Home / ادب / طنز و مزاح / خوبصورت سا بھرم توڑ گیا تھا کوئی

خوبصورت سا بھرم توڑ گیا تھا کوئی

ڈاکٹر فریادآذر
دور رہتی تھی کہیں چاند پہ بڑھیا کوئی

لوگ دو گز کے مکانوں میں بھی رہتے ہیں جہاں
کوئی دروازہ ، نہ آنگن نہ دریچہ کوئی

وہ فراعین ہیں کہ روحِ زمیں کانپتی ہے
اور اس عہد میں آیا نہیں موسا کوئی

میں بھی روتا ہی رہا نرگسِ بے نور کے ساتھ
دیکھ پایا نہ مجھے دیدہء بینا کوئی

دفن کر دیتے ہیں خوابوں کو یوں ہی آنکھوں میں
شاید آجائے نظر تجھ سا مسیحا کوئی

آج سیرت نہیں، صورت کو نظر ڈھونڈتی ہے
عمر ڈھل جاتی ہے ، آتا نہیں رشتہ کوئی

اب فرشتوں سے ملا قات کہاں ممکن ہے
کاش انساں ہی ز میں پر نظر آتا کوئی

پھر نہ چھا جائے اندھیرا مری آنکھوں میں کہیں
پھر دکھاتا ہے مجھے خواب سنہرا کوئی

عمرِ نو سے ہی مسائل مرے محبوب رہے
میرے خوابوں میں نہ رضیہ ہے نہ رادھا کوئی

جو نئی نسل کو آفات کا حل بتلاتا
کیا بچا ہی نہیں اس شہر میں بوڑھا کوئی

Check Also

چالیس برس بعد ایک دن شاپنگ مال میں ملاقات ہو گئی.

فوزیہ وحید وہ میری کالج کے زمانے کی دوست تھی 40 برس بعد ایک دن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: