپڑہ گجر ہے۔میں نے کہا بھائی جان یہ کون سی فخر والی بات ہے فلموں میں گندے سین اسی پر فلمائے جاتے ہیں کہنے لگے اچھا اکشے کمار بھی گجر ہے ہے ان کے ساتھی ریحان شاہ نے ایک بار کہا ہاں جی ہاں اندرا گاندھی بھی گجر تھا۔بھائی امتیاز کی خواہش تھی کہ ہو خلق خدا کی مشکلات میں کمی کریں اس کے لئے فلاحی کاموں میں بڑی دلچسپی لیتے۔۲۰۰۰ کے بلدیاتی انتحابات میں حصہ لیا الیکشن جیت چکے تھے مگر ایک پولنگ اسٹیشن پر پولیس سے جھگڑا ہو گیا جس کی وجہ سے صرف پانچ ووٹوں سے رہ گئے اسی الیکشن میں ہم سب پر دہشت گردی کے پرچے ہو گئے میں اور چھوٹے بھائی جو پی آئی اے لندن کے مینیجر تھے ہم دونوں پر کاربین اور کلاشنکوفوں کے پرچے ہو گئے میں بڑی مشکل سے جدہ پہنچا اور اعجاز لندن۔اللہ بھلا کرے خبریں کے جناب ضیاء شاہد کا انہوں نے اخبرات کے بیک پیج پر تھانہ گرجاکھ کے مظالم کی خبرین لگائیں۔بڑی مشکل سے کیس سے نکلے۔
بزلہ سنجی ان پر ختم تھی۔عدالتی نظام کو بڑا سمجھتے تھے اپنے کیس خود لڑتے تھے اس میں کافی حد تک کامیابی بھی پائی۔
گجرانوالہ کے عطا محمد اسلمایہ ہائی اسکول سے میٹرک کیا جو اپنے وقت کا بہترین اسکول تھا ۔ایف ایس سی گورنمنٹ کالج گجرانوالہ سے کہ۔ملازمت کے سلسلہ میں طائف میں رہے۔وہاں مہندس زراعی ایگریکلچر انجینئر کی جگہ کام کیا۔اس سلسلے میں ایک انڈین مسلمان اگریکلچر انجیئر عبدالوہاب سے دوستی کر لی اس کی مدد سے کمانڈو ٹریننگ اسکول کو خوبصورتی بخشی۔فوج کے زمانے کی دوستیاں اب بھی چل رہی ہیں رابطے کے ماسٹر تھے پچھلے سال جب گجرانوالہ گیا تو ان کے بڑے بیٹے واجد نے بتایا ہم تو روئیں گے مگر ساتھ کیبن ولا دوکان داار بھی روئے گا جس سے موبائل کارڈ لیتے تھے۔گاؤں میں رابطہ رکھتے ۔ان کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔تین تو یو کے میں ایک عمان میں پیپسیکو میں جاب کر رہا ہے بڑا گرانوالہ کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم ہے بیٹی لاہور کی ایک بڑی یونیورسٹی میں انٹر نیشنل ریلیشن میں اعلی تعلیم حاصل کر رہی ۔ان کی پہلی برسی کے موقع پر پوری فیملی انہیں مس کرتی ہے اللہ تعالی ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔بڑے قبرستان میں والد صاحب کے قدموں اور والدہ صاحبہ کے ساتھ قبر ہے۔کٹر نون لیگئے تھے خرم دستگیر اور عثمان ابراہیم کو ہمیشہ جلسے کا اہتمام کر کے سپورٹ کرتے ان دونوں کے والد سے ہمارے والد کی دوستیاں تھیں۔بھائی کے مرنے پر زمانہ آیا عمران خان نے تعزیت کی کوئی وزیر دوست نہیں رہا لیکن یہ دونوں حضرات غائب رہے۔یہ لوگ باوجودیکہ سیاسی اختلافات ہمارے مہمان رہے پتہ نہیں کیا مجبوری تھی فیملی تو گلہ کرتی ہے لیکن کوئی بات نہیں۔آج ایک سال ہو گیا ہے لگتا ہے ایک صدی ہو گئی ہے۔اللہ پاک قبر کی منزلیں آسان کرے۔بھابی صاحبہ واجد وقار عاصم ہاشم طلحہ اور غزیہ آج باپ کے بغیر ہیں۔جو ان پر بیت رہی ہے وہ جانتے ہیں لیکن دکھی تو ہم سب بھی ہیں دکھی تو بھائی بہن اور ان کی اولادیں پھوپھی زاد ماموں زاد سب ہیں۔اس سال میں ہمارے ایک اور کزن فیاض بھی مسافر آخرت ہوئے اللہ سب کو جنت بخشے۔اولاد بھائی سے بس یہ کہنا ہے کہ دکھی آپ بھی ہیں اور دکھی ہم بھی ہیں

Check Also

سہل پسندی ترک کرنی پڑے گی!

(شیخ خالد زاہد) آج جدید یت کے اس دور میں بھی دنیا محنت کشوں کی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: